مسولینی کی یرغمال سلطنت اور وبا کا سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کی تمثیل کے مناظر شاذ ہی لکھے ہوئے اسکرپٹ کے مطابق کھلتے ہیں۔ مولا علی کا قول تو ہم سب نے سن رکھا ہے، میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے فسخ سے پہچانا۔ علی مرتضیٰ علم کے شہر کا دروازہ تھے۔ ہم کوتاہ قدم اور کم نظر ان کی بصیرت کی تھاہ کو کیا پہنچیں گے۔ مگر ایسا ہے کہ ہم صدیوں کی پاکوبی میں ان گنت تجربات سے گزرے، واقعات کی بنتی بگڑتی ترتیب کا مشاہدہ کیا۔ تاریخ کا ہر چرکا ہمارے فگار دلوں کی لوح پر درج ہے۔ آنکھ کی پتلی میں فرد کی بے ثباتی اور تاریخ کے بے کنار سمندر کی کشمکش محفوظ ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ فرد اپنے محدود معروض کے تابع ہے۔ مطلق العنان فرد واحد ہو یا طالع آزماؤں کی ٹولی، اقتدار کے عزائم ایک مخصوص تناظر میں نمو پاتے ہیں اور واقعات کا ایک ناگزیر دائرہ مکمل کرتے ہوئے فراموشی کی دھند میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ہم جیسے بے چہرہ پیادے پرکاہ کی مانند منہ زور لہروں پر بہتے فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ کہیں صدیوں میں کوئی صاحب بصیرت نمودار ہوتا ہے کہ اپنے گیان کی وسعت کو خیال اور ہنر کی صورت دے کر آنے والی نسلوں کے لئے روشنی کا سامان کر دیتا ہے۔ کنفیوشس ایسا ہی ایک عبقری تھا۔ صدیوں بعد آنکھ ابن خلدون اور لیونارڈو ڈاونچی پر ٹھہرتی ہے۔ عمر خیام کی رباعیات محض سنگھار رس کی حکایت تھوڑی ہیں۔ آشوب زمانہ کے مقابل روح انسانی کی مقاومت کا رزمیہ ہیں۔ امیر خسرو نے اپنے کلام کے جس حصے کو انمل کا نام دیا، اس سے زیادہ مربوط تو علم ریاضی کا کوئی کلیہ نہیں ہو سکتا۔ اہل یورپ نے بیسویں صدی میں وجود کی معنویت اور لایعنیت کی بے مقدوری پر نظر کی۔ ابوالحسن امیر خسرو نے تیرہویں صدی میں بات نمٹا دی تھی، لا پانی پلا۔

ہمارے خسروئے وقت کسی قدر نازک مزاج واقع ہوئے ہیں۔ تیکھی بات کا یارا نہیں رکھتے۔ لکھنو کے نواب سعادت علی خان کی طرح دل میں بال آ جاتا ہے۔ اس غبار کو دور کرنے کے واسطے ایک طائفہ دشنام مرتب کر رکھا ہے۔ جہاں پناہ کے اشارے پر حرکت میں آنے والے ان مغبچوں کے بارے میں محمد حسین آزاد نے لکھ رکھا ہے کہ ’شرم کی آنکھیں بند اور بے حیائی کا منہ کھول کر وہ بے نقط سناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔‘ صحافی غریب تو تہی کیسہ مخلوق ہے۔ قلم رکھتا ہے لیکن کلک نکتہ آفریں نادیدہ زنجیروں کی جکڑ میں ہے۔ تس پر ظل سبحانی فرماتے ہیں کہ اس ملک میں صحافت کو بے لگام آزادی میسر ہے۔ بجا فرمایا پیر و مرشد، نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔ ازمنہ وسطیٰ کے ایک حاکم سے منسوب ہے کہ ’میری رعایا آزاد ہے اور اسے آزادی سے محبت کرنے کا حکم ہے‘۔ اسی اشارہ غیبی سے تحریک پا کر آج طوطی ہند امیر خسرو کے اتباع میں کچھ انمل کہنے کا ارادہ ہے۔ تو چلیے بیسویں صدی کے اطالوی فاشسٹ ڈوچے مسولینی کا کچھ ذکر رہے۔

1942 کا موسم خزاں آتے آتے یہ بات کھل چکی تھی کہ جنگ کا دیوتا ماسکو کے برفیلے کیچڑ سے گزرتا ہوا اتحادیوں سے جا ملا ہے۔ اس ہزیمت میں جرمن فوج کے ہمراہ اطالوی سپاہ بھی شریک تھی۔ العالمین کے محاذ پر فیلڈ مارشل رومیل نے تاریخی جملہ کہا کہ جرمن فوج نے دنیا کو حیران کر رکھا ہے لیکن اطالوی سپاہیوں نے جرمن فوج کو ششدر کر دیا ہے۔ جنگیں مگر سپاہیوں کی بہادری سے نہیں، بہتر اسلحے، اہل عسکری کمان، مالی وسائل اور مدبر سیاسی قیادت کے بل پر جیتی جاتی ہیں۔ اٹلی کو شکست ہوئی۔ ادھر سسلی کے جنوبی ساحلوں پر اتحادی فوج اتر آئی تھی۔ پے در پے شکست نے مسولینی کی آنکھوں میں وہ جوت ماند کر ڈالی جس نے کبھی اقبال کو مسحور کیا تھا۔ وہ کہ ہے جس کی نگہ مثلِ شعاعِ آفتاب….

بالآخر جولائی 1943ءمیں اطالوی پارلیمنٹ اور بادشاہ نے باہم گٹھ جوڑ سے مسولینی کو معزول کر کے نظر بند کر دیا۔ اتفاق سے مسولینی کو 25 جولائی کو گرفتار کیا گیا۔ براہ کرم 25 جولائی کی رعایت سے توسن خیال کو مہمیز کرنے سے گریز فرمائیں۔ 12 ستمبر کو جرمن فوج کے ایک دستے نے مسولینی کو بازیاب کر کے ہٹلر کے حضور پیش کر دیا۔ ہٹلر نے از رہ خراج اپنا حصہ منہا کر کے باقی اٹلی پھر سے مسولینی کو سونپ دیا۔ سلطنت روما کی عظمت رفتہ کے احیا کا خواب دیکھنے والا مسولینی واپس روم پہنچا تو اٹلی کے ایک حصے پر پیٹن اور مونٹگمری دندنا رہے تھے، ایک ٹکڑا جرمنی نے ہتھیا لیا تھا۔ کچھ حصہ سپاہ مزاحمت کے زیر اختیار تھا۔ مسولینی کو اپنی کٹھ پتلی حیثیت کا پورا احساس تھا۔ مانگے تانگے کی اس حکومت میں مسولینی کی واحد مصروفیت اپنے مخالفین سے انتقام لینا تھی۔ جنوری 1945 میں اس نے ایک انٹریو میں کہا کہ ’میں اب اس ناٹک کا کردار نہیں رہا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اس پنڈال کا آخری تماشائی ہوں جو المیہ ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے‘۔ یہ المیہ 29 اپریل 1945 کو میلان کے ایک چوراہے میں اختتام پذیر ہوا۔

انمل کا پہلا حصہ ختم ہوا۔ دوسرے حصے میں امریکی مصنف، جان ایم بیری (John M. Barry) کا تعارف کرانا ہے۔ صحت عامہ، قدرتی آفات اور وبائی امراض کے بارے میں پالیسی امور کے ماہر ہیں۔ 2004 میں The Great Influenza کے عنوان سے ایک شہرہ آفاق کتاب لکھی جس میں 1918 کے انفلوئنزا وائرس کی تفصیلی کیس ہسٹری کی مدد سے وباو ¿ں کے موسم میں حکومتوں کے کردار کا تجزیہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ دو برس تک دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والی اس وبا سے 50 کروڑ افراد متاثر ہوئے اور پانچ کروڑ اموات واقع ہوئی تھیں۔ دنیا کی کل آبادی تب دو ارب بھی نہیں تھی اور پانچ سالہ عالمی جنگ میں مرنے والوں کی کل تعداد دو کروڑ تھی۔ جان ایم بیری کہتے ہیں کہ وبائی امراض کے دوران عوام اور حکومت میں بامعنی تعاون کی ایک ہی صورت ہے کہ حکومت عوام سے سچ بولے۔ عوام میں غیرضروری ہیجان کا عذر تراش کر یا اپنی کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے جھوٹ کا سہارا نہ لے۔ وبائی امراض پر قابو پانے کے لئے عوام کا حکومت پر اعتماد کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ امیر خسرو نے مسولینی کی یرغمال حکومت اور کورونا کی وبا میں ہمارے لئے ایک انمل رکھ دی ہے۔ ساکھ اور اعتماد تو اسمائے صفت ہیں۔ ہم تو موصوف کی تلاش میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *