وبا کے دنوں میں لاک ڈاؤن کی ڈائری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح اٹھ کر موبائل چارجر سے نکال کر دیکھا کہ کوئی کال تو نہیں اور پھر پیغامات دیکھے۔ ٹویٹر، انسٹا گرام اور ٹک ٹوک وغیرہ پر نہیں ہوں مگر فیس بک 2004 ء سے میرا سماجی رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ رات کو اپ ڈیٹ کیے اپنے سٹیٹس پر لوگوں کا رد عمل دیکھا۔ جس دن ملک میں ڈاکٹر اور نرسیں بغیر سو روپے کے فیس ماسک کے کرونا کی وبا سے لڑنے کے لئے میدان میں اتارے جارہے تھے اسی روز وزیر اعظم پاکستان نے سات سو ملین یعنی ستر کروڑ روپے سوشل میڈیا پر حکومت کے کارنامے بیان کرنے اور مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے منظور کیے۔ امید ہے وبا کے دنوں میں دیے سات سو ملین روپے کی خطیر رقم سے سوشل میڈیا میں بدزبانی، گالم گلوچ اور دشنام کو سرکاری حیثیت مل جائے گی۔

چائے ناشتہ جیسی روزمرہ کی ضروریات کا لاک ڈاون سے کوئی تعلق نہیں مگر اس کے بعد کام پر جانے والے راستے بند ہو چکے ہیں۔ کمپیوٹر کھول کر بیٹھنا عمر کے اس حصے میں ایک عادت سی بن گئی ہے۔ روز مرہ کے برقی پیغامات اب نہیں آتے۔ ایمیل باکس میں پراڈکٹس کی ان لائن شاپنگ کے لئے امادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیا سے لے کر سبزی پھل، کپڑے ادویات سب گھر پہنچانے کے پیغامات دیکھ کر تسلی سی ہوجاتی ہے کہ سب کچھ بند نہیں۔

آپ بیتیاں پڑھنے کے علاوہ میں خود ذاتی طور پر کئی ایسے لوگوں سے ملا ہوں جنھوں نے دوسروں کے حقوق کی خاطر سالوں قید تنہائی کاٹی تھی۔ قید میں جس کو کتاب کی سہولت میسر تھی وہ عالم بن گیا، قلم کاغذ دستیاب ہوا تو صاحب کتاب بن کر نکلا اور جس کو ایسی سہولت میسرنہیں تھی وہ گیان سے اس درجے پر پہنچا جہاں علماء، فقہاء اور ادبا ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرکے آداب بجا لاتے ہیں۔

آج کے دور میں سو سو چینل دکھاتے ٹیلی ویژن سکرین، دنیا کے ساتھ ہر وقت جوڑے رکھے سمارٹ فون، بے تحاشا کتابوں کے ساتھ اپنی تحفظ کی خاطر گھر میں رہنا کوئی قید نہیں بلکہ عیاشی ہے۔ اس کو زبردستی کی چھٹی کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔

مملکت خدا داد کی راجدھانی اسلام آباد میں اکثریت ریاست کے تابعدار شہریوں کی رہتی ہے۔ پورے ملک کے حالات سے باخبر رہنے والے اسلام آباد کے شہریوں کی ساتھ والے گھر سے جب تک شناسائی ہوتی ہے وہ خالی ہو جاتا ہے یا بندہ خود کہیں اور منتقل ہوجاتا ہے اس لئے اڑوس پڑوس سے یہاں کے مکین بے خبر ہی رہتے ہیں۔ ایک سیکٹر جی۔ 12 جو کچی آبادی ہے اس کو پیر مہر علی شاہ سے منسوب کرکے مہر آبادی بھی کہتے ہیں گھروں میں کام کرنے والوں، دیہاڑی دارمزدوروں اور غرباء کا مسکن ہے۔

لاک ڈاؤن کے دنوں میں یہ لوگ نکل کر جی۔ 11 کی سڑک پر آجاتے ہیں جہاں متمول اور صاحب حیثیت لوگ اپنی بلائیں ٹالنے کے لئے گاڑیوں میں آکر ان کو کھانے پینے کے علاوہ دیگراشیائے ضروریہ کی خیرات دیتے ہیں۔ خیرات لینے کے لئے ایسی بھیڑ لگ جاتی ہے کہ لاک ڈاون اور سماجی دوری کے سارے فاصلے سمٹ کر ایک دوسرے کے گریبانوں تک آجاتے ہیں۔ صاحب خیرات کی سلامتی بذریعہ خیرات مقصود و مطلوب ہوتی ہے جس کا دارومدار مخیر کی نیت پر ہے چاہے عمل کا رد عمل کچھ بھی ہو۔

گھر سے کام کرنے کی ریت نئی نئی ہے اس کی عادت ہوتے ہوتے ہو جائے گی۔ دن کے وقت جب صاحب خانہ دفتر یا کام پر ہوتا ہے تو خاتون خانہ کا وقت ٹیلی ویژن کی سکرین کے ساتھ یوں کٹتا ہے کہ کسی ڈرامہ سریل کے بعد ہانڈی چڑھتی ہے اور کسی پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے پچھلی قسط کی روداد لینے کے لئے فون کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے میں صاحب خانہ کی گھر پر موجودگی دخل در معقولات کے زمرے میں آسکتی ہے لہذا کوشش کی جائے کہ اس دوران ٹیلی ویژن سے اجتناب کیا جائے ورنہ قرنطینہ کی اندرونی فضا کشیدہ بھی ہوسکتی ہے۔

شام کو حسب معمول ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھتے ہی ایک چہرہ جو سامنے آتا ہے وہ ملک کی مشیر اطلاعات کا ہوتا ہے جس کو 2000ء سے دیکھ دیکھ کر اب ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی گھروالی کی کوئی رشتے دار ہے جس کی واپسی کا بندوبست نہیں ہو پایا ہے۔ ان کی باتیں بھی جلی کٹی سنانے والے سسرالی رشتے داروں کی جیسی ہوتی ہیں جو اچھی بات بھی کہتے ہوئے طنز سے باز نہیں آتے۔ الفاظ اور جملوں کی شائستگی کے باوجود پھبتیاں یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے چوہدری کے گھر شادی میں آئے بھانڈ ناپسندیدہ مہمانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ مگر ایک بات مستقل دیکھنے کو ملتی ہے وہ گزشتہ ستر سالوں سے جاری صاحب مسند کی مدح سرائی ہے جو اب درباری ادب کا جزِ لاینفک ہے۔

شام کی خبروں اور حالات حاضرہ کی مچھلی منڈی لگنے سے قبل اولی الآمر کے اہم خطاب کی منادی کی جاتی ہے۔ کروفر سے قومی ترانہ بجتا ہے ہم احتراماً کھڑے ہوتے ہیں اور میرے پاکستانیو کے گرجدار حکم پر با ادب دو زانو بیٹھے حکم حاکم پر مرگ مفاجات کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ صاحب امر اکسفورڈ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے والے دو چار لوگوں میں سے ایک ہیں جن میں سے زیادہ ترفارغ التحصیل ہونے کے بعد ولایت کی چکا چوند میں ہی رہ گئے صرف وہی ہیں جن کو اہل وطن کی محبت اور ہماری قسمت واپس لے آئی ہے۔ سمجھاتے ہیں کہ کرونا کی وبا کیا ہے اور دنیا کے مختلف حکمرانوں نے اس کو سمجھنے میں کیا کیا غلطیاں کی ہیں مگر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسا حکمران ہے جس کی بہادری، جرات اور دلیری سے یہ وائرس جلدی بھاگ کھڑا ہونے والا ہے لہذا ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

حکم شاہی ہوا کہ لاک ڈاون نہیں ہوگا مگر احتیاطاً ہم اپنے گھروں میں ہی رہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور ڈرپوک حکومت نے پہلے ہی لاک ڈاون کا اعلان کیا تھا۔ گلگت بلتستان نام کا ایک ماورائے آئین مگر انتظامی صوبہ ہے جہاں کرپٹ قرار پائی مسلم لیگ نواز کی حکومت نے بھی پہلے ہی وائرس سے ڈر کر لاک ڈاون کا اعلان کر رکھا تھا۔ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ جہاں بڑی محنت و مشقت سے لائی گئی تبدیلی سرکار کی حکومتیں ہیں وہاں سے بھی صرف دس منٹ کے لئے دکھائی گئی ایک خاکی پریس کانفرنس کے بعد اولی الآمر کی حکم عدولی میں لاک ڈاون کی خبریں آنے لگیں۔

خیر میں تو وفاقی دارالحکومت میں رہتا ہوں جو براہ راست اولی الآمر کے تابع و مطیع ہے۔ نو لاک ڈاون کے شاہی فرمان کے دوسرے روز ضلع اسلام آباد کا مجسٹریٹ جو گریڈ 18 کا سرکاری ملازم ہے اس نے دفعہ 144 کے نفاذ کاحکم نامہ جاری کیا جس کے تحت کسی بھی شخص کو بلا ضرورت باہر نکنے کی اجازت نہیں، دکانیں، دفاتر ٹرانسپورٹ سب بند کردئے گئے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر لاک ڈاون ہوچکا ہے اور ہم قرنطینہ میں چلے گئے ہیں مگر صاحب امر کو اب تک خبر نہیں۔

رات کو یہ سمجھنے کے لئے کہ جب خود ہی حکم نہیں ماننا تھا تو لانے والوں نے اولی الآمر کی مسند پر بٹھایا ہی کیوں تھا، فیس بک پر اہنا سٹیٹس اپڈیٹ کیا اور دوسرے دن گالیوں اور دشنام کی امیدوں کے ساتھ سو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 217 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *