خاطر جمع رکھیں، دنیا ختم نہیں ہورہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمین سے زندگی پانچ طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ ہے کہ کوئی آوارہ گرد سیارہ زمین سے ٹکرا جائے اور سب کچھ فناہ کر دے، ایسا آج سے 66 ملین سال پہلے ہو چکا ہے جب خلا سے ایک شہاب ثاقب گھومتا گھامتا آیا تھا اور زمین سے ٹکرا گیا تھا، اِس کے نتیجے میں زمین پر موجود تین چوتھائی مخلوق ختم ہو گئی تھی جن میں ڈائنو سار بھی شامل تھے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ زمین اِس قابل ہی نہ رہے کہ یہاں زندگی پنپ سکے، ماحولیاتی آلودگی اِس سطح پر پہنچ جائے کہ ہمارے شہر سمندر میں ڈوب جائیں، تین کروڑ آبادی کا شہر جکارتہ ڈوبنا شروع ہو چکا ہے، گلیشئر پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اگر یہ سب کچھ بغیر روک ٹوک جاری رہا تو زندگی اِس کرہ ارض سے ناپید ہو سکتی ہے۔

تیسرا امکان یہ ہے کہ عالمی جنگ چھڑ جائے جس کے نتیجے میں دنیا کے جنونی حکمران ایک دوسرے پر ایٹم بم برسا کر انسانیت کو ملیا میٹ کر دیں۔ چوتھا امکان یہ ہے کہ انسان کوئی ایسی تباہ کُن مشین ایجاد کرلے جو خود کار ذہانت کے تابع ہو اورپھر کسی وجہ سے اُس کی مصنوعی ذہانت کاکنٹرول انسان کے ہاتھ سے نکل جائے جس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو روکا نہ جا سکے۔ پانچواں طریقہ جس سے زندگی ہر صورت اِس زمین سے ختم ہو جائے گی یہ ہے کہ قیامت آ جائے۔ کرونا وائرس سے زندگی کا خاتمہ، بہرحال، اِن پانچوں طریقوں میں شامل نہیں ہے، سو خاطر جمع رکھیں، دنیا ابھی ختم نہیں ہو رہی، انگریزی میں جسے کہتے ہیں
Surely، this is not end of the world۔

جس روز کرونا کا پہلا مریض منظر عام پر آیاتھا اُس کے ایک ہفتے کے اندر اندر انسان نے معلوم کر لیا تھا کہ یہ کرونا وائرس کی نئی قسم COVID 19 ہے، پہلے جب وباؤں سے لوگ مرتے تھے تو کئی سو سال تک مرنے کی وجہ ہی معلوم نہیں ہو پاتی تھی، آج ایسا نہیں ہے، جس تیز رفتاری اور بڑے پیمانے پر کرونا وائرس کے علاج کے بارے میں تحقیق ہو رہی ہے اُس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ کرونا کے مقابلے میں انسان کو یہ برتری بھی حاصل ہے کہ کرونا کے پاس دماغ نہیں ہے جبکہ انسان کے پاس خدا کی ودیعت کردہ عقل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اِس وائرس پر جلد یا بدیر قابو پا لیا جائے گا، سوال صرف یہ ہے کہ یہ وبا ختم ہونے میں کتنا وقت لگے اور اس دوران دنیا پر کیا بیت چکی ہوگی۔ چلیں تصویر کا مثبت رُخ دیکھتے ہیں۔ آج کی تاریخ تک امریکہ، اٹلی، سپین، فرانس، جرمنی، سویٹزر لینڈ، برطانیہ، ہالینڈ اور بیلجیم میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 29,295 ہے، یہ دنیا میں ہونے والی کل اموات کا 77.4 %ہے، اگر ہم اِس میں ایران کی 2,757 اور چین کے اعداد و شمار پر یقین کرتے ہوئے اُس کی 3,305 اموات شامل کر لیں تو یہ کُل ملا کر 35,357 بنتے ہیں جبکہ باقی دنیا میں اب تک کُل اموات 2,520 ہیں۔

اگر ہم مزید باریکی میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں، جہاں ایک ارب ستر کروڑ لوگ رہتے ہیں، اب تک کرونا سے صرف 62 اموات ہوئی ہیں، اسی طر ح افریقہ کے اعداد و شمار بھی ملتے جلتے ہیں، وہاں بھی اب تک یہ وائرس اُس طرح نہیں پھیلاجیسا یورپ امریکہ میں پھیلا ہے۔ اِس سے پہلے کہ میں اِن اعداد و شمار کی بنیاد پر کوئی دعوی کروں، ایک فلم کا مکالمہ سنا دوں۔

رنبیر کپور کی فلم ’راکٹ سنگھ، سیلز مین آف دی ائیر‘ میری پسندیدہ فلموں میں سے ایک ہے (آج کل فرصت ہی فرصت ہے دیکھ ڈالیں ) ، اس فلم کے ایک سین میں رنبیر کپور کمپیوٹر کی دکان سے ہارڈ ڈسک کی کوٹیشن لیتا ہے، دکاندار کوٹیشن دیتے ہوئے کہتا ہے ’سردار جی، یہ آج کا ریٹ ہے، یہاں دنیا روز ایسے ایسے ایسے بدلتی ہے، کسی بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ ‘ سو، آج جس تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اُس میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں اور نہ ہی میرے پاس وائرولوجی یا وبائی امراض کی کوئی ڈگری ہے، مگر آج کے اعداد و شمار یہ بتا رہے ہیں کہ یہ وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں الگ طریقے سے اثر دکھا رہا ہے۔

فی الحال یہ ایک اچھی خبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اگلے پندرہ دنوں میں ہمارے جیسے ملکوں میں اموات کی شرح غیر معمولی طریقے سے نہ بڑھی تو پھر کرونا وائرس کے بارے میں تحقیق کا ایک نیا پہلو سامنے آ جائے گاجس میں یہ پتا چلانا پڑے گا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اِس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ ہر وائرس پھیلنے کے لیے مخصوص ماحول درکار ہوتا ہے، ممکن ہے ہمارا جسم اِس وائرس کے لیے اچھا ’میزبان‘ ثابت نہ ہورہا ہو، ہم جیسے غریب ممالک جہاں پہلے ہی لوگ ملیریا اور دیگر وباؤں سے نبرد آزما رہے ہوں وہاں لوگوں میں ایسا مدافعاتی نظام پیدا ہو نا بعید از قیاس نہیں جواِس کرونا وائرس سے بھی لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہر وائرس کی طرح کرونا بھی میوٹیشن کے نتیجے میں کمزور ہو گیا ہوجس کی وجہ سے اِن ممالک میں شرح اموات کم ہو رہی ہوں۔ ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ دنیا میں جس تیزی سے اِس وائرس پر کام ہو رہا ہے اسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اِس کا کوئی نہ کوئی علاج (ویکسین نہیں ) جون جولائی تک دریافت ہو جائے گا جس سے کم از کم لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ تیسری اچھی خبر ہم جیسے غریب ملکوں کا موسم ہے، بے شک یہ بات ابھی ثابت نہیں ہو سکی، مگر قیاس ہے کہ شدید گرمی میں شاید اِس وائرس سے چھٹکارا مل جائے، گو کہ تحقیق کے تمام سائنسی ادارے ابھی ایسی کوئی بھی بات کرنے کی حتمی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

چوتھی اچھی خبر یہ ہے کہ اِس وائرس کی ویکسین بہر حال ایک سال کے اندر اندر آ جائے گی کیونکہ یہ کوئی نیا وائرس نہیں، یہ کرونا فیملی کا ہی ایک وائرس ہے اور اِس سے پہلے سارس اور مرس بھی کرونا وائرس کا ہی کارنامہ تھے، ظاہر کہ یہ بیماریاں اب تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ اور پانچویں اچھی خبر یہ ہے کہ انسان کو عالمی سطح پر اس بات کا کچھ نہ کچھ احساس ضرور ہے کہ وائرس کا خاتمہ کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں، یہ پوری انسانیت کی ذمہ داری ہے، ایسے میں اِس وائرس کا شکست کھانا صرف کچھ وقت کی بات ہے۔

یہ تمام اچھی خبریں میں نے اِس لیے نہیں سنائیں کہ آپ احتیاط چھوڑ کر گھرو ں سے نکل کر پٹھورے کھانے چل پڑیں، احتیاط بے حد ضروری ہے کیونکہ کرونا وائرس جب پھیلتا ہے تو پھر دنوں میں مرنے والوں کی تعداد دگنی اور تگنی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اگلے پندرہ دن بے حد اہم ہیں، اگر ہم نے سماجی دوری کی احتیاط جاری رکھی اور خود کو گھروں میں ہی محصور رکھا تو شاید ہمارے ملک میں یہ وبا پھیلنے سے رُک جائے۔

یاد رکھیں، جو لوگ ایک دوسرے کو ڈرپوک ہونے کے طعنے دے رہے ہیں یا گھر میں بیٹھنے کو حماقت سمجھ رہے ہیں وہ یہ جان لیں کرونا سے ہونے والی موت کوئی عام موت نہیں بلکہ شدید اذیت کی موت ہے جس میں انسان سانس لینے کے قابل نہیں رہتا اور اسے لگتا ہے کہ اُس کے پھیپھڑوں میں کوئی شیشے سے زخم لگا رہا ہے، وینٹی لیٹر اس کی آخری امید ہوتی ہے۔ موت کا بے شک ایک دن معین ہے مگرگھر سے باہر نکل کر اذیت ناک موت خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں!

ہم سب کے لیے خصوصی طور پر ارسال کردہ تحریر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 90 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *