نفرت کی نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نفرت کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے کوئی زیادہ مغزماری نہیں کرنی پڑتی بس اتنا کرنا ہوتا ہے کہ اپنے کہے کو، اپنی سوچ کو، اپنی فہم کو، اپنے عمل کو، اپنے تصور کو، اپنے طرز لباس، طرز تمدن غرض اپنی پر شے کو درست اور برحق مان کر اس بارے یقین کر لو تو اس کے برعکس عمل کرنے والے فرد سے، گروہ سے، قوم سے یا ملک سے آپ کو اگر آج نہیں تو کل نفرت ہو ہی جائے گی۔ جب آپ میں نفرت پنپنے لگے گی تو اس کو آپ خود سینچ کر نہ صرف تناور درخت بنانے لگ جائیں گے بلکہ جتن کریں گے کہ باقی بھی اس پیڑ کی چھتر چھایا تلے آ جائیں۔

نفرت نہ تو محبت کی متضاد ہے اور نہ ہی کسی تعلق سے گریزاں کیفیت۔ نفرت خاص لوگوں، خاص اعمال، خاص اقوام اور خاص ملکوں کے ساتھ شدید تعلق کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً پاکستان کے بیشتر لوگوں کو نہ تو ملک مصر سے محبت ہے اور نہ ہی نفرت مگر ہندوستان سے نفرت ہے، بنگلہ دیش کے ساتھ محبت اور نفرت کی ملی جلی سی کیفیت کا سا تعلق ہے۔ امریکہ سے پہلے بہت سوں کو محبت تھی اب ان سے بھی زیادہ لوگوں کو امریکہ سے نفرت ہے۔ اس حد تک کہ اپنے ذاتی منفی اعمال کو بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں یا اتنا ضرور کہہ دیتے ہیں کہ یہ امریکہ کی کارستانی ہوگی۔

اسی طرح افراد سے بھی تعلقات کا ذکر شاعروں اور گیت نگاروں نے کیا ہے جیسے : لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤ ہو نہ کچھ تو اور دھوکہ کھائیں کیا؟ (مرزا غالب) یا انگریزی زبان کا معروف گیت ہے ”I love to hate you“ یا ماہرین نفسیات تعلق کی ایک عجیب شکل کو Love and hate relationship کا نام دیتے ہیں۔ مجھے جب کسی سے تعلق ہی نہیں تو میں اس سے نفرت کیوں کروں گا اور محبت کرنے کی تو ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ البتہ ایسے شخص یا اشخاص، عمل یا اعمال کی جانب غیر جانبدار رویہ ضرور روا رکھا جا سکتا ہے۔ تعریف کے وقت تعریف اور تنقید کی ضرورت ہو تو تنقید بھی کی جا سکتی ہے، چاہے نرم الفاظ میں یا بھرپور انداز میں۔ تنقید کو تنفّر میں نہیں بدلنا چاہیے اور تعریف کو تعلق کی جانب کشش خیال نہیں کرنا چاہیے۔

نامور مورّخ ابن خلدون کہتے ہیں کہ ”شناخت کے لیے عصبیت کا ہونا ضروری ہے“۔ لفظ تعصب عصبیت سے ماخوذ ہے، ّعصبیت کا مطلب جدا کرنا ہوتا ہے۔ جب آپ کو اپنی شناخت درکار ہوگی تو جس سے آپ خود کو جدا کرنا چاہیں گے، ظاہر کے اس کے اوصاف بیان نہیں کریں گے، اس کے لیے رطب اللّسان نہیں ہوں گے اور اس کو خود سے ارفع ثابت نہیں کریں گے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کسی حد تک مائل بہ تصوف ہوں گے اور ممکن ہے کہ اگر بظاہر نہ سہی بباطن صوفی ہوں۔

شناخت کو راسخ کرتے ہوئے سادہ عصبیت تعصب میں بدل جاتی ہو۔ عصبیت ضروری نہیں کہ نفرت پیدا کرنے کی خاطر روا رکھی جاتی ہو۔ اس کا مقصد مخالف فریق کو کمتر اور خود کو بہتر ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تعصّب مدمقابل فریق کو نیچا دکھانے، زیر کرنے اور آخر کار نابود کرنے کی بنیاد بنتا ہے۔ تعصب کی ابتداء بالعموم ایک فریق کی جانب سے ہوا کرتی ہے مگر اس کے نتیجے میں دوسرا فریق بھی اسی تعصب کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے۔

امیروں اور غریبوں کے درمیان تعصب دبا دبا ہوتا ہے مگر جب غریب جو عام طور پر اکثریت میں ہوتے ہیں، کسی بھی طریقے سے اکٹھے ہو جائیں تو امیروں کے خلاف تعصب اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انتقام کی شکل لے لیتا ہے۔ اجتماعی تعصب کی جڑیں عموماً نسلی تفاوت، مذہبی عناد، مسلکی مغائرت، ثقافتی عدم ہم آہنگی، سماجی امتیاز اور معاشی تفریق میں گڑی ہوتی ہیں۔

تعصب کی نفرت میں کایا کلپ اپنے طور پر نہیں ہوتی۔ تعصب کی شمشیر، توپ یا جوہری بم سے فائدہ اٹھانے والے کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی شمشیرکی چمک، توپ کی ہیبت اور جوہری بم کی ہلاکت خیزی سے ان سب لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں جن کا تعلق ان کی قبیل سے ہو جو اپنا الّو سیدھا کرنے کی خاطر تعصب سے پیدا کردہ نفرت کے خون میں نہ صرف دوسرے فریق کے بلکہ اپنے فریق کے لوگوں کو بھی نہلانا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے ویسے ہی کچھ لوگ ان کی ہی طرح اسی طرح کی شمشیر، توپ اور جوہری بم کا استعمال کرنے کے خواہاں ہیں۔

پاکستان میں فرقہ واریت کا تعصّب اپنے طور پر نہیں پھیلا بلکہ کچھ ملکوں نے پاکستان میں اپنے بہی خواہ افراد کی مدد سے یہ فصل اگائی ہے۔ 1970 کے عشرے کے شروع تک پاکستان میں شیعہ سنی نفرت تھی ہی نہیں۔ شیعہ محرم مناتے تھے تو محرم کے دنوں میں ہی میرے قصبے علی پور ضلع مظفرگڑھ میں مجلس احرار اور تحریک ختم نبوّت کے زیر اہتمام سہ روزہ جلسہ ہوا کرتا تھا۔ جلسے سے خطاب کی خاطر آئے تمام علمائے کرام کے لیے کھانا ہمارے ہاں پکا کرتا تھا۔

مگر نو اور دس محرم کو ہماری والدہ مجھے اور چھوٹے بھائی اویس کو شیعہ حضرات کے زیب تن سیاہ لباس کی بجائے ہمیں نئی سفید شلوار قمیصوں میں ملبوس کرا کے ماتمی جلوس دیکھنے بھیج دیا کرتی تھیں۔ اس روز ہمارے گھر سفیدہ یا کھیر پکا کرتے تھے۔ بس سیاہ و سفید تک اختلاف تھا، حسین ہمارے بھی اتنے ہی حسین تھے جتنے شیعہ برادری کے۔ یزید کی یزیدیت سے اور شمر کی بہیمت سے ہم بھی اتنے ہی نالاں اور دکھی ہوتے تھے جتنے ہمارے ماتمی بھائی۔

پھر ضیاّالحق آ گیا۔ پہلے کراچی میں مہاجر پیدا ہوئے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑائی شروع ہوئی۔ سعودی عرب سے تیل، پیسہ اور جہادی اکٹھے آنے لگے۔ ساتھ ہی ایران میں انقلاب آ گیا اور وہاں ”ملّاکریسی“ کی بنیاد پڑ گئی۔ بس پھر کیا تھا، پتہ نہیں کیا ہوا اور شاید سب جانتے ہوں کہ کیا ہوا مگر آنکھیں بند کرتے ہوں کہ شیعہ سنّی تعصبات میں اضافہ ہونے لگا۔ پہلے سپاہ صحابہ بنی پھر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا عسکری ونگ پیدا ہوا۔ پھر لشکر جھنگوی بن گیا اور اس طرح تعصب نے نفرت کی شکل اختیار کر لی۔

اب جب سعودی عرب اور یمن کے باغیوں میں ٹھنی تو آپ چاہے کوئی بھی بات کیوں نہ کریں جو امن کے قیام، ظلم کے خلاف مقاومت اور نا انصافی کی بیخ کنی کی خاطر ہو آپ کو آپ کے اپنے مسلک اور نظریے کے مخالف تو کیا اپنے ہی مسلک کے وہ لوگ بھی جو آپ کو ذاتی طور پر نہیں جانتے، آپ کو شیعہ، قادیانی اور جو بھی چاہیں بنا دینے سے گریز نہیں کرتے۔

کچھ لوگ سعودی عرب کے شاہی خاندان پر جانیں نچھاور کر دینے کے حق میں ہیں تو کچھ دوسرے ایران کی صفوں میں مل کر لڑنے کو تیار۔ اگر نعوذ باللہ کوئی مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ بلکہ وہاں موجود مقامات مقدسہ یعنی حرمین کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو، اس کے خلاف لڑنا تو بالکل سمجھ میں آتا ہے لیکن اگر کوئی سعودی شاہی خاندان کے لیے چیلنج ہے یا مغرب بشمول امریکہ کے ساتھ اس کی تیل کی تجارت میں مخل ہونا چاہے تو ان کے خلاف شاہی خاندان کے ساتھ مل کر لڑنا ماسوائے ”ذاتی پسند و ذاتی مفاد“ کے اور کچھ نہیں۔

اسی طرح اگر کوئی ایران میں شیعہ حضرات کے لیے مقدس مقامات کو خدانخواستہ نقصان پہنچانا چاہتا ہے، تب ایران کے دستوں میں شامل ہو کر شیعہ حضرات کے لڑنے کی سمجھ آ سکتی ہے لیکن اگر کوئی وہاں کی ”ملا کریسی“ کو ختم کرنا چاہتا ہے یا وہاں کیے جانے والی سختیوں سے لوگوں کی جان چھڑانا چاہتا ہے تو آیت اللہ حضرات کے حق میں لڑنا بھی خالصتا ”ذاتی پسند ہوگا۔

ظلم اور نفرت کے خلاف لڑنا پیغمبرانہ کام ہے۔ دنیا میں سارے انبیاء، سارے مصلحین اور فلسفیوں کی بڑی تعداد نے ظلم اور نفرت کے خلاف ہی لڑائی کرتے ہوئے اپنے مشن شروع کیے تھے۔ دعوت سب سے پہلا راستہ ہے اور جہاد آخری۔ ایسا صرف اسلام میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ بات تمام مذاہب اور تمام ملکوں پر صادق آتی ہے۔ کچھ مذہبی گروہ، کچھ مسلکی فرقے، کچھ افراد یا کچھ حکومتیں اگر دعوت کی بجائے نفرت کو اور جہاد (حق کی خاطر جنگ) کی بجائے ظلم کو وتیرہ بنا لیں تو اس سے حقیقی پیغمبرانہ کام یعنی ظلم اور نفرت کے خلاف لڑنے کی نفی نہیں ہوتی بلکہ اس کا اعادہ ہوتا ہے کہ تمام متعصبین کو پہلے دعوت دو اور اگر استدلال و اثبات سے نہ قائل ہوں تو تنگ آمد بجنگ آمد لڑنا پڑتا ہے۔ اگر ہر فریق دوسرے کو ظالم اور نا انصاف سمجھتا رہا تو ایک دن نہ یہ فریق باقی بچے گا اور نہ وہ فریق پھر ان طاقتوں کا ہی راج ہوگا جو ایسا کروانا چاہتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *