ہم جنس پسند بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں
میرا ارادہ ایک اور موضوع پر تحریر لکھنے کا تھا مگر ہم سب پر ایک تحریر ”پاکستان میں ہم جنس پرست لڑکیوں کی سرگرمیاں“ کے عنوان سے پڑھ کر اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔ یہ نہیں کہ میرا علم اس موضوع سے متعلق بہت زیادہ ہے یا میں نے کوئی تحقیق کی ہے۔ دراصل یہ موضوع ہمارے معاشرے کی نفسیات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہمیں اس کو مذہب اور حیا اور اخلاقیات سے ہٹ کر اور کئی پہلوؤں سے بھی پرکھنا چاہیے۔
ہمارا ایک اجتماعی مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر معاملے میں سازشی تھیوریز کو ڈھونڈ لیتے ہیں، اس کرہ ارض پر رونما ہونے والے ہر واقعے کے پیچھے ہمیں سازشوں کے جال بچھے نظر آتے ہیں۔
ایک مسئلہ ہماری جانبدارانہ سوچ اور دوہرا معیار ہے ہم کچھ مخصوص کام کرنے پر مخصوص صنف کو معتوب ٹھہراتے ہیں۔ ایک ایسا فعل جس کے ہر انسان پر برابر اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ میں بطور ایک لڑکا کر سکتا ہوں لیکن لڑکی نہیں کر سکتی۔ یوں کہنا چاہیے کہ بعض اوقات کسی معاملے کے دونوں پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے ہماری آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور ہونٹ سل جاتے ہیں یہی معاملہ ہم جنس پرستی کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس معاشرے کے تمام بار عورت کے کندھوں پر لاد دیے ہیں اس لیے عورت ایک آسان نشانہ ہے۔
مجھے پاکستان میں ہم جنس پرستی کی تاریخ کا نہیں معلوم لیکن یہ میں دعوی سے کہ سکتا ہوں عورتوں سے پہلے ہم جنس پرستی کو مردوں نے فروغ دیا، اپنی عمر کے اٹھارہ برسوں میں نے ہر عمر ہر پیشے اور ہر طبقے کے مردوں کو ہم جنس پرستانہ عزائم کا اظہار کرتے اور ہم جنس پرستی میں تمام اخلاقی حدود و قیود کو پار کرتے دیکھا۔ سینکڑوں کو اپنی زبانی اپنے قصے بہت فخر سے محفلوں میں سناتے پایا۔
میں نے اپنے ہم جماعتوں اپنے گاؤں میں چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر بڑے بڑے شرفاء کو ایسی حرکات کرتے دیکھا یہی نہیں میں نے اپنے ایک استاد کو بھی ایسی حرکات میں ملوث پایا۔
دینی مدرسے ہم جنس پرستی کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں جس کی تصدیق میرے ساتھ سفر کرتے ایک ستر سالہ امام مسجد نے بھی کی جو کہ ایسے واقعات کے چشم دید گواہ تھے یہی ہی نہیں کئی سکول فیلوز جو مدرسوں میں پڑھ کر آئے وہ بھی اس امر کے گواہ تھے زبانی اور کئی اپنے افعال سے، پچھلے دنوں ایک ٹرک پر مزدور لڑکے کو ایک ہم جنس پرست ڈرائیور نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ فوت ہو گیا، مذکورہ بالا میں کہیں بھی کسی بیرونی قوت یا ہم جنس پرست تنظیم کا کوئی عمل شامل نہیں ہے۔
اب اگر بات کریں خواتین کی ہم جنس پرستی کی تو وہ کئی گنا کم ہے بہ نسبت مردوں کے۔
جہاں تک بیرونی ایجنڈے کی بات ہے یہ دنیا ایک گلوبل ویلیج یا عالمگیر گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے ایک جیسی سوچ اور سرگرمیوں کے حامل افراد نزدیک آ چکے ہیں اور اپنے خیالات اور نظریات کا پرچار یکجا ہو کر کرتے ہیں ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے واقف رہتے ہیں اور اپنی بقا کی جنگ متحد ہو کے لڑ رہے ہیں یہ محض ہم جنس پرستی کے حامی لوگوں کی بات نہیں ہے جب بھارت میں شہریت سے متعلق متنازعہ قانون پاس ہوا تو وہاں پہ احتجاج کرنے والے طلباء پر پولیس نے تشدد کیا ان سے اظہار یکجہتی کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے اور پروگریسو سٹوڈنٹ کلیکٹو کے دوستوں نے احتجاج کیا اس طرح کی کئی مثالیں آپ کو ملتی ہیں جن میں کچھ لوگ کسی مقصد کے لیے جد و جہد کرتے نظر آتے ہیں ہم جنس پرستوں کا بھی یہی معاملہ وہ کسی مذہب یا معاشرے کے خلاف نہیں اپنی بقا کے لیے کام کر رہے ہیں۔
مرد کے ہم جنس پرستانہ افعال کو یہ معاشرہ تحفظ دیتا ہے جبکہ عورت کو اس پہ معتوب ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہی چیز عورتوں کو اپنی تنظیم بنانے کی تحریک دیتی ہے۔ میں اپنے لیے اس چیز کو بہتر نہیں سمجھتا لیکن مجھے کسی بھی مذہبی یا معاشرتی حیا و بے حیائی کی سیڑھی کا سہارا لے کر کسی کو اس پر معتوب ٹھہرانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
کسی کے ذاتی افعال کو لے کر اس سے تعصب نہیں برتنا چاہیے کیونکہ کسی بھی فرد کے ہم جنس پرست بننے میں ہزاروں عوامل شامل ہو سکتے ہیں مگر ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ وہ بھی ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔


