بعد از کرونا دور کا آغاز


‎کرونا وائرس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے روس چین اور ایران اس پر متفق ہیں کہ کرونا وائرس فطرت کا عطیہ نہیں انسانی شیطانی ذہن کی تخلیق ہے یہ امریکہ کی لیبارٹریوں میں تخلیق کیا گیا جس کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا لیکن 90 کی دہائی میں مرحوم صدام حسین ایک اجلاس میں بتاتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ امریکہ نے عراق کو کرونا وائرس سے تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے

چین پر خاموش حیاتیاتی حملہ کرکے اس کو اچھوت بناکر اس کی عالمی تجارت اور معیشت کو تباہ کرنے سازش کی گئی چند ہفتے پہلے ٹرمپ کرونا وائرس کو چینی وائرس قرار دے کر مذاق اڑا رہے تھے جب سوال کیا گیا کہ آپ کا اس جان لیوا وائرس کو چین سے منسوب کرنا نامناسب رویہ ہے تو اس چھچھورے نے طنزیہ جواب دیا یہ چین سے آیا ہے اس لئے یہ چینی وائرس ہے

‎تیزی سے بدلتی دنیا میں کورونا نئے منظرنامے کا ایسا پردہ بن کر گرا ہے جس نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا ہے اب وقت ماہ و سال کا تعین قبل از کرونا اور بعد از کرونا سے کیا جایا کرے گا

بعد از کرونا دور کا آغاز ہو چکا ہے لاکھوں افراد کی اجتماعی ہلاکت کا خدشہ ہے خدشہ ہے کہ صرف امریکہ میں ایک لاکھ افراد اس کی نذر ہو جائیں گے ہولناک منظر نامہ کچھ یوں ہے

‎اس نئی دنیا میں انسان ڈربے میں قید جانوروں کی مانند بے بس ہوں گے۔ علاج گاہ کہلاتی جدید اصطلاح میں ”قرنطینہ ’وہ ڈربہ ہے یا پھر ان کے گھرہی قیدخانے بن جائیں گے۔ ان کی نگرانی ہوگی کہ فرار نہ ہوجائیں۔ ہالی وُڈ کی ان فلموں جیسا منظر ہوگا کہ کیسے خطرناک مجرموں کو سمندر کے بیچوں وبیچ کسی برقی، جدید ٹیکنالوجی سے چلنے والے قید خانے میں رکھا جاتا ہے۔

‎اس نئی دنیا میں ٹیکنالوجی کی پانچویں نسل یعنی 5 جی کی آمد ایک مہیب بلا بن کر نازل ہونے کو ہے۔ جو انسانوں کی نگرانی اور کورونا کے بعد کی دنیا کے نئے تقاضوں کو پورا کرنے میں معاونت کرے گی۔ معاشی تباہی دنیا کے سر پرکھڑی ہے۔ اس تباہی کے نتیجے میں نوٹ کی زندگی تمام ہوگی اور بغیر نوٹ والی معیشت وجود میں آئے گی، ’بِٹ کوائن‘ ، ’کرپٹو‘ اور ’ڈیجیٹل کرنسی‘ کی اصطلاحات عام ہورہی ہیں۔ کورونا نہ پھیل جائے، اس ڈر سے نوٹ استعمال نہیں ہوں گے اور یوں امریکی ڈالر کا جنازہ نکلنے کی پیشگوئیاں کی جارہی ہیں۔ کہنے والے بتارہے ہیں کہ کورونا دنیا سے موجودہ مالیاتی ڈھانچے اور اس کے مرکز واشنگٹن کی تباہی کا نکتہ آغاز ہے۔ اس نئی دنیا کی تشکیل اور اس میں معاونت فراہم کرنے والی کٹھ پتلیوں کو انعام واکرام سے نوازاجائے گا۔ جس طرح ٹرمپ کے نام سے صیہونی ریاست میں بستی کا قیام کیا جا رہا ہے۔

‎کورونا کے خوف میں مبتلا دنیا اس وقت علاج، دوا اور ’ویکسین‘ کے لئے تڑپ رہی ہے۔ پولیو نہ پینے والی دنیا میں کورونا نے اب یہ ممکن کردکھایا کہ ”نئی دنیا“ میں اس بیماری سے بچاؤ کے لئے ویکسین آنکھ بند کرکے لوگ پیئں گے۔ وہ ’مقصد‘ جو عرصہ سے حاصل کرنا مقصود ہے، اب ’ہینگ لگے نہ پھٹکڑی‘ کے مصداق بآسانی پورا ہوجائے گا۔ سائنسدانوں کے نزدیک یہ ویکسین انسانوں کے اندر جینیاتی تبدیلیوں کے عمل کا آغاز کرے گی جس سے ان کی فیصلہ سازی، ’ضد‘ اور ’پسند‘ یا ’نہ پسند‘ کے تکلفات سے نجات ہوجائے گی۔ سادہ الفاظ میں انسان ایک ایسے تابعدار ”غلام“ میں بدل جائے گا جو اپنے ”آقا“ کے اشاروں کو بلاچوں چرا خدمات بجا لائے گا۔ اسی مرحلے میں ’ریڈیو فریکوئنسی آئی ڈینٹیفیکیشن‘ (آرایف آئی ڈی) کا نظام ہو گا۔ ‎برقی مقناطیسی شعاعوں سے چلنے والا یہ خودکار نظام ہے جو انسانوں کے جسم میں لگی ’چِپ‘ کے ذریعے ان کی فوری شناخت کرے گا۔ آپ کی آمدن، اخراجات، گیس، بجلی، بل، ڈرائیونگ لائسنس، اتہ پتہ، باپ دادا کی تفصیل یعنی سب کچا چٹھا اسی میں درج ہوگا۔ ’الیکڑانک والٹ‘ سے بٹوہ رکھنے کے جھنجھٹ سے نجات مل جائے گی۔

‎یہی نہیں، انسان کی سوچ پڑھنے کا بھی بندوبست ہوگا۔ خوف کے زیر اثر لوگوں کے رویے کو جانچا جائے گا، اس کے مطابق قانون بدلیں گے۔ یہ وائرس تو ختم ہو ہی جائے گا لیکن اس کے بعد جو قوانین بنیں گے، وہ جدید غلامی کا نیا تاریک دور ہو گا۔ انسان کی تباہی کا یہ سب نظام اس لئے ہے کہ انسان خالق کائنات کے بجائے شیطان کے سامنے جھک جائے۔ دجال بس سامنے آنے کو ہے کیونکہ اس کے پیروکاروں نے انتظامات مکمل کرلئے ہیں، اب اقدامات کا آغاز ہونے کو ہے۔

اس سارے تانے بانے کے پیچھے جو اصل راز ہے وہ منکشف ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں۔ اس ابتلاءکے سخت ترین دور میں اللہ تعالی کی خصوصی نصرت ہی ہمیں بچا سکتی ہے۔ فرعون پیدا ہوتا ہے تو رب کریم موسیٰؑ جیسا عصابردار بھی مبعوث فرماتا ہے۔ دجال پیدا ہوتا ہے تو پھر مہدی کا ظہور بھی ہوکر رہتا ہے۔ شیطان کی گردن جھکانے کے لئے عیسیؑ کا پردہ غیب سے آنا لازم ہے۔ رب کا مقام کوئی نہیں لے سکتا۔

‎انسان کے ذہن اور اس کے افعال واعمال کو قابو میں رکھنے کا بڑا منصوبہ بروئے کار ہے۔ اشرف المخلوقات کو کٹھ پتلی بنانے کی شروعات ہورہی ہیں۔ رب کریم نے اپنی جس تخلیق کو اخیتارکلی اور مجبور محض کے وسط میں کھڑا کیا تھا، اسے مجبور محض بنانے کی تیاری ہے۔ جدید ترین فائیو جی کی برقی لہروں کو رسی بنا کر اس کی مشکیں کسنے کا کام مکمل ہوچکا، نوٹ کی جگہ کارڈ اس کی زندگی کا کل اثاثہ بننے کو ہے، علاج کے نام پر ویکسین اس کی غلامی کا نیا طوق بن جائے گی۔ سوچتا ہوں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔

چین کو لیبارٹری بناکر کرونا ہتھیار کا حملہ بڑا کاری اور ہولناک تھا خیال تھا کہ یہ چینی معیشت کو تباہ و برباد کرکے رکھ دے گا لیکن بوتل کا جن باہر نکل آیا اور ایشیا کے ببعد امریکہ اور یورپ اس کے نشانے پر ہیں چینی وائرس کے طنزیہ مذاق اڑانے والا بڑ بولا ٹرمپ اب چینی صدر شی کے سامنے تعاون کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے مدد کی بھیک مانگ رہا ہے کائنات کی سانس خشک ہو چکی ہے۔ تین ارب انسان قرُطینہ کے نام از خود قید ہو چکے ہیں

Facebook Comments HS

اسلم خان

محمد اسلم خاں گذشتہ تین دہائیوں سے عملی صحافت کے مختلف شعبوں سے منسلک رہے ہیں اب مدتوں سے کالم نگار ی کر رہے ہیں تحقیقاتی ربورٹنگ اور نیوز روم میں جناب عباس اطہر (شاہ جی) سے تلمیذ کیا

aslam-khan has 57 posts and counting.See all posts by aslam-khan