عقیدہ بمقابلہ کورونا: ذہنی افلاس اور سیاسی دیوالیہ پن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیوبندی علما کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہیٰ نے تبلیغی جماعت والوں پر کورونا پھیلانے کا الزام لگانے کی مذمت کی ہے۔ مسلم لیگ (ق) پنجاب میں حکومت کی اتحادی ہے تاہم پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی تبلیغی جماعت والوں کا تحفظ کرنے میں بے بس ہیں اور ان کی بات سنی نہیں جاتی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ’تبلیغی جماعت والے پرامن ہیں لیکن لاوارث نہیں ہیں ۔ ان پر ظلم بند کیا جائے‘۔

پرویز الہیٰ نے یہ انتباہ ایک ویڈیو پیغام میں جاری کیا ہے۔ اس پیغام کی بنیاد سیاسی ہو، دینی ہو یا سماجی ذمہ داری کے جذبہ سے معمور ہو کر یہ بیان دیا گیا ہو لیکن اس کے ایک حصہ سے انکار ممکن نہیں ہے۔ اگر کورونا وائرس کا شکار ہونے کے شبہ میں تبلیغی جماعت یا کسی بھی دوسرے فرقہ یا طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو علاج فراہم کرنے کی بجائے پولیس نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، اسے قید کیا گیا ہے یا اس کے ساتھ تشدد ہؤا ہے یا زبانی بدکلامی کی گئی ہے تو ہر سطح پر اس افسوسناک حرکت کا نوٹس لینا ضروری ہے۔ حکومت کو ایسے غیر ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہئے۔ پوری دنیا کے ممالک کورونا وائرس کا شکار ہونے والے شہریوں کا علاج کرنے اور آبادیوں کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں ۔ اس کے برعکس اگر پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے یا ان سے منسلک افراد کورونا وائرس کو پھیلانے کے شبہ میں یا اس وائرس کا شکار ہونے والے لوگوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی کے مرتکب ہوئے ہیں تو اس سے پاکستانی نظام کی کمزوری ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ کورونا وائرس پھیلنے کی وجوہ سے لاعلمی کا بھی پتہ چلتا ہے۔

یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی بھی ہوشمند کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد جان بوجھ کر اسے دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا سبب نہیں بن سکتا۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ اس وائرس کے بارے میں پاکستان میں پائی جانے والی کم علمی اور غلط معلومات لوگوں کو بے پرواہ کرنے کا سبب بنی ہیں۔ اس وقت پاکستان کے علاوہ بھارت سے موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران تبلیغی اجتماعات میں شرکت کرنے والے سینکڑوں لوگوں میں کورونا وائرس کا سراغ ملا ہے۔ اسلام آباد اور حیدرآباد میں ان مساجد کو قرنطینہ میں تبدیل کرنا پڑا تھا جہاں تبلیغی جماعتیں ٹھہری ہوئی تھیں۔ خبروں کے مطابق ان لوگوں میں سے کووڈ۔ 19 کا نشانہ بننے والوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا لیکن باقی لوگوں کو مسلمہ احتیاطی تدابیر کے تحت ان مساجد میں ہی قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جہاں وہ پہلے سے مقیم تھے۔ ان مساجد کو دیگر نمازیوں اور غیر متعلقہ لوگوں کے لئے بند کردیا گیا تھا۔

تبلیغی جماعت کے شرکا کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کی خبریں سامنے آنے سے پہلے ایران سے واپس آنے والے زائرین کو پاکستان میں کورونا پھیلانے کا ’ذمہ دار‘ قرار دیتے ہوئے بعض حلقوں کی جانب سے اہل تشیع کے بارے میں ویسی ہی غیر ذمہ دارانہ باتیں کی گئی تھیں جو تافتان کے راستے ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ الزام تراشی کی اس مہم میں حکومت، سیاست دانوں، سماجی و مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر سرگرام عناصر نے یکساں شدت سے حصہ لیا ہے۔ اہل تشیع اور ایران سے واپس آنے والوں پر الزام تراشی کے بعد تبلیغی جماعت کو نیا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ چوہدری پرویز الہیٰ کے علاوہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان علما کونسل کے چئیرمین مولانا طاہر اشرفی نے اس معاملہ پر اظہار خیال کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان چونکہ ایک سیاسی رہنما بھی ہیں لہذا انہوں نے تبلیغی جماعت والوں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم کے ایک مشیر پر الزام لگایا اور کہا کہ ’تافتان سے کپتان تک تمام ذمہ داروں کو عوام کی نظروں سے اوجھل کر کے صرف تبلیغی جماعت سے منسلک افراد کو سولی پر چڑھایا جا رہا ہے‘۔

اس بیان کے سیاسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ حالات میں سماجی انتشار کے کے کسی پہلو کو سیاسی اہداف کے لئے استعمال کرنے کا کوئی جواز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ کورونا وائرس کے حوالے سے اگر حکومت سے کوتاہیاں ہوئی ہیں اور وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مشیر اس وائرس کی ہلاکت خیزی کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کا سبب بنے ہیں تو ملک کے دینی رہنماؤں نے بھی یکساں غیر ذمہ داری اور لاابالی پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ سندھ میں مساجد بند کرنے اور جمعہ کے اجتماعات سے گریز کے حکومتی فیصلہ کو مسترد کیا گیا اور ملک کے باقی صوبوں میں ایسے ہی احکامات جاری کرنے میں رکاوٹ کھڑی کی گئی۔ ملک میں جس وقت کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کرنے اور مساجد بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا تھا عین اس وقت شیخ الاسلام کے منصب پر فائز مفتی محمد تقی عثمانی نے رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمان اور دیگر علما کے ساتھ مل کر مساجد کھلی رکھنے اور جمعہ کے اجتماعات منعقد کرنے پر اصرار کیا اور قرآن سے اس کا حکم ثابت کیا۔ حالانکہ سعودی عرب سمیت دنیا کے متعدد مسلم ممالک میں مساجد بند کرنے کے علاوہ اذان کے ذریعے نماز گھر پر ادا کرنے کی ہدایت کی جارہی تھی۔

مفتی منیب الرحمان بعد میں ٹی وی پروگراموں میں اس بات پر خفگی دکھاتے رہے کہ اگر فوڈ اسٹور زاور دوا خانے کھلے رہ سکتے ہیں تو مساجد کھلنے سے کیسے وائرس پھیل سکتا ہے۔ ان ارشادات سے صاف ظاہر ہے کہ ملک کے حکمرانوں کی طرح ، ا س ملک کے دینی رہنما بھی کورونا وائرس کی ہلاکت اور پھیلنے کے طریقہ سے آگاہ نہیں ہیں یا ان معلومات کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے جو عالمی ادارہ صحت فراہم کررہا ہے اور جن کی بنیاد پر دنیا کے تجارتی مرکز نیویارک سمیت سینکڑوں شہروں اور ممالک میں حمل و نقل کی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ کورونا وائرس انسانوں سے انسانوں کو منتقل ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کا ایک کیریئر سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں کو اس وائرس کا شکار بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کے اسباب کی طبی و سائنسی وجوہ پر بحث کرنے اور انہیں تسلیم کرنے کی بجائے اس بات پر بحث شروع کردی گئی ہے کہ یہ وائرس اللہ کا عذاب ہے یا یہودیوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ گناہوں کی سزا ہے یا خدا کی ناراضی کا اظہار۔

سائنسی طور سے ثابت ایک جرثومے کو عذاب الہیٰ کی شکل دیتے ہوئے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ یہ مشکل چونکہ اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اسی کی مدد سے اس سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی اصول کی صراحت کرتے ہوئے شیخ الاسلام تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان جیسے علما یہ ماننے سے انکار کررہے ہیں کہ مساجد میں نماز پنجگانہ ترک کرکے کیسے اللہ کو راضی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے تو زیادہ گڑگڑا کر دعائیں کرنے اور اذانیں دے کر اللہ کو راضی کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کی طرف دی گئی سزا کے تاثر کو ملک کے وزیر اعظم نے اپنے ان وعظ نما خطابات کے ذریعے قوت فراہم کی ہے جن میں وہ احتیاط اور لاک ڈاؤن جیسے مسلمہ طریقوں کو استعمال کرنے کی بجائے ’قوت ایمانی ‘سے اس آفت کا مقابلہ کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی شہری نماز باجماعت کا اہتمام کرکے، اذانیں دے کر اور اللہ سے معافی مانگ کر اس وائرس سے نجات پا بھی لیں تو دنیا کے ان ملکوں میں آباد انسانوں کا کیا بنے گا جو دعاؤں اور ان کی حاجت روائی پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ خالق محض اپنے ’چنیدہ‘ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے باقی دنیا کے لوگوں کو احتیاط کرنے کے باوجود ہلاک کردے گا۔

تبلیغی جماعت کے لوگوں کو کورونا کی وجہ سے ہراساں کرنے والے سیاست دانوں اور علما کو اس معاملہ کے اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے۔ تبلیغی جماعت کے زعما سے پوچھا جانا چاہئے کہ جس وقت پوری دنیا اس وائرس کے پھیلاؤ سے ہراساں ہو کر احتیاطی تدابیر اختیار کررہی تھی، عین اس وقت رائے ونڈ میں لاکھوں لوگوں کا اجتماع کرنے اور اس کے بعد بڑے بڑے تبلیغی گروہوں کو ملک بھر میں روانہ کرنے کا کیا جواز تھا۔ وہ اپنی اس کوتاہی پر اپنی جماعت کے ارکان سے معافی مانگیں گے، اہل پاکستان کے سامنے شرمندگی کا اظہار کریں گے یا اللہ سے درگزر کی استدعا کریں گے؟ اس کے ساتھ ہی پاکستان اور پنجاب کی حکومتوں کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ جب اجتماعات پر پابندی لگانا انسانوں کی زندگی محفوظ رکھنے کے لئے ضروری تھا، اس وقت انہوں نے رائے ونڈ کے اجتماع کو مشاورت یا انتظامی احکامات کی بنیاد پر کیوں روکنے کی کوشش نہیں کی؟

اس تنازعہ کا بنیادی نکتہ یہ ہے ملک کی سیاسی و دینی قیادت نے جان بوجھ کر یا کم علمی کی بنیاد پر سائنسی لحاظ سے ثابت ایک وائرس کو اللہ کا عذاب بتانے اور اسی کی مدد سے اس مشکل سے نکلنے کا نعرہ بلند کرکے پاکستانی عوام کو الجھن میں مبتلا کیا ہے۔ کسی وبا یا آفت کے عوامل سے نمٹنے اور اسباب کا سد باب کرنے کی بجائے اگر اسے عقیدہ سے جوڑ کر احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑا جائے گا تو ایسے لوگوں کو ان کا رب بھی اس خود ساختہ مشکل سے نہیں بچائے گا۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے علاج کو عقیدہ کے ساتھ منسلک کرنے والے لوگ سنگین جرم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اور اس کا خمیازہ اہل پاکستان بھگتیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1505 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *