وبا کے دنوں میں ایک باپ کی وصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے بیٹے!

”پرانے پاکستان“ کا ایک بوسیدہ شہری، جو اداس نسلوں کے تسلسل کی آخری کڑی ہے، عمر رواں کی بے اعتبار سانسوں کی مالا جپتے جپتے جسے کہولت نے آ لیا ہے۔ کرونا وائرس کی اس عالمگیر وبا کے موقع پر تمہیں وصیت کرتا ہے۔ یاد رکھنا کہ تم اس ملک میں پیدا ہوئے ہو جس ملک میں علیل قائداعظمؒ کی ایمبولینس خراب ہو جایا کرتی ہے اور یہاں آئین بنانے والے سولی چڑھ جایا کرتے ہیں جبکہ مقبول عوامی قیادتیں کبھی جلاوطن، کبھی سکیورٹی رسک، کبھی نا اہل اور کبھی سرراہ قتل کر دی جاتی ہیں۔ کبھی نہ بھولنا کہ یہاں کی جمہوریت میں فاطمہ جناح اور نواب زادہ نصراللہ خان جیسے صدارتی امیدواروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور ”ہار“ ہی ان کا مقدر ہوتی ہے۔

یاد رکھنا کہ اس پاک سرزمین میں حکیم محمد سعید، صلاح الدین یوسف، حسن ناصر، غلام حیدر وائیں، سلمان تاثیر، مشعل خان اور قطب رند جیسے لوگ تاریک راہوں میں مر جایا کرتے ہیں۔ یہاں ساحر لدھیانوی، جوگندر ناتھ منڈل، ڈاکٹر حمیداللہ، قرۃ العین حیدر، استاد بڑے غلام علی خان، جگن ناتھ آزاد، ڈاکٹر عبدالسلام اور عاطف میاں جیسے لوگ ملک چھوڑ جایا کرتے ہیں۔ جی ایم سید اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے لوگوں کو نظر بند رکھا جاتا ہے۔

اے میرے نور نظر! یہاں قابل اور اہل دل بیوروکریٹ خودکشی کر لیا کرتے ہیں اور دیکھو بڑے ہو کر زندگی میں کبھی بھی بااصول افسر نہ بننا کیونکہ اس مملکت خداداد میں فرض شناس افسروں کو سیاسی مگر مچھوں کے ڈیرے پر حاضر ہو کر معافی نہ مانگنے کے جرم میں کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ ہمیشہ خیال میں رہے کہ یہاں شہر خوباں کی مرصع و مسجع شاہراہ دستور پر سولہ سنگھار کیے جھانجھریں چھنکاتے سبز آئین میں آرٹیکل 19 کی شمولیت کے باوجود دستاویزات کو ”مقدس“ اور اداروں کو ”حساس“ رکھا جاتا ہے اور جس مملکت میں بعض ادارے ”حساس“ ہو جائیں وہاں کے عوام ”بے حس“ ہو جایا کرتے ہیں۔

اس دھرتی پر حیدر بخش جتوئی، رسول بخش پلیجو، جام ساقی جیسے انقلابی محکوم عورتوں سے مفلوک بچوں تک سب کو سیاسی بیداری کے دائرے میں لانے کی کوشش میں حاشیوں پر دھکیلے جاتے ہیں۔ فیض احمد فیض، سید سجاد ظہیر، عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری، ولی خان، حسن ناصر، نذیر عباسی، حمید بلوچ، نواب نوروز خان، باچا خان، اکبر بگٹی جیسے لوگوں کو ”غدار“ سمجھا جاتا ہے۔

یہاں سید سبط حسن، علی عباس جلالپوری، شوکت صدیقی، سعادت حسن منٹو، ساغر صدیقی، حبیب جالب، شہاب دہلوی، استاد حسین بخش ڈھڈی، جاذب انصاری، پٹھانے خان، ساغر نقوی، ڈاکٹر اختر تاتاری، خاک اوچوی اور جانباز جتوئی جیسے فلسفی، شاعر اور آرٹسٹ کسمپرسی، خستہ حالی اور ”قحط دوا“ کے ہاتھوں خاموشی سے موت کے گھاٹیوں میں اتر جاتے ہیں اور سلمیٰ فیصل، منظور حسین منظر اوچوی، تاج محمد راجپوت، ہمراز سیال اوچوی، موسیٰ سعید اور استاد سخاوت حسین خان جیسے نابغہ روزگار گم نامی کے صحرا میں جیتے جی مر جاتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا۔

جان لو کہ اب سے کئی برس بعد لوح تاریخ پر پاکستان کی عظمت مولانا فضل الرحمن، خادم حسین رضوی اور حافظ سعید احمد سے جلا نہیں پائے گی بلکہ پاکستان استاد عبداللہ خان ملک کی شہنائی، استاد میاں شوکت حسین کے طبلے اور استاد رئیس خان کے ستار سے پہچانا جائے گا۔

میرے پیارے بیٹے! قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ ”پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہوگا“۔ ان کے فرمان پر ہم نے اس طرح عمل کیا کہ نوزائیدہ ریاست کو نظریاتی چولہ پہنا کر اس کو اسلام کی تجربہ گاہ بنا دیا۔ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ یا مقامات مقدسہ کے متبرک ناموں کو ہوٹلوں، دکانوں، سکولوں، مدارس اور مساجد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کی اس تجربہ گاہ کے ہر شہر میں تمہیں بسم اللہ ہوٹل، مدینہ کلاتھ ہاؤس، الجنت رابڑی، غزالی کلینک، ابن سینا پبلک سکول اور فارابی کالج جیسی اسلام کی ”نشانیاں“ ضرور نظر آئیں گی البتہ اسلام کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔

حسن نثار سچ ہی تو کہتا ہے کہ اسلام کا قلعہ دراصل اسلام کا ”قلع قمع“ ہے۔ ہمارے دین کی آفاقی تعلیمات میں صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے لیکن جب تم عملی زندگی میں آؤ گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ریا کاری، منافقت، قبضہ گیری، چمچہ گیری، جھوٹ، نا انصافی، ظلم، لاقانونیت، رشوت، عصبیت، کفر سازی، منشیات، گدی نشینی اور جہالت سے لے کر گندہ پانی، جعلی دودھ، غلیظ خوراک، گدھوں کے گوشت کی ترسیل تک اسلام کی اس انوکھی تجربہ گاہ میں ”ہاتھ کی صفائی“ کو ہی مکمل ایمان کا درجہ حاصل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دنوں میں غلیظ ترین لوگوں کو بھی ”صفائی“ یاد آ گئی ہے اور وہ ہاتھ کی پوری صفائی کو بروئے کار لاتے ہوئے اشیائے خور و نوش، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی میں دن دوگنی رات چوگنی منزلیں سر کر رہے ہیں۔

میرے لخت جگر! دنیا کے اس عظیم سلامی ملک کی 3.6 فیصد آبادی غیر مسلم اور اقلیت ہے لیکن پورے ملک میں 3.6 فیصد آبادی کا کوئی فرد گریڈ 22 کا افسر نہیں۔ یہاں فوج، نیوی، ایئرفورس، پولیس، عدلیہ، پی اے ایس اور فارن سروس کی پہلی قطار میں بھولے سے بھی کوئی غیر مسلم نہیں ملے گا۔ ہمارے ملک کا ہر غیر مسلم انجینئر، ڈاکٹر، آئی ٹی ایکسپرٹ اور سائنس دان ہمارے ہی خوف سے باہر چلا جاتا ہے اور پھر پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔ گزشتہ 70 برس میں یہاں غیر مسلموں کی کوئی نئی عبادت گاہ نہیں بنی۔ قیام پاکستان کے وقت یہاں یہودیوں، ہندوؤں اور سکھوں کی جو عبادت گاہیں رہ گئیں ہم مسلمانوں نے ان پر قبضہ کر کے وہاں شاپنگ مال اور ان کے قبرستانوں پر مکانات بنا دیے۔

یہاں اقلیتی لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنا کر ان سے نکاح کیا جاتا ہے۔ ہماری مسلمانی دیکھو کہ اقلیتوں کو جہازوں کا پائلٹ بنا کر جنگوں میں تو جھونکا جا سکتا ہے۔ ان سے علاج تو کرایا جا سکتا ہے لیکن ملک کے مفاد میں اگر ان کو اکنامک ایڈوائزری کونسل کا ممبر بنا کر ان سے مشورے لئے جائیں تو اس قوم کی حمیت و غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ سو میری بات غور سے سنو، اے میرے پیارے بچے! میں چشم تصور سے اس عظیم اسلامی مملکت کے سبز ہلالی پرچم کا اقلیتوں کے لئے مخصوص سفید حصہ سکڑتے سکڑتے ختم ہوتے یا خاکم بدہن سرخ رنگ میں ڈھلتے دیکھ رہا ہوں۔ عدم برداشت اور مذہبی ٹھیکیداری سے پاکستانی پرچم کا سفید حصہ ایک ایسی کھڑکی میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں سے جلد یا بدیر ہر اقلیتی شہزاد مسیح اور اس کی حاملہ بیوی شمع کو چھلانگ لگانی پڑتی ہے۔

میرے بیٹے! زندگی میں کبھی بھی یہ سوچ کر صحافی مت بننا کہ تمہارا دادا اور تمہارا باپ ایک صحافی تھے جو صحافت کو ”پیغمبرانہ پیشہ“ سمجھتے تھے۔ توجہ سے سنو کہ تمہیں اپنے ہاں کے ”پیغمبرانہ پیشے“ کا حال سناؤں۔ اب صحافت کی غیر معمولی اہمیت اور حکمرانوں کی مجبوریوں سے فائدے اٹھانے کے لئے اس پیشے میں طرح طرح کے گھس بیٹھئے آ گئے ہیں۔ یہاں کوئی چرب زبان انگوٹھا چھاپ راتوں رات صحافی بن سکتا ہے اور سرکار دربار میں قبول بھی کر لیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صحافت قبضہ مافیا کے گھر کی ایسی لونڈی بنی کہ اس مقدس پیشے کی رہی سہی عزت کا جنازہ بھی نکل گیا۔ اس صحافتی قبضہ مافیا کی دیکھا دیکھی یہاں ہر زور آور بوئے سلطانی کی بقا کے لئے کالم نویس اور تجزیہ نگار بن جاتا ہے۔

کسی کاروباری شخص کے پاس اگر کچھ فالتو رقم بچ جاتی ہے تو وہ اخبار نکال لیتا ہے یا پھر حسب توفیق چینل شروع کر کے اس کا ایڈیٹر اور تجزیہ نگار بن جاتا ہے۔ یہاں کالا دھندا کرنے والے، قلم سے آزار بند ڈالنے والے اور گھر میں اپنے بیوی بچوں کے کپڑے ”پریس“ کرنے والے بغیر کسی ڈگری یا مہارت کے نہایت آسانی سے ”پریس رپورٹر“ بن جاتے ہیں اور بعدازاں جس کی چاہیں پگڑی اچھالتے پھریں کوئی قانون، کوئی ضابطہ ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ سو کہاں کی صحافت، کہاں کی پیغمبری؟ سو بھوکوں مر جانا لیکن صحافی بن کر انسانی زخموں کی تجارت کبھی بھی مت کرنا۔

بیٹے! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انصاف، قانون اور اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے اس عظیم اسلامی ملک میں انصاف کے حصول کے لئے انسان کے پاس حضرت نوح علیہ السلام کی عمر، حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر اور قارون کی دولت لازمی ہونی چاہیے۔ کسی ”کافر“ نے کہا تھا کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے“ لیکن ہمارے اسلام کی اس تجربہ گاہ کی زیریں عدالتوں میں تقریباً 19 لاکھ، ہائی کورٹس میں تین لاکھ جبکہ سپریم کورٹ میں 38 ہزار مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ یہاں وکیلوں کی فیسوں کے ساتھ ساتھ عدل کے ایوانوں کی ہر سیڑھی پر کوئی نہ کوئی خرچہ ہے جس کے بغیر آگے نہیں جایا جا سکتا۔

میں تمہیں ایک ”خطر ناک مجرم“ مظہر حسین خواجہ کے بارے میں بتاتا ہوں جو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں 19 سال تک قید کی زندگی کابوجھ اٹھاتا رہا اور جو جیل میں ہی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر طبعی موت مر گیا۔ اس کی وفات کے دو سال بعد عزت مآب عدالت عظمیٰ اسے تمام الزامات سے ”باعزت“ بری کر دیتی ہے۔ اسی طرح اوچ شریف کے ایک غریب سید زادے، ہمارے ہمسایہ حسین جہانیاں کی مثال بھی اپنے پلے باندھ لو جو گزشتہ 50 سال سے عدالتوں کے دھکے کھا رہا ہے مگر اس کی چند ایکڑ اراضی کا کیس حل نہیں پایا، سول کورٹ سے شروع ہونے والا اس کا کیس سپریم کورٹ تک پہنچ کر اب دوبارہ سول کورٹ میں پہنچ چکا ہے۔ اس کا باپ پیشیاں بھگتاتے بھگتاتے دنیا چھوڑ گیا اور اب وہ ہر ماہ 90 کلومیٹر کا سفر طے کر کے سستے اور فوری انصاف کے حصول کا لطف دوبالا کرنے خان پور جاتا ہے۔

اے جان جگر! تم خوش قسمت ہو کہ ”ریاست مدینہ“ میں زندہ ہو۔ جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو تب تم جان پاؤ گے کہ یہاں عام آدمی کی زندگی ہمیشہ شرمندگی اور درندگی کے درمیان پھنسی رہتی ہے۔ ہمیشہ ذہن میں رکھنا کہ اس ملک میں عام آدمی ایک ایسا ایندھن ہے جسے طاقت ور اور اس سے زیادہ پڑھے لکھے عزیز ہم وطن اپنے وقتی فائدے اور عیاشیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں غریب آدمی کو کبھی بحیلہ مذہب کبھی بنام وطن لوٹا جاتا ہے اور وہ بھی مذہب اور وطن کی محبت میں خوشی خوشی لٹتا جاتا ہے۔ یہاں یہ صورت حال ہے کہ جب بڑے لوگ لوٹ مار کر کے بیرون ملک جائیدادیں اور بنک اکاؤنٹس بنا رہے ہوتے ہیں۔ اونچی شہ نشینوں والی ”مقدس“ بارگاہوں سے ہم جیسے عامیوں کو وطن کی محبت کا جھانسہ دے کر کبھی تو ”قرض اتارو، ملک سنوارو“ اور کبھی ”ڈیم فنڈ“ کے لئے چندہ دینے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔

میرے بیٹے! یہ حقیقت بھی ہمیشہ تمہارے دل و دماغ پر مرقوم رہے کہ پرویز مشرف، نواز شریف، شرجیل میمن، خاور مانیکا، نصراللہ دریشک، آصف زرداری اور انور مجید جیسی ”اجلی“ شخصیات ہی پاکستان کا ”حقیقی“ اور ”روشن“ چہرہ ہیں، جن کو ”ماں“ جیسی ریاست اور باپ جیسی حکومت کے ”دامادوں“ کا درجہ حاصل ہے۔ ورنہ ہم جیسے حرماں نصیب سیاہ مقدر تو محض تاریخ کا ”چھان بورا“ ہوتے ہیں۔ محض اپنے معاشروں کا چلتا پھرتا صدقہ۔ ذلتوں کے مارے لوگ۔ نادرا کے جاری کردہ شناختی چیتھڑے سے زیادہ ہماری کوئی اوقات نہیں۔ کوئی حیثیت نہیں۔ لاریب کہ اس دھرتی پر ہماری نسلیں ہی بے نام ونشان ہیں۔ سو اے میرے پیارے بچے! اپنی اوقات کبھی مت بھولنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *