کورونا، اور اس کے بعد کی دنیا
ہم نے پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں دنیا کو بدلتے دیکھا ہے۔ پہلی عالمی جنگ کیپٹلسٹ نظام کے دائرہ کو توڑنے کا باعث بنی، دنیا میں اولین سوشلسٹ ملک کا قیام ہواتھا۔ دوسری عالمی جنگ نے نوآبادیاتی نظام کوتہہ وبالا کردیا اور ایشیا افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بے شمار ملک آزاد ہوئے۔ ہم اس تیسری عالمی جنگ جیسے بحران کے بعد بھی دنیا کو تبدیل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ تیسری عالمی جنگ محض ہیلتھ بحران نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک بہت بڑا معاشی بحران ہے۔ سماجی بحران ہے، ماحولیاتی بحران ہے، اور یہ حتمی طور پر ایک دیر پا سیاسی بحران ہے۔
سیاسی میدان تیز رفتاری سے بدل رہا ہے۔ کئی کیپٹلسٹ حکومتوں نے پہلے ہی ہیلتھ سیکٹر کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ حکومت ہی نے ٹرانسپورٹ، ہوٹل انڈسٹری، ٹوراِزم، اور تعلیمی ادارے بند کردیے ہیں۔ مطلب پرائیویٹ سیکٹر حتمی طور پر حکومت کے حکم میں آگیا ہے۔ دو چار ماہ تک سمجھیے ”نجی“ اور ”پرائیویٹ“ والی بادشاہی ختم ہوگئی۔ ریاست کو پرائیویٹ پہ بالادستی حاصل ہوگئی۔
انسان کے لیے یہ ایک مشکل گھڑی ہے۔ زندگی سے جڑنے کی گھڑی ہے۔ یہ زندگی کی حفاظت اور وائرس کی شکست کی جنگ ہے۔ ایسی جنگ جو سراسیمگی سے نہیں بلکہ بہت سکون سے، اعتماد سے اور ڈسپلن سے لڑی جائے۔ سوائے سائنسی احکامات کی بجا آوری کے، سوائے ایک دوسرے کی جان بچانے کی فکر کے، سوائے محبت کے، اور سوائے فتح پاکر وقار ِ انساں کی بحالی کی جدوجہد کے، کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
کورونا کے کائنات ہلا ڈالنے والے جھٹکوں نے نظام کی فرسودگی پہلے ہی واضح کردی۔ آئی ایم ایفی قرضوں کی ادائیگی میں دیوالیہ پن دراصل پورے کیپٹلزم کا دیوالیہ پن ہے۔ دنیا کا موجودہ معاشی اور سیاسی انتظام اب پیروں پہ کھڑا نہیں ہوسک رہا۔ کورونا وائرس وبا تو کیپٹلزم کے اونٹ کو گرادینے والے بوجھ کا آخری تنکا ثابت ہوگا۔ کورونا وہی آخری تنکا ہے۔ کیپٹلزم کے اختتام کی شروعات کی گرداب کا بھنور ہے کورونا۔ کیپٹلزم پہ ایک گہرا بحران واجب تھا۔ انسانیت کو آگے کی طرف ایک جمپ لگانے کے حالات پک چکے تھے۔ وائرس نے اس کام کو تیز کرنا ہے۔ زندہ بچ جانے والے محنت کش انسانوں کی دنیا کورونا سے پہلی والی دنیا نہ ہوگی۔
یہ طوفان، یہ وبا انسانیت کے ہر شعبے کو متاثر کرے گا۔ پتہ ہے کہ یہ وبا سارے انسانوں کو نہیں مارے گا۔ محض متاثرہ دو فیصد انسان مر جائیں گے۔ باقی زندہ رہیں گے۔ مگر وہ باقی زندہ لوگ اب ایک مختلف دنیا میں زندہ رہیں گے۔ آج کے فوری اور مختصر عرصے کے لیے اٹھائے ہنگامی اقدامات، ہنگامی نہ رہیں گے۔ یہ شاید زندگی بھر ساتھ رہیں گے۔ پتہ چلا کہ انسان کو خطرات اب ہنگامی نوعیت کے ہی ہوں گے۔ اسی لیے ہنگامی صورتحال اب انسان کی زندگی کا حصہ رہیں گے۔
موسمیاتی ہنگامی صورتحال، صحت کے ہنگامی صورتحال، یا، معاشی ہنگامی صورتحال، انسان کو اب ہنگامی صورتحال کا اندازہ لگانے، اس کی پیش بندی کرنے اور اس نے نمٹنے پہ زور لگانا ہوگا۔ اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی آمدورفت گھروں کے بیڈروموں میں سوئے انسان اور فیصلہ ساز عالمی مرکز کے بیچ بلاروک ٹوک جاری ہوگی۔ سمارٹ فون صرف ٹمپریچر، نبض اور بلڈپریشر ہی نوٹ نہیں کرے گا، جسم کی بیماری میں اعضا کی تصویریں ہی نہیں بھیجے گا بلکہ وبا کی دوری نزدیکی کے لوکیشن بھی بتادے گا۔
وبا اور ناگمان، سمجھو بین الاقوامی ٹیررسٹ ہے۔ اس کی لوکیشن اور بچاؤ سے ہر بشر آگاہ رہے گا۔ ناول، شاعری، کلچر، مزاح، پیر، گدی، ملا، ٹیکنالوجی، غلامی، آئی ایم ایف، اقوام متحدہ، تجارت، پاسپورٹ، ایوی ایشن، سپورٹس، رویے، اقدار، اور روزمرہ معمولات، الغرض ہر انسانی چیز متاثر ہوگی۔ اور طویل المدت طور پر متا ثر ہوگی۔ ایسے سیاسی دھماکے ہوں گے جو سماجی اور معاشی دھماکوں کے ساتھ سُرتال ملائیں گے۔ اور اہل حشم کے سراِن دھماکوں کے میدان ہوں گے۔ فاسل فیول انڈسٹری کے مالک رجعتی کھرب پتیوں اور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے اتحاد نے دنیا میں جوفاشسٹ حکمرانی قائم کر رکھی ہے، وہ تو ڈھے ہی جائے گی۔ سب سلیکٹڈ ون یونٹی بت انسانی آزادیوں میں غرق کیے جائیں گے۔
عالمی وبائیں انسانیت کو بڑے معاملات پر سوچنے پہ مجبور کرتی ہیں۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ وبا انسان کوسماجی اور سیاسی معاملات کو از سرِ نو دیکھنے پہ اکسا ئے گی۔ نئی دنیا روز گار دیے بغیر قائم نہیں ہوسکتی۔ اجرتیں بڑھانی ہوں گی۔ معیارِ زندگی بلند کرنا ہوگا۔ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم دینا ہوگا، ہاؤسنگ مہیا کرنی ہوگی۔ صحت کی سہولیات بہت وسیع کرنی ہوں گی، تعلیم اعلیٰ سطح تک مفت کرنی ہوگی۔ جنگ کو جرم قراردینا ہوگا۔ قبضہ گیری کے خلاف زیرو ٹالرنس دکھانی ہوگی۔ ماحولیات وموسم سے دوستانہ رہ کر انسانی بہبود کی مطابقت پیدا کرنی ہوگی۔
اور یہ سب کچھ تیز رفتاری سے کرنا ہوگا۔ کورنا سے بھی سبک رفتار۔
اس وبا کا ”ترقی یافتہ“ کیپٹلسٹ دنیا میں پھیل جانا بالخصوص تیز رفتار تبدیلیوں کا باعث ہوگا۔ اس لیے کہ وہ دنیا بہت بڑی قربا نیوں کے بعد موجود ہ سائنسی اور ٹیکنالوجیکل سطح تک پہنچ پائی ہے۔ چنانچہ وہ دنیا اپنی حاصلات سے بے حد پیار کرتی ہے۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ حاصلات اب بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کو ناکافی ہیں۔ مغربی دنیا اس میں خامیاں ڈھونڈے گی۔ وہ صرف صحت کے موجودہ نظام میں خامیاں نہ ڈھونڈے گی بلکہ انہیں پورے معاشی سیاسی نظام میں خامیاں نظر آئیں گی۔
اوروہ کیپٹلسٹ نظام کو سب سے بڑی خامی کے بطور پائے گی۔ وہ اس کا حل ڈھونڈ نے نکلے گی۔ متبادل کی تلاش ہوگی اور متبادل ممکن ہے۔ مگر ظاہرہے کہ کیپٹلزم کا متبادل کیپٹلزم تو نہیں ہوگا۔ متبادل تو کوئی ایسا نظام ہوگا، جوایٹمی اور وائرل جنگوں کا وارث نہ ہو، جو سفید فاموں، کرسچینوں اور مغرب کی امتیازی بالادستی سے پرے ہو، جس میں کمزور طبقات موجود نہ ہوں۔ بنی نوع انسان ایک ایسا متبادل ضرور تلاش کرے گا۔ وہ اُس کا کوئی نیا نام رکھے گا:
بچے کی معصوم مسکراہٹ جیسا نام!
سنگت کا اداریہ۔

