خان صاحب سے گزارشات


محمد خرم صدیقی

\"khurram\"اگر دیکھا جائے تو میں اپنے اگلا ایک آدھ گھنٹہ برباد ہی کرنے جارہا ہوں، کیوں کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میں اس بیانیے میں جو کچھ لکھوں گا، نہ تو عمران خان کا اس پر کچھ اثر ہونے والا ہے، نا ہی ان کے چاہنے والوں پر، لیکن پھر بھی کوشش کرکے دیکھنے میں کچھ حرج نہیں ۔ شاید میری تحریر میں کوئی ایسی دلیل یا بات ہو جو اس سے پہلے ان لوگوں نے نہ دیکھی سنی ہو اور وہ پڑھ کر شاید کچھ سوچنے ہی پر مجبور ہو جائیں۔ میرے نزدیک عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے طرز فکر میں کچھ بنیادی نقائص ہیں ۔ آئیے ان پر اور ان کے جوابی دلائل پر غور کرتے ہیں۔

بری جمہوریت کا علاج بزور طاقت حکومتی تبدیلی ہے!
عمران صاحب آپ کو اپنے ہر بیان میں ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں کچھ کر گزرنے کی بات کرتے نظر آئیں گے۔ یعنی آپ نے ان کے منہ سے اکثر سنا ہو گا، موجودہ حکمرانوں نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، تعلیم کی زبوں حالی بھی اسی حکومت کے دور میں سب سے زیادہ ہوئی ہے، صحت کے معاملات تو اب ٹھیک ہوہی نہیں سکتے، امن امان کی بربادی کے ذمہ دار لوگ ہم پر حکومت کررہے ہیں۔ تازہ ترین یہ کہ حکمران بدترین کرپشن کا شکار اور ملک ڈبونے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں وغیرہ۔
عمران خان صاحب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ تمام مسائل نہ تو چند دنوں میں پیدا ہوئے اور نا ہی ان مسائل کا حل چند دنوں میں نکل سکتا ہے۔ یہ تمام مسائل دہائیوں سے رائج ہماری غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور ان کا حل بھی مہینوں نہیں برسوں ہی میں ممکن ہے۔ (یاد رہے وہ مسائل نوے دنوں میں حل کرنے کا بھی کہہ کرمکر چکے ہیں) مزید برآں یہ کہ یہ تمام مسائل وہ ہیں جنھیں سیاسی جماعتیں انتخابات لڑ کر حکومت میں آنے کے بعد حل کرنے کا وعدہ کرکے آتی ہیں اور الیکشن ہی وہ فورم ہے کہ جہاں اس طرح کے مسائل پر گفتگو، اس کے حل کے لیے لائحہ عمل کا تعین اور ایک طرح سے اس کی عوامی منظوری لی جاتی ہے۔ اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے الیکشن کے کچھ عرصے بعد ہی افراد اور حکومتوں کی بساط لپیٹ دی جائے، ایسا نہ تو کسی جمہوری معاشرے میں ممکن ہوتا ہے اور ناہی اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ بری جمہوریت کا علاج پالیسیوں پر تنقید، ان کی اصلاح کی کوشش اور اچھی جمہوریت لانے ہی سے ممکن ہے اور بس۔

مسلسل اور بزورطاقت احتجاج اپنی بات منوانے کاسب سے موثرطریقہ ہے!
عمران خان اور ان کی پارٹی الیکشن 2013ء کے کچھ عرصے بعد ہی سے احتجاجی سیاست کرتی آئی ہے۔ پہلے دھاندلی کا نعرہ لگا کر پھر دیگر پارٹیوں سے چپقلش کے نام پر اور پھر پاناما لیکس کے ایشو پر پی ٹی آئی نے احتجاج کو مین اسٹریم پالیٹکس میں آخری آپشن کے بجائے پہلے ہتھیار کے طور پر آزمانے کی روایت ڈالی ہے، جسے کسی طرح بھی مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب کبھی کراچی اور کبھی اسلام آباد، پی ٹی آئی نے کئی بار مختلف شہروں کو بزور طاقت بند کرنے، شہریوں کی زندگی میں رکاوٹ ڈالنے اور عام کاروبار کی زبردستی بندش کی کوشش کی ہے اور اسے اپنا آئینی حق گردانا ہے۔ اس روش کی بھی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی۔ احتجاج یقیناً سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہوتا ہے، لیکن صرف اس وقت تک جب وہ حق دوسروں کے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم نہ ہو۔ اپنے حق کے لیے ہم کسی دوسری شہری کی زندگی عذاب میں نہیں ڈال سکتے نہ اس سے کاروبار اور آمدورفت کا حق بزور طاقت چھین سکتے ہیں۔ سیاسی احتجاج کارکن یا عوام رضاکارانہ طور پرکرتے ہیں نا کہ زبردستی۔ دوسری جانب سیاست میں بہرحال گفتگو اور مصالحت کی گنجائش رکھنا پڑتی ہے اور یہی چیز سیاست کو فاشزم اورآمریت سے ممتاز بناتی ہے۔ یہی جمہوریت کا چلن ہے۔

الزام لگاؤ پھربھول جاؤ!
نجم سیٹھی ہوں، سابق چیف جسٹس یا کوئی اور۔ عمران خان اور ان کی پارٹی نے بہت سے لوگوں کے بارے میں ایسے دعوے کیے، جن کے ہزار بار دہرائے جانے پر گویا یقین کا سا گماں ہونے لگا تھا۔ وہ تمام دعوے الزامات کی ایک سے بڑھ کر ایک قسم ثابت ہوئے کہ جس نے ثبوتوں کا منہ نہ دیکھا۔ کوئی الزام محض \’\’سیاسی بیان\’\’ نکلا اور کچھ عدالتوں میں جا کر وہیں کے ہو رہے۔ ایسا انھوں نے مختلف اداروں اور ان کے سربراہان کے بارے میں بھی کیا اور پھر اپنی سہولت سے اسے \’\’بھول\’\’ گئے۔ ایف بی آر، پنجاب پولیس، نیب ،الیکشن کمیشن غرض آپ ذہن پر زور دیتے جائیے اور اس طرح کے کئی ادارے اور حضرات آپ کو یاد آئیں گے، جو کہ وقتاً فوقتاً خان صاحب کے نشانے پر رہے، لیکن اب وہ شاید ان کے نام بھول چکے ہیں یا ان کو \’\’نئے نشانے\’\’ مل چکے ہیں۔ یہ بات بہر طور یاد رکھنے اور ذہن نشین کرنے والی ہے، کہ اس طرح کے سنگین الزامات نہ تو آپ اتنی فراوانی سے لگا سکتے ہیں ناہی اپنے سامنے اٹھنے والی ہر آواز کو، آپ ان الزامات تلے دبا سکتے ہیں۔ کیوں کہ ہر بات اور الزام کا بہر حال اپنا وزن ہو تا ہے اور اس طرح دھڑلے سے ہر وقت، ہر کسی پر الزام لگانے سے نہ صرف آپ وہ وزن کھو بیٹھتے ہیں، بلکہ ایک وقت وہ آتا ہے کہ آپ کی کسی بھی بات کو کوئی اثر لینے کے لائق نہیں سمجھتا۔ کسی بھی سیاسی رہ نما کے لیے اس طرح کا تاثر، سیاسی موت کے مترادف ہوتا ہے۔

حکومت میں ہو کر خود کو اپوزیشن سمجھنا!
اس بات میں کچھ کلام نہیں کہ خان صاحب صرف اپوزیشن کی سیاست جانتے ہیں۔ ان کی طرز سیاست پر بہت بات کی جاسکتی ہے، لیکن ان کی موجودہ سیاسی بصیرت سمجھ سے باہر ہے۔ ان کی باتیں، ان کے اقدامات اور ان کی سیاسی چالیں، ہمیں اس بات کا احساس ہونے ہی نہیں دیتیں کہ پی ٹی آئی پاکستان کے ایک صوبے میں حکمراں ہے۔ اگر ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا کے حالات میں بہتری لانے کے لیے پانچ سال کا عرصہ ملا ہے اور اس عرصے، درست حکمت عملی اور حکومتی مشینری کا موثر استعمال، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہے کہ 2018ء میں بھی خیبر پختونخوا میں انھی کی حکومت ہو۔

یہ کچھ گزارشات تھیں جو میں خان صاحب اور ان کے احباب سے کرنا چاہتا تھا۔ یقیناً میری یہ رائے حرف آخر نہیں اور یقیناً اس پر مزید گفتگو بھی کی جاسکتی ہے۔ ابھی کے لیے صرف اتنا ہی، وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ ا ن باتوں میں دیگر افراد اور جماعتوں کے سوچنے سمجھنے کے لیے بھی کافی مواد موجود ہے۔ اگر کوئی سوچنا سمجھنا چاہے تو۔

Facebook Comments HS