قومی ترقی کا پیمانہ اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ہمیشہ سے یہ پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی ناپنے کا پیمانہ اُس ملک کی GDP، فی کس آمدنی، بیلنس آف پیمنٹ، سٹاک مارکیٹ اورکھلی منڈی میں کرنسی کی قیمت ہے اور اس کے علاوہ اُس کی فوجی طاقت اُس کے اسلحہ کے ذخائر، بین البر اعظمی اور ایٹم بم لے جانے والے میزائل ہیں۔ اس تمام میں جو پیمانہ موجود نہیں ہے وہ HDI یعنی ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کا ہے، اس لئے حالیہ کرونا وائرس کے حملے نے اس ترقی کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے۔

یہ تمام وہ پیمانے ہیں جو دراصل کسی بھی ملک کی عوام کی نہیں بلکہ وہاں کی اشرافیہ کی ترقی کا پیمانہ ہیں۔ آج کل ترقی پذیر کو تو رہنے ہی دیں ترقی یافتہ ممالک میں عوام کے لئے طبی سہولیات نہیں ہیں سپین اور اٹلی کی میں وڈیو دیکھ رہا تھا کہ ہسپتالوں میں لوگ کوریڈورز میں لیٹے ہوئے تھے جب کہ لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کیا جا رہا ہے کہ یہ تو ناگہانی ہے اور بالکل توقع کے خلاف ہے سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی توقع کے خلاف ہے؟ کیا 1918 ء کا سپینش فلو تاریخ نے دیکھا تھا یا نہیں؟ پھر طاعون اور چیچک نے کیا تباہی مچائی تھی؟ پھر کیا توقع کے خلاف تھا؟

دنیا بھر میں حکومت پڑھے لکھے ڈگری یافتہ حضرات چلاتے ہیں بیوروکریسی میں بھی تعلیم یافتہ ہی ہوتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ ادراک ہی نہیں کر سکے کہ اس طرح کے حالات بھی کبھی پیش آسکتے ہیں جبکہ اس طرح کی مثالیں بھی تاریخ میں تواتر سے موجود تھیں۔ کم از کم جتنے عوام ہیں، اُن کے حساب سے ہسپتال اور وہاں طبی سہولیات تو موجود ہوتیں یا اس کی وجہ سرمایہ داری میں ترجیحات عوام نہیں بلکہ سرمایہ ہوتا ہے۔ ٹائی ٹینک جو اپنے وقت کا جدید ترین بحری جہاز تھا جب اپنے پہلے ہی سفر میں حادثے سے دوچار ہوا تواُس پر تقریباً 2,224 مسافروں کے لئے صرف 20 لائف بوٹس تھیں اور 1,500 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں تھیں اور بچ جانے والوں کی ایک بڑی تعداد اپر کلاس کی تھی جن کو لائف بوٹس پر باقیوں پر ترجیح دی گئی تھی تب بھی یہ حادثہ خلاف توقع ہی تھا۔

کیا دنیا نے اپنے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج بھی ہسپتالوں کی تعداد عوام کی تعداد سے کہیں کم ہے بالکل جیسے ٹائی ٹینک میں جان بچانے کا سامان لوگوں کی تعداد سے بہت کم تھا۔ آج بھی تمام تر نام نہاد ترقی کے باوجود عوام کے لئے انتہائی قلیل تعداد میں وینٹیلٹرز، ڈی انفیکٹ کرنے کا سامان اور حد تو یہ ہے کہ ہمارے جیسی ایٹمی قوتوں کے پاس تو ماسک اور دستانے ہی نہیں ہیں یاد رہے یہ وہی عوام ہیں جن سے ہمیشہ قربانی ہی مانگی گئی ہے۔

بیماری امیر اور غریب کو نہیں دیکھتی یہ ایک بے روزگار کو بھی لگ سکتی ہے اور شہزادہ چارلس کو بھی اور کسی وزیراعظم کو بھی لیکن جب غریب کو لگتی ہے تو اس میں اُس کی لاپرواہی کو الزام دیا جاتا ہے لیکن کیا شہزادہ چارلس اور بورس جانسن کو سڑکوں میں پھرنے سے یہ بیماری لگی ہے جبکہ صحت کے بہترین وسائل بھی اُن کو ہی میسر ہیں۔ پاکستان میں تو اب تک میں نے کہیں بھی ڈس انفیکٹک کرنے کا سپرے ہوتے نہیں دیکھا ہے حکومت ایمرجنسی قرضہ دوسرے ممالک سے مانگ رہی ہے جبکہ یہ سب کچھ اپنے ملک میں ایمرجنسی لگا کر کافی حد تک پورا کیا جا سکتا ہے مثلاً صدر، وزیراعظم اور دیگر ارکان پالیمنٹ کی تنخواہوں کو پچھلے دو سال پرانی سطح پر لے جایا جائے اور دیگر مراعات مکمل طور پر ختم کی جائیں جبکہ یہ دیگر مراعات کا سلسلہ مکمل طور پر گریڈ 17 اور اُس سے اوپر تمام سرکاری ملازمین کا بشمول فوج اور عدلیہ مکمل طور پر ختم کیا جائے، اس میں میڈیکل اور کام کرنے والے گھریلو ملازمین بھی شامل ہیں اور اُس پیسے کو استعمال میں لا کر طبی سامان خریدا جائے۔

اس سے حکومت کی سنجیدگی اور نہ صرف اُسکے عزم کا پتہ چلے گا بلکہ اُس کی دن بدن گرتی ساکھ کو بھی عروج حاصل ہو گا۔ تمام ارکان اسمبلی جو کروڑہا روپیہ اپنے الیکشن میں لگاتے ہیں وہ اپنے اپنے حلقے کے عوام کی خوراک کے ذمہ دار ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ تمام سبزی اور پھل منڈیوں میں بھی ان کی ذمہ داری ہو کہ وہاں مکمل سپرے ہو اور پھر جب سامان دکانوں پر آئے تو پھر یونین کونسل اور محلے کی سطح پر ایک بار پھر اُن پر سپرے ہو۔

اسی طرح تمام کاروباری لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے ویئرہاؤسز میں روزانہ کی بنیاد پر سپرے کریں تاکہ جو سامان بازاروں میں موجود ہے وہ مکمل طور پر ڈس انفیکٹ ہو اور لوگ بیماری اپنے گھروں میں بیماری لے کر نہ جائیں۔ مری بروری اور اس طرح کی دیگر کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اس وقت وسیع پیمانے پر ڈس انفیکشن کا محلول تیار کریں۔ پاکستان میں بھی امیر لوگوں کی کمی نہیں ہے تمام امیر لوگوں پر سپر ویلتھ ٹیکس عائد کیا جائے اور جنوبی ایشیا میں تو جتنے بڑے زمین دار ہیں اور کہیں پائے بھی نہیں جاتے ایسے تمام وڈیروں اور زمین داروں پر اُنکی کُل پیداوار پر ٹیکس عائد کیا جائے۔

وہ لوگ جو دو کنال یا اس سے بڑے گھروں میں رہ رہے ہیں اور وہ جن کی پاس 1600 cc یا اس سے بڑی امپورٹیڈ کاریں ہیں اُن تمام لوگوں پر لگژری ٹیکس عائد کیا جائے۔ یہ تمام وہ اقدامات ہیں جو بمشکل پاکستان کے 2۔ 3 فیصد لوگوں پر اثرانداز ہوں گے لیکن اس سے 97 یا 98 فیصد لوگوں کی زندگی بچ سکتی ہے اور جس سے ہم اپنے وسائل اس حد تک بڑھا سکتے ہیں کہ ا س سے ہم اپنا یہ کڑا وقت احسن طریقے سے گزار سکیں گے کیونکہ اس نازک گھڑی میں خواص کو بھی بتانا ہے کہ عوام کے لیے اب اُنہیں قربانی دینی ہے اور آیندہ کے لئے ترقی کا پیمانہ صرف اور صرف عوام کی خوشحالی ہی ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *