کیا پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا ہر لیڈر پاکستانیوں کو عظیم قوم قرار دیتا ہے اور اس کے ثبوت میں مشکل آنے پر عوام کے جذبہ ایثار کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کا سیلاب، اہل پاکستان نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی یادگار مثالیں قائم کی ہیں۔ اس لئے پاکستانی عوام ایک ایسی قوم ہیں جو بحران میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ کورونا وائرس کے حوالے سے بھی اسی خاصیت کا حوالہ دے کر امید کی جارہی ہے کہ پاکستان اس وبا کا مقابلہ بہتر طور سے کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان پاکستانی قوم کی ان خوبیوں کا متعدد بار ذکر کرچکے ہیں ۔ گزشتہ روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے جذبہ ایمانی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو موجودہ مشکل سےبچ نکلنے کا بہترین راستہ قرار دیا بلکہ ان کا خیال ہے کہ ان دو خوبیوں کے ہوتے پاکستان کو لاک ڈاؤن کرنے اور ملک کی 25 فیصد غریب آبادی کا روزگار ختم کرنے جیسا اقدام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عمران خان کی پارٹی مرکز کے علاوہ تین صوبوں میں حکومت کررہی ہے لیکن ان سب صوبوں میں لاک ڈاؤن جاری ہے حتیٰ کہ وزیر اعظم کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

 اس بات کی کوئی وضاحت موجود نہیں ہے کہ اگر ملک کا وزیر اعظم اور تین صوبوں میں حکمران جماعت کا چئیرمین لاک ڈاؤن کو کورونا وائرس کی روک تھام کا مؤثر اور تیر بہدف طریقہ نہیں سمجھتا تو کیا وجہ ہے کہ ان ہی کی حکومتیں اپنے ہی وزیر اعظم اور لیڈر کی مرضی و منشا کے برعکس فیصلے کررہی ہیں۔ کیا واقعی ملک میں جمہوریت اتنی راسخ اور ادارے اس قدر مستحکم ہوچکے ہیں کہ انتظامی معاملات میں صوبائی حکومتیں اور علاقائی انتظامیہ ضرورت کے مطابق فیصلے کرنے میں آزاد ہے؟ اس سوال کا کوئی براہ راست اور آسان جواب موجود نہیں ہے۔ اسی لئے یہ سرگوشیاں زبان زد عام ہیں کہ فوج وزیر اعظم کے نقطہ نظر سے متفق نہیں ہے ، اس لئے مقامی حکام کے ساتھ مل کر ملک میں ہر سطح پر لاک ڈاؤن کا اہتمام کرلیا گیا ہے۔

اس ایک پہلو کے علاوہ اس سنگین بحران میں قومی ڈائیلاگ کی کمی اور سیاسی قیادت کی طرف سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے ہتھکنڈوں سے اس حتمی رائے کی تردید ہوتی ہے کہ پاکستانی ایک ایسی قوم ہے جو منظم و مضبوط ہے اور مشکل وقت میں ایک لڑی کی طرح مل کر حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خاص طور سے اس موقع پر جس طرح پارلیمنٹ ’بے آواز‘ ہے ، اس سے بھی قومی یک جہتی و اتفاق کی بجائے انتشار ونفاق کی تصویر سامنے آتی ہے۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے پارلیمنٹ نے ایک منتخب ادارے کے طور پر کام نہیں کیا۔ حکومت نے اپوزیشن کو احترام دینے یا مسائل کے خاتمہ کے لئے ساتھ لے کر چلنے کو غیر ضروری سمجھا ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کی قیادت چونکہ بدعنوان ہے اور لوٹ مار میں ملوث رہی ہے ، اس لئے ان سے کسی معاملہ پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن کے چئیر مین اور ارکان کی نامزدگی کے حوالہ سے بھی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت کا آئینی فرض ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اپوزیشن نے ہی سرجھکا کر اس بحران سے نکلنے میں عافیت سمجھی لیکن حکومت نے ہر قسم کا تعاون کرنے سے انکار کیا۔

 اسی طرح گزشتہ اگست میں جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی مسلمہ آئینی حیثیت تبدیل کی اور وہاں کے عوام کو لاک ڈاؤن کے ذریعے گھروں میں بند کردیا تو عمران خان نے یہ لڑائی تن تنہا لڑنے کا قصد کیا اور ان کا خیال ہے کہ وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پر جوش تقریر اور ٹوئٹ پیغامات کے ذریعے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کی ۔ اس کے علاوہ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلانے کی خواہش سے مغلوب امریکی صدر نے جب عمران خان سے ملاقات ضروری سمجھی تو اس بات چیت میں انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرکے عمران خان اور ان کے حامیوں کو پروپیگنڈا کا مؤثر سیاسی ہتھیار فراہم کیا۔ بھارت نے ان تمام باتوں کو نظر انداز کیا اور مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہ راست مرکز کے کنٹرول میں دے دیا۔ ان میں سے جموں و کشمیر کی اسمبلی ہوگی لیکن لداخ کو اس حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت سے ہی کشمیر پاکستانی سیاست کی بنیاد رہا ہے۔ اسے پاکستان کی سلامتی و خارجہ پالیسی میں بھی کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لئے کشمیر کے مسئلہ پر تمام سیاسی و سماجی حلقوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ملک میں کوئی بھی حکومت رہی ہو لیکن ہر دور میں کشمیر کے مسئلہ پر ہونے والی ہمہ قسم پیش رفت میں سیاسی اتفاق رائے کی صورت پیدا کی جاتی رہی ہے۔ تاہم عمران خان پاکستانی تاریخ کے پہلے لیڈر اور وزیر اعظم ہیں جو اس مسئلہ پر تن تنہا بھارت کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور سیاسی اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کا مکالمہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ گزشتہ اگست میں نئی دہلی کی طرف سے کئے جانے والے فیصلوں نے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل اوراس پر بھارت کے تسلط کو مستحکم کیا ہے۔ یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان میں ہر سطح پر تعاون اور اتحاد کا مظاہرہ کیا جاتا۔ اگرچہ معاشرے کا ہر طبقہ اور تمام سیاسی جماعتیں بدستور کشمیر کے سوال پر بھارتی پالیسی کو مسترد کرتی ہیں لیکن اس سوال پر کوئی قومی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ کیوں کہ قوم اچھے اور برے، ایماندار اور بے ایمان میں تقسیم ہے اور ایسا کوئی معاملہ موجود نہیں ہے جس پر یہ ’اچھے و برے‘ مل کر بیٹھ سکیں۔

اس سال کے شروع میں آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ طے کرنے کے لئے جب آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسئلہ درپیش تھا تو یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ملکی سیاسی قیادت چونکہ فوج کو یکساں طور سے ’قابل احترام‘ سمجھتی ہے لہذا وہ مل کر اس معاملہ کا مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ ملکی جمہوریت کے بارےمیں پیدا ہونے والے شبہات بھی ختم ہوں اور منتخب اور غیر منتخب اداروں کے درمیان تصادم کی صورت بھی پیدا نہ ہو۔ یہ ایکٹ تو منظور ہوگیا۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے کسی بھی قسم کی مزاحمت یا اعتراض کرنے کی کوشش بھی نہیں کی لیکن وزیر اعظم عمران خان یا ان کے ساتھیوں نے اس پارلیمانی تعاون اور قومی یک جہتی پیدا کرنے پر اپوزیشن کا شکر یہ ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ عمران خان کے ایک قریبی ساتھی نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں فوجی بوٹ کو میز پر رکھ کر واضح کیا کہ اپوزیشن نے دراصل فوج کے خوف کی وجہ سے اس ایکٹ کی حمایت کی تھی۔ اس ترمیم کی منظور کے بعد دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں پر منتخب پارلیمنٹ کو ایک غیر منتخب ادارے کا حلقہ بگوش بنانے کا الزام بھی عائد ہؤا۔ نواز شریف اور مریم نواز پر ذاتی مفاد کے لئے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرےکو قربان کرنے کا طعنہ بھی کسا گیا۔ لیکن سیاسی افق پر تعاون اور یک جہتی کی کوئی فضا دیکھنے میں نہیں آسکی۔

نعروں سے قطع نظر پاکستانیوں کے ایک قوم ہونے کے بارے میں مختلف رائے بھی موجود رہی ہے۔ ’پاکستانی ایک عظیم المرتبت قوم ہے‘ کے بیان کو درست سیاسی بیانیہ کی حیثیت ضرور حاصل ہے لیکن معاشرہ کی ہر سطح پر اس کی صداقت پر اعتبار موجود نہیں ہے۔ 2005 کے زلزلہ اور 2010 کے سیلاب کے موقع پر لوگوں کی گرمجوشی اور متاثرین کے ساتھ تعاون کرنے کو قومی عظمت اور اتحاد کی مثال کے طور پر ضرور پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ان دونوں سانحات میں پاکستانی قوم جاپان یا چین کی طرح خود اپنے وسائل اور صلاحیت سے اس مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی؟ ان دونوں مواقع پر کثیر مقدار میں بین الاقوامی امداد وصول ہوئی تھی اور ان وسائل میں غبن، چوری اور غلط استعمال کی درجنوں کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ اس طرح دلیل دی جاتی ہے کہ قومی عظمت کے گیت گانا سیاسی مجبوری اور نرگسیت کی علامت تو ہو سکتی ہے لیکن اسے قومی اتحاد یا اعلیٰ انسانی خوبیوں کی مثال کے طور پر پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔

کووڈ۔19 کے بحران سے صرف پاکستان کے باشندے ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ دنیا کے دو سو کے لگ بھگ ممالک اپنے اپنے لوگوں کو اس آفت سے محفوظ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چین جیسے ملک نے قومی ڈسپلن یاآمرانہ نظام کی وجہ سے اس مشکل پر قابو پایا تو امریکہ اور یورپی ملکوں کے جمہوری نظام میں اختلاف رائے بھی دیکھنے میں آرہا ہے ۔ لیکن اہم فیصلوں پر ہر قسم کے طبقات سے مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے اور قومی فیصلوں کے بارے میں اختلاف دیکھنے میں نہیں آتا۔ پاکستان میں اس حوالے سے صورت حال بالکل مختلف ہے۔ وہاں نہ تو اس وبا کی ہلاکت کے بارے میں اتفاق ہے اور نہ ہی اس سے نمٹنے کے طریقوں پر ایک رائے ہے۔ حکومتی سطح پر بھی ہم آہنگی موجود نہیں ہے جس سے یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کون کیا فیصلہ کررہا ہے۔

کورونا کی وبا سے امیر غریب اور ہر علاقے کے لوگ یکساں طور سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس لئے اس مشکل میں خود اپنے دامن کو بچاتے ہوئے دوسرے کی مدد کا جذبہ ہی قومی یگانگت اور اتحاد کا ثبوت فراہم کرے گا۔ یہ وقت یقیناً گزر جائے گا لیکن اس بحران نے اہل پاکستان کو یہ سوچنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی قومی شناخت اور صلاحیتوں کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب تلاش کریں۔ یہ جواب تلاش کرنا یوں بھی بے حد اہم ہے کیوں کہ اس وبا کے ٹل جانے کے بعد سامنے آنے والے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے وسیع تر اتحاد، اتفاق رائے اور ہم آہنگی درکار ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1510 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *