میں ناچ کیوں نہیں سکتی؟


مجھے ہمیشہ سے ایسا لگتا ہے کہ میں غلط جگہ پیدا ہوئی ہوں۔ شاید مجھے کسی ایسے خطے میں پیدا ہونا تھا جہاں ہر شخص کو اپنے دل کی آواز سننے کی آزادی ہوتی ہے۔ زمین کا ایسا ٹکرا جہاں میں خود کو مجبور نہ سمجھتی۔ مجھے ایسا لگتا ہے جو آزادی میری روح کو نصیب ہے، ویسی آزادی میرے جسم کو حاصل نہیں ہے۔ میری روح کی پرواز کو میرے جسم کی بیڑیاں اپنی طرح محصور کرنا چاہتی ہیں معاشرے کے اُن گُھٹن زدہ رواجوں میں جہاں کوئی اپنی مرضی سے سانس لے تو راندہ درگاہ شمار کیا جائے۔

موسیقی کی دُھن سن کر خود پر قابو رکھنا میرے لیئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے رقص میری رگوں میں دوڑتے خون کی طرح میرے اندر موجود ہے۔ مگر کسی بھی تقریب میں ناچتی گاتی لڑکیاں یا تو یہاں کنجریاں ہوتی ہیں یا مراسنیں اور ایسی "نازیبا” حرکتیں کرنے والیاں نا صرف اپنے گھر والوں بلکہ اُن کے لئے بھی "تذلیل” کا باعث بنتی ہیں جن کے ساتھ وہ کام کرتی ہیں۔ رکھ رکھاؤ، تمیز اور تہذیب جیسے الفاظ مجھے ناجانے کیوں سب لڑکیوں کے کاندھوں پر بھاری بوجھ کی طرح لگتے ہیں جس کے نیچے دب کر اُن کے سارے خواب ہی مر جاتے ہیں۔

حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم میں سے بہت سی عورتیں اکثر تصاویر صرف اس لئے اپ لوڈ نہیں کر سکتی کیونکہ "اچھی لڑکیاں” ایسی ناچتی گاتی تصاویر نہیں بنواتی ہیں۔ یقین کریں میڈیا سے تعلق رکھنے والے بے شمار مرد حضرات جیسی چاہیں تصاویر لگاتے ہیں مگر خواتین رپورٹرز سہیلیوں کے ساتھ بھی تصویر لگا لیں تو طوفانِ بد تمیزی سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب لوگ رقص کرتی خواتین کے بارے میں واہیات باتیں کرتے ہیں مگر مردوں کو بے شمار پذیرائی ملتی ہے۔ بدن کے بجرے کو سُر کی پتوار سے ہم آہنگ کرنا ایسا غلط تو نہیں۔ غلط کیا ہے اس میں؟ جسم غلط ہے یا جسم کی حرکت غلط ہے؟ یا ان دو کے ایک تال پر جھومنے سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے، وہ خوشی غلط ہے؟ اپنے وجود کو موسیقی کی دُھن سے ہم کنار کرنے میں کیا برائی ہو سکتی ہے؟ لوگوں کو اُن کی فطری آزادی کے ساتھ جینے دیں۔

والٹیئر نے کہا تھا

انسانوں کو کتاب پڑھنے دو اور انہیں ناچنے دو۔ کتاب اور رقص سے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

آج میں سوال کر رہی ہوں۔

کل میرے جیسی بہت سی بیٹیاں سوال کریں گی

"میں ناچ کیوں نہیں سکتی؟”

Facebook Comments HS

3 thoughts on “میں ناچ کیوں نہیں سکتی؟

  • 03/11/2016 at 3:55 صبح
    Permalink

    I agree with Hammad Barlas Sahib

  • 03/11/2016 at 11:47 صبح
    Permalink

    I agree with you.. You and everyone else have every right to do whatever he/she thinks right. But why you not accept / approve others to think / say / express their opinion about anything is being done. Is it not freedom of expression to have opinion about anything. There are people who sing and dance.. but at there are people too who don’t sing or dance or even like it. On what premise, one has to do whatever wanted to… but other don’t have right to have opinion on it.. !

  • 04/11/2016 at 2:04 شام
    Permalink

    ہر بالغ انسان کو سوچ اور عمل کی آزادی ہے اور ہر انسان اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتا ہے۔ رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر بچہ فطرت صحیہ پر پیدا ہوتا ہے اور پھر اسکے ماں باپ اسکو مسلمان، یہودی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ انسان کے کردار اور عمل میں معاشرتی روایات کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ انسان بعض باتیں نہ چاہتے ہوئےیا پھر نہ کرنے کی توفیق ہوتے ہوئے بھی صرف معاشرے میں اچھا مقام حاصل کرنے کیلئے کرتا ہے۔ اسکی ایک مثال شادی بیاہ کی رسوم ہیں جہاں انسان اپنی حثیت کو بھلا کراور سنتِ نبوی کو بالائے طاق رکھ بھی خرچ کرتا ہے۔ بعض لوگ بہت کنجوس ہوتے ہیں لیکن دوسروں کو دکھلانے کیلئے بہت مہمان نوازی کرتے ہیں۔ اس طرح انسان کو بعض اوقات صرف معاشرتی قیعود کی وجہ سے بعض باتوں سے رکنا بھی پڑتا ہے۔
    آپ جس معاشرے میں پیدا ہوئی ہیں اس میں عورتوں کے ناچنے کو برا خیال کیا جاتا ہے کیونکہ عورتوں کے ناچنے کی ابتداء مردوں کو خوش کرنےکیلئے ہوئی تھی اورانہیں اس کام کا معاوضہ ملتا تھا۔ اگر آپ مسلمان ہیں تو پھر محسن انسانیت ﷺ نے اسلامی معاشرہ میں عورت کو مردوں کے دل بہلاوے کے مقام سے اٹھا کر تخت پر بٹھا دیا اور ایسی تمام باتیں منع فرمادیں جن کے ذریعے غیر مرد نامحرم عورتوں سےتسکین اور دل کا بہلاوہ حاصل کرتے تھے اور اسکی ابتداء رقص سے ہوتی تھی۔
    اب اگر آپ ان روایات اور تعلیمات کے برعکس رقص کرنا چاہیں تو آپکو کوئی روک نہیں سکتا لیکن معاشرہ کی سوچ اور روایات کو نہیں بدلا جاسکتا۔ آپ اپنے عمل میں آزاد ہیں۔

Comments are closed.