ہٹلر۔ بحیثیت ایک مُصوّر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ کروڑوں مرد، خواتین اور بچوں کے قتل کا ذمہ دار اور ایک ظالم آمر کے طور پر عالمی شہرت رکھنے والا جرمن سیاستدان اور نازی پارٹی کا ہٹ دھرم رہنما ”ایڈولف ہٹلر“، جس کی پہچان ایک قوم پرست اور نسل پرست نظریاتی حکمران اور امتیازی سلوک اور خاتمے کی پالیسی کے روحِ رواں کی تھی، جس نے مختلف نسلی، سیاسی اور معاشرتی گروہوں کو منفی انداز میں متاثر کیا، وہی سابق جرمن چانسلر، ”ہٹلر“ ایک باصلاحیت مُصوّر بھی تھا۔ اسے مُصوّری کے تاریخ نویس، ایک ”مایُوس مُصوّر“ (فرسٹریٹڈ آرٹسٹ) کے طور پر یاد کرتے ہیں، اور آرٹ کے ناقدین یہ بھی کہتے ہیں، کہ اگر ہٹلر کی شُہرت اور شناخت کی وجہ خالصتاً مُصّوری بن جاتی، تو 20 ویں صدی کا سیاسی رنگ کچھ اور ہوتا۔

اس بات کا علم بہت کم لوگوں کو ہوگا، مگر یہ بات ”مین کیمپف“ نامی اپنی خودنوشت میں ہٹلر خود لکھتا ہے کہ اُسے اپنے بچپن ہی سے رنگوں سے بے انتہا شغف تھا اور اسے مُصوّر بننے کا شوق تھا۔ اسی لیے اس نے اپنے والد ”الوئس“ سے اسے ”کلاسیکل ہائی اسکول“ میں داخل کروانے کی فرمائش کی تھی، تاکہ وہ آگے چل کر ایک آرٹسٹ بن سکے، مگر ہٹلر کی یہ فرمائش اس کے ابّا نے یَکسر رد کردی، اور اسے سَن 1900 ء میں (جب ہٹلر کی عمر محض 11 برس تھی) آسڻریا کے شہر ”لِنز“ کے ”ریئل اسکول“ میں داخل کرادیا۔

ہٹلر اس حوالے سے اپنی کتاب میں واضح طور پر لکھتا ہے کہ، اُس نے اپنے والد سے جان بُوجھ کر بغاوت کرتے ہوئے، ”ریئل اسکول“ میں پڑھائی کی طرف کوئی خاص توجّہ نہیں دی، تاکہ اس کا شُمار کمزور طالب العلموں میں ہو اور اس کا نتیجہ اچھا نہ آئے اور اُس کا والد اسے اس ڻیکنیکل اسکول سے نکلوا کر، اس کی مرضی والے اسکول میں داخل کرائے اور اس طرح ہٹلر اپنا مُصوّر بننے والا خواب پُورا کر سکے، مگر ایسا نہیں ہوسکا اور ہٹلر اُسی اسکول میں ہی پڑھتا رہا اور اس کا ایک پیشہ ور مُصوّر بننے کا خواب پُورا نہ ہو سکا۔

ہٹلر نے آگے چل کر ویانا کی ”اکیڈمی آف فائین آرٹس“ میں داخلے کے لیے دو بار ( 1907 ء اور 1908 ء میں ) اپلائی بھی کیا، مگر دونوں بار داخلہ ٹیسٹ میں نمبر کم ہونے کی وجہ سے، ہٹلر اُس اکیڈمی میں داخلہ ملنے سے محرُوم رہا۔ حالانکہ بعد میں یہ بات شدّت سے محسُوس کی گئی کہ مصوّری میں ہٹلر کی ”انسانی اشکال“ (فگریٹِو) بنانے میں صلاحیت گوکہ اتنی خاص نہیں تھی، مگر ”تعمیراتی ڈرائنگ“ (آرکیٹیکچرل ڈرافٹس مین شپ) بنانے کے حوالے سے ہٹلر کی مصوّرانہ صلاحیتوں کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

1913 ء میں ہٹلر جرمنی چلا آیا، جہاں پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کی جانب سے ایک عام سپاہی کی حیثیت سے لڑا اور فوج میں اس لیے ترقی نہ پا سکا کہ افسران کے نزدیک اس میں قائدانہ صلاحیتوں کی کمی تھی۔ 1919 ء میں ہٹلر جرمنی کی ورکرز پارٹی کا رکن بنا، جو 1920 ء میں نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (نازی) کہلائی۔ 1921 ء میں وہ ”نازی“ پارٹی کا چیئرمین منتخب ہوا۔ 1930 ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں نازی پارٹی، جرمنی کی دوسری بڑی پارٹی بن گئی۔

یہ پینڻنگ اڈولف ہٹلر کی تخلیق شدہ ہے، جس میں اس کی ڈرائنگ سمیت اس کی پینڻنگ (رنگوں کے ذریعے اظہار کرنے ) کی صلاحیتوں کو بھی اچھی طرح محسُوس کیا جا سکتا ہے۔

ہٹلر کی ایک مُصوّر (آرٹسٹ) کے طور پر شناخت کے بارے میں جاننے کے بعد ہر حساس ذہن میں یہ سوال ضرُور اُبھرتا ہے کہ ایک مُصوّر کے طور پر ہٹلر کی دل گُدازی کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تو کیا ایسا تو نہیں ہے؟ کہ اپنے دور کے مؤرخین نے ہمیں ہٹلر کی شخصیت کا صرف ایک رُخ دکھایا ہے اور ہمیں اُس کی ذات کے حساس رُخوں سے بے خبر رکھا ہے؟ اور کیا ایسا سمجھا جا سکتا ہے؟ کہ اگر 1900 ء میں ہٹلر کا والد اسے، اُس کی مرضی والے اسکول میں داخل کراتا، تو بیسویں صدی کو ہٹلر، ایک ظالم حکمران اور جنگجُو کے طور پر نہیں، بلکہ ایک حساس مُصوّر کے طور پر مل سکتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *