ہرے لوٹے سے دین کو خطرہ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدرتی آفات میں جب بھی زندگی کو خطرات لاحق ہوئے ہماری معصوم، ایماندار، با اخلاق اور انسانیت کا درد رکھنے والی عوام کی اکثریت نے اسے اللہ کے عذاب سے تعبیر کیا، اللہ کا عذاب ہمیشہ عورت کی بے حیائی کی وجہ سے آیا۔ پھر سینما کی فلمیں اور بے ہو دہ گانوں نے الگ، اللہ کے قہر کو دعوت دی، اور اب کرونا نے جس طرح غدر مچایا ہے اس کی وجہ سعودی عرب میں کھلنے والے سینما گھر، جوئے اور شراب خانے ہیں۔ اب اللہ کا عذاب کیوں نہ کرونا وائرس کی صورت میں نازل ہوتا۔

گوگل کی ریسرچ بتاتی ہے کہ یہ معصوم اکثر اللہ میاں کی نظر بچا کرکچھ بے معنی، کراہتی ہو ئی آوازوں والی ویڈیو دیکھ لیا کرتے ہیں، مگر کبھی سینما کے نزدیک نہ پھٹکے۔

ان معصوموں نے ارکانِ دین کی بجا آوری پورے خلوص سے کی، عقائد میں کبھی رتی برابر لغزش نہ ہو ئی۔ بلکہ دوسرے کے عقائد کو بھی درست رکھنے کے لیے جہاد اور تبیلغ جاری رکھی۔ ہر وقت لبوں پر خاتمہ بالخیر کی دعا رہی۔

شیطان کے بہکاوے میں آکر ان معصوموں سے اگر کبھی ہلکا پھلکا زنا، قتل، ملاوٹ، سود خواری، جھوٹ، بچوں اور بچیوں سے زیادتی جیسی کوئی غلطی ہو بھی گئی تو، توبہ استغفار کے کھلے دروازوں سے رو رو کر معافی مانگی، معصوم دل کو اطمینان نہ ہوا تو حج یا عمرے کی سعادت حاصل کر کے نئے جنم جیسے پاک ہو گئے۔

دین کی بقا اور آخرت کی تیاری میں عمر تمام ہوتی ہے۔ دنیاوی بکھیڑوں سے دلچسپی صرف شرعی تقاضے نبھانے تک محدود ہے۔ شرعی تقاضے، سبحان اللہ، اللہ کی حکمت ہے۔ جتنی بار یہ تقاضے پورے ہوں گے، اللہ کے نام لیواؤں کی تعداد بڑھتی رہے گی۔ اسی سچی نیت سے شرع کے عین مطابق ایک سے زائد شادیاں بھی کیں۔

امّتِ محمدی میں اضافہ ہی تو کفار کی نظروں میں ہمیشہ سے کھٹکتا رہا ہے۔ ان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہنے کے علاوہ انہیں کوئی کام نہیں۔

معصومینِ لشکر کے مہا معصوم سپہ سالار، اسلامی ملک میں، اسلام کی سر بلندی اور معصوم اسلامی بھائیوں کی تبلیغ کے لیے سنتوں بھرے اجتماعات منعقد کرتے رہتے ہیں۔ ان اجتماعات میں رسولِ پاک کے اسویٰ حسنہ، آپ ﷺ کا ازدواجِ مطاہرات، غلاموں، غیر مسلموں، بچوں، جنگی قیدیوں، بیماروں، غریبوں اور غیر عربوں، پڑوسیوں، گاہکوں سے سلوک کے علاوہ، زندگی سے جڑے مسائل پر آپ ﷺ کے بیانات، سیرت اور پسند نا پسند کو تفصیل سے بیان کیا جا تا ہے۔ داد دو تحسین صدائیں ہر طرف سے بلند ہوتی ہیں۔ لیکن عمل کرنے کو ”توبہ استغفار، اللہ کے دین کی تبلیغ اور دین کو کن چیزوں سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، یہ معصوم سہل جان کر آگے پہنچانے کے لیے انہیں ازبر کر لیتے ہیں۔

ان کے معصومانہ حلیوں ان کے چہرے کی معصومیت اور ٹخنوں سے اونچے پائنچوں پر غور کریں، یہ فرشتہ صفت ہستیاں عشقِ الٰہی سے سرشار، انہیں اللہ اور اس کے نبی کے دین کی حرمت اور بقاء کا خیال ہر دم بوکھلائے رکھتا ہے۔ اب جو کرونا کی وبا، براہِ راست ان معصوم زاہدوں کی راہ میں حائل ہوئی تو اس سے محفوظ رہنے کے لیے قرآن کریم سے نکلے بال کو پانی میں ڈال کر پینے کی بشارت ہوئی تو، کبھی نومولود بچی نے صرف قہویٰ پینے کا مشورہ دینے کے لیے جنم لیا اور پھر پٹ سے مر گئی۔

ایسا ہی ایک معصوم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹرین کے ڈبے میں کب سے حوائجِ ضروری روکے بیٹھا تھا۔ پینے کو بھی پانی نہ بچا تھا، بہانے کو کہاں سے لاتا۔ روہڑی اسٹیشن پر ٹرین جب آدھ گھنٹے کے لیے رکی تو ٹرین کے ڈبے سے اتر کر ویٹنگ روم کی طرف سرپٹ دوڑ لگا دی۔

پندرہ منٹ بعد واپس آیا تو چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ حواس، باختہ تھے۔ سر پر اپنے دونوں ہاتھ مارتے ہوئے منہ سے چند جملے دہرائے جا رہا تھا۔

غضب ہوگیا، برباد ہو گیا، دین تباہ ہو گیا۔ دین کو اب تباہی سے کو ئی نہیں روک سکتا۔

لوگ پریشان۔ اسے پانی پلایا گیا۔

کسی نے پوچھا کیا ہو گیا، کیا دیکھ لیا تم نے؟

پانی کا گلاس اس نے ایک طرف رکھا اور بولا۔ جانتے ہو بیت الخلا میں، میں نے کیا دیکھا؟

لوگ حیرت سے منہ پھاڑے اسے دیکھ رہے تھے۔

اس نے سر پر دو ہتھڑ مارے اور بولا۔

ہرے رنگ کا لوٹا تھا وہاں۔ ہرے رنگ کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *