آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانے کے تغیر پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ حوادث کو روکا نہیں جا سکتا۔ عصری تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہی دانائی ہے۔ بدلتے حالات کے موافق اپنی فطرت بدلنا ہی عقلمندوں کا شیوہ ہے۔ زمانے کا رخ پہچاننے کی صلاحیت، نرم خوئی، حلم و بردباری اور لچک جس کی سرشت میں نہ ہو کامرانی و راحت کبھی اس کا مقدر ہو نہیں سکتی۔ سختی، خود رائی، تمکنت اور انانیت مضبوطی کردار کی نشانی ہے نہ راست بازی کی۔ نشیب و فراز اور اتار چڑھاؤ زندگی کے سفر کا اٹوٹ انگ ہے۔ قوموں کی زندگی میں طرز عمل، سوچ و فکر، بود و باش اور رہن سہن کے انقلابات آتے رہتے ہیں ان انقلابات سے گزرتے ہوئے نئے سانچے میں ڈھلنا مشکل ضرور ہے مگر اس سے فرار نہیں مل سکتا۔ علامہ اقبال نے یونہی نہیں فرمایا تھا

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

یہ کاروان ہستی ہے تیز گام ایسا

قومیں کچل گئی ہیں جس کی رواروی میں

افغانستان میں سویت افواج باقاعدہ طور پر 24 دسمبر 1979 میں داخل ہوئیں، اس کے بعد دو سال تک افغان مجاہدین اور قوم پرست رہنما قابض فوج کے خلاف اپنی لڑائی خود اور بے سرو سامانی کے عالم میں لڑتے رہے اور ان کے زیر استعمال اسلحہ بھی وہی رہا جو انہیں مال غنیمت کے طور پر ملتا۔ اس دوران پاکستان کی مدد صرف اخلاقی حد تک محدود رہی۔ جب مجاہدین کی مزاحمت نے اپنا آپ منوالیا اور اس وقت کے عالمی تقاضوں کے تحت دنیا کو افغان مزاحمت کے پیچھے چھپ کر کمیونزم کے سدباب کا رستہ نظر آیا اور عالمی سطح پر اس مزاحمت کی سرپرستی کا فیصلہ ہوا تو ہم نے بھی اپنی مجبوریوں اور مفادات کے تحت کھل کر اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد ہی غیر ملکی مجاہدین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا، ڈالرز اور غیر ملکی امداد کی ریل پیل ہوئی تو ہمارے ہاں مجاہدین کی ٹریننگ کے لیے کیمپ بھی کھل گئے۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں دنیا بھر سے آئے لوگوں کو بلا روک ٹوک رسائی مل گئی۔ بالآخر 15 فروری 1989 کو سوویت یونین نے شکست تسلیم کرتے ہوئے افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کا اعلان کر دیا۔

افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا کے بعد دنیا کا مفاد جیسے ہی پورا ہوا اپنا دامن جھاڑ کر وہ یہاں سے نکل گئی اور اس جانب سے اس نے نظریں بھی پھیر لیں۔ ہم نے مگر نئے حالات کے مطابق اپنی سوچ بدلی نہ اپنے طرز عمل کے دور رس اثرات کو سوچا لہذا ہمارے المیوں کا باب خاتمے کے بجائے دراز ہوتا چلا گیا۔ سوویت افواج کے انخلا کے بعد افغان دھڑے اقتدار اور قوت کے حصول کی خاطر باہم دست و گریباں ہو گئے۔ ہم پڑوس کی اس آگ سے دامن بچانے کی تدبیر کرنے کے بجائے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے نام پر کبھی ایک پلڑے میں اپنا وزن ڈالتے رہے کبھی دوسرے میں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری گلیاں و بازار بارود سے بھر گئے۔ ہمارے ہاں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر پروان چڑھا اس عرصے میں ہماری دو نسلیں پرائی آگ کی نظر ہو کر تباہ ہوئیں۔ جن اسٹریٹیجک فوائد کے لیے یہ سب کیا، وہ حاصل ہونے کے بجائے الٹا چالیس سال افغانوں کی میزبانی کرنے کے باوجود بدلے میں نفرت ملی اور اسی نفرت کی وجہ سے آج تک بدامنی اور دہشتگردی کا عذاب بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اسی طرح کی غلطیاں کشمیر کے باب میں بھی ہم سے سرزد ہوئیں۔ نوے کی دہائی میں ہمارے خطے کے بیشتر ممالک جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور اپنے نوجوانوں کی تربیت میں سر دھڑ کی بازی لگائے بیٹھے تھے۔ ہمارے ہاں مگر اس دور میں گلی گلی جہادی تنظیموں کے دفاتر کھل رہے تھے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی بجائے یہاں گوریلا وار کی ٹریننگ حاصل کرنے پر زور رہا۔ نتیجہ جو نکلا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ آج کشمیر پر ہمارا موقف کمزور اسی لیے ہے کہ جب بھی کسی عالمی فورم پر اس موضوع پر بات کی جائے، بھارت فوراً کشمیر میں ہماری مداخلت کا ذکر شروع کر دیتا ہے۔

یہ درست ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہم عدم مداخلت کی پالیسی کی طرف گامزن ہیں مگر ماضی میں ہم سے جو غلطیاں ہوئی ان کے اثرات اتنی جلدی ختم ہونے والے نہیں۔ آج پالیسی ساز بھی اس سوچ سے متفق ہیں لیکن کاش ہم ڈیڑھ دو دہائیاں قبل ادراک کر لیتے کہ کوئی بھی تحریک حریت جس میں بیرونی مداخلت کا عنصر شامل ہو اسے بدلتے عالمی حالات میں قبول عام کی سند نہیں مل سکتی۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کے سبب ہماری معیشت بے پناہ دباؤ کا شکار ہے اور اس کے سر پر بلیک لسٹ کی تلوار مستقل لٹک رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بڑے ممالک اس قسم کے اداروں کو بطور ٹول استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بہت سے مطالبات اس میں ایسے ہیں جن پر عمل خود ہماری معیشت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ بار بار کاسہ گدائی اٹھائے عالمی مالیاتی اداروں کی چوکھٹ پر دست سوال دراز کرنے کی نوبت اسی باعث آتی ہے کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا حصہ غیر دستاویزی ہے جس کی وجہ سے محصولات جمع نہیں ہوتے پھر کام چلانے کے لیے مجبورا قرض ہی آپشن بچتا ہے۔ بروقت ہماری معیشت دستاویزی شکل میں آ چکی ہوتی بار بار قرض اٹھانا پڑتا نہ دنیا میں ہماری ٹرانزیکشنز کو مشکوک نظروں سے کوئی دیکھتا۔

جب سے کورونا کی وبا آئی ہے، جس کے پھیلاؤ کا سبب بے احتیاطی اور آزادانہ اختلاط ہے ہم اپنا طرز زندگی نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کے بجائے نئی نئی کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے اسلامی معاشرت تباہ کرنے کے لیے خوف پھیلایا جا رہا ہے جبکہ کچھ اسے نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کا نقطہ آغاز قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے حسین ہارون جو اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر بھی رہ چکے ہیں، اور ڈان گروپ کے حمید ہارون کے بھائی بھی ہیں، ایسے دانشور بھی گفتگو کر چکے ہیں۔

حیرت ہوتی ہے اس قسم کی گفتگو سن کر۔ خلط مبحث ہماری دیرینہ عادت ہے اور اس قسم کے سازشی نظریات پہلی مرتبہ سننے کو نہیں مل رہے۔ مان بھی لیں کہ بیان کردہ کہانی سچائی پر مبنی ہے پھر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم محظ سازش سے واقف ہو کر اس کے اثرات سے بچ سکتے ہیں یا ہمیں اس کے مقابلے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ اپنی حیثیت سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ عالمی فورمز کے نقار خانوں میں طوطی کی صدا سے زیادہ ہماری بات کی اہمیت نہیں تو سازش سازش کا راگ الاپ کر وقت برباد کرنے کے بجائے بدلتے حالات سے مطابقت پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

چند کام وبا کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری نوعیت کے کرنے والے تھے جن پر فی الحال قوم پوری طرح راضی ہو رہی ہے نہ حکمراں۔ بعض اقدامات ہمیں اس وبا کے خاتمے کے بعد ہر صورت کرنے ہوں گے، ورنہ ماضی کی طرح اپنی حرکتوں پر اڑے رہنے سے کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا بلکہ خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ وقت ہمارا انتظار کیے بغیر آگے نکل جائے گا اور ہمیشہ کی طرح ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *