انسانیت کی خدمت یا سیلفی شو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر اس وقت پوری دنیا پر نظر دوڑائی جائے تو پوری دنیا ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہے۔ چین سے شروع ہونے والا یہ کرونا وائرس اس وقت پوری اقوام عالم کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ تیزی سے پھیلتا ہوا یہ وائرس اس وقت کئی انسانی زندگیوں کو نِگل چکا ہے۔ ہر شعبہِ زندگی اس سے بُری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ تمام بین الاقوامی ممالک کے آپسی رابطے بند ہو چکے ہیں۔ فلائٹس کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور ہر ملک کی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

جس سے ہر شعبہِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے اموات میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر روز نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوچکے ہیں ملک میں لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے۔ ڈاکٹرز اپنی تمام تر صلاحیتوں کو برؤے کار لاتے ہوئے انسانی زندگیوں کو بچانے کی جدوجہد میں دن رات مشغول ہیں۔ ایک طرف تو یہ تمام تر اقدامات انسانی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ مگر دوسری طرف دیکھا جائے تو وہ حضرات جن کا دارومدار محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرنا تھا وہ اپنے گھروں میں بند ہو چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دن کو محنت مزدوری کرتے ہیں اور شام کو ان کے گھروں کا چولہا جلتا تھا۔

جہاں حکومت کی طرف سے ان افراد کے لیے مختلف پیکجز کا اعلان کیا گیاہے وہیں مختلف این جی اوز بھی اس کار خیر میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں سب اپنے اپنے طور پر معاشرے کے غریب اور ضرورت مند افراد کی بھرپور مالی معاونت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ پاک سب کو جزائے خیر دے۔

اللہ رب العزت سورت البقرہ میں ارشاد فرماتے ہیں۔

”کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی گناہ زیادہ دے گا اور اللہ ہی روزی تنگ کرتا اور کشادہ کرتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ “

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا چوں کہ جنت کا مستحق ہوتا ہے یعنی جنت میں اس کا کوئی مکان یا محل تعمیر ہوتا ہے۔ ہم جتنا مال تھوڑا تھوڑا یا یک دم اللہ کی راہ میں دیں گے اس کی مثال ایک خام مال کی سی ہے۔ دنیاوی لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم جتنا سیمنٹ اور سریا، بجری یا اور کوئی تعمیری لوازمات بھیجیں گے مکان یا محل اسی طرح تعمیر ہوتا رہے گا۔ جو ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے اور وہ روز محشر ہماری ملکیت میں دیا جائے گا۔

یہ تو تھا اللہ رب العزت کا انعام ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی راہ میں دل کھول کر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں۔ صدقہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ہو۔

معاشرے میں ہر کردار ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ اپنا کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی ذاتی تشہیر اور بلے بلے کے لیے کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ جو نا تو ذاتی تشہیر کرتے ہیں اور نہ ہی کانوں کان خبر ہونے دیتے ہیں، کہ اللہ کی راہ میں کب اور کتنا خرچ کیا ہے۔

ہونا بھی ایسے ہی چاہیے کیونکہ ہمارا مقصد قرب الہی اور اجر و ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مگر اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم قرب الہی کم اور بلے بلے زیادہ کروانے کا شوق رکھتے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کیا کر دی فوٹو سیشن سے پورا سوشل میڈیا بھر دیتے ہیں۔ ایسا عمل کرنے سے کیا ہم نے اپنے دوسرے مسلمان غیرت مند غریب بھائی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کیا؟ ایک آٹے کا تھیلا یا صابن کی ایک ٹکیہ دے کر اس کے ساتھ تصویر لے کر اس کو سوشل میڈیا پر ڈال کر کیا ہم نے اچھا اقدام کیا؟ ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ اس وقت ضرورت مند کی ضرورت کو دیکھا جائے نا کہ ذاتی تشہیر یا فوٹو سیشن کیا جائے۔ جس کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے سے کسی ضرورت مند کی عزت نفس مجروح ہو۔

ایسی تصاویر آئے روز وائس ایپ گروپ اور فیس بک کی زینت بنی ہوتی ہیں۔ ان تصاویر دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس جانب جا رہا ہے۔ جو کام ہم نے شروع کیا ہے کیا یہ درست ہے؟ کیا ہم اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اور اجر و ثواب کمانے کے لیے نیک کام کر رہے ہیں یا کہ ذاتی بلے بلے کے لیے۔

ذرا سوچیے! کیا ہم نے اپنے رب کے خضور جواب دہ نہیں ہونا ہے۔ کیا ہم سے وہاں حقوق العباد کے بارے میں سوال نہیں ہو گا۔ اللہ کے حضور ہم کیا منہ دکھائیں گے۔ اس وقت پوری قوم پر جو عذاب الہی مسلط ہے کیا یہ عذاب ہمارے ہی کرموں کا پھل نہیں ہے۔ خدارا اب بھی وقت ہے اپنا قبلہ درست کر لیں کہیں دیر نا ہو جائے۔ ذاتی بلے بلے کو چھوڑ کر اپنے گناہوں کی معافی کے لئے اللہ تبارک و تعالی کے حضور گڑ گڑا کر دعا مانگی جائے۔ کہین ایسا نہ ہو کہ روز محشر ہمارے اعمال ہمارے منہ پر مار دیے جائیں۔ تب سوائے پچھتاؤے کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

نیک کام کریں اور خلوص نیت سے کریں اور رضا الہی کے حصول کے لیے کریں۔ نا کہ ذاتی تشہیر یا بلے بلے کے لیے۔ تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کا باعث بن سکے۔

تمام صاحب ثروت اور مخیر حضرات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ نیک کام بلا کسی فوٹو سیشن کے کریں اور اس چیز کا خیال رکھیں کہ کسی غریب کی عزت نفس مجروح نہ ہو کیونکہ لینے والا بھی اسی معاشرے کا ایک فرد ہے۔ جس کی تصویر ہم سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنے کاموں کی تشہیر نا کیجیے۔ اور دوسروں کے اوپر ہرگز احسان نا جتلائیں۔ ریاکاری اور دکھاوا اللہ پاک کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کیجیے اور انسانیت کی خدمت بلا تشہیر کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply