کورونا، اور اس کے بعد کی دنیا

عالمِ انسانیت ایک بہت بڑے بحران میں سے گزر رہا ہے۔ کورونا نامی وائرس نے بڑے پیمانے پر بیماری اور موت پھیلا رکھی ہے۔ یہ ہولناک دشمن نہ رنگ دیکھتا ہے، نہ نسل میں فرق کرتا ہے اور نہ کسی خاص زبان وعقیدہ رکھنے والے کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ انسان کی بنائی ہوئی سارے ”جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں“ کو ملیامیٹ کرتا ہوا نسل انسانی کو تباہ کرتا جارہا ہے۔ اس کا نہ کوئی علاج موجود ہے اور نہ ہر جگہ اس کا ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے۔ بار بار ہاتھ دھونے، جمگھٹے میں نہ جانے، معانقے و مصافحے سے گریزکرنے، گھر میں ہی رہنے، اور سراسیمگی سے بچنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سمجھیے ”تیسری عالمی جنگ“ ہے۔

ایک فرد، قوم اور ملک کی طرح کسی معاشی سماجی نظام کی اصلیت بھی اُس وقت دیکھی جاسکتی ہے جب اُس پہ کوئی آفت اور آزمائش آتی ہے۔

Read more