ترقی کی کہانی اور انسان کی تہی دامنی


\"zulfiqar-ali\"ہم کیا چاہتے ہیں؟ یہ سوال بہت سادہ ہے مگر اس سوال کا جواب بہت مشکل اور نہایت گنجلک ہے۔ آج کا انسان ایک ایسے المیے سے دوچار ہے جس میں اس کی اپنی ذات یا ہستی \”ہونے اور نہ ہونے\” کی کیفیت سے دوچار ہے۔ ہماری روح یا احساس کو جس تسکین یا خوشی کی تلاش ہے وہ ٹیکنالوجی کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئی ہے۔ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں ایسا کیوں ہوا۔

ہمارے معاشرے کی سماجی ساخت مقامیت کے پہلو سے نکل کر عالمگیریت کے کینوس کا حصہ بن رہی ہے اور یہ عمل بہت تیزی سے جاری ہے۔ جس کی وجہ سے آج کا انسان اپنی معاشرہ اور اس سے جڑی ثقافتی، تہذیبی اور فوک دانش سے بہت تیزی سے بیگانگی کا شکار ہو رہا ہے۔ اس کا نتیجہ مار دینے والی تنہائی اور بے اعتنائی کی صورت میں دنیا کے اکثر انسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو آج کے سرمایہ دار نے حصول زر اور کاروبار کے طور پر اپنا لیا ہے اور سرمایہ دار اپنے کاروبار کی وسعت اور ترویج کے لئے مقامی کلچر، ثقافت،ماحول، زبان اور اقدار کو زیادہ سے زیادہ سرمایہ حاصل کرنے کے لئے بڑی بے دردی سے اس پر پسماندگی کی تہمت لگا کر پائمال کر رہا ہے۔ اس دھندے میں بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں، قانون ساز ادارے، عسکری کمپنیاں، عالمی انصاف کے ادارے ملٹی نیشنل اور با اثر افراد سب حصہ دار اور شریک ہیں تاکہ دنیا کے وسائل اور طاقت کو زیادہ سے زیادہ کنٹرول کر کے اپنی من مانی کی جا سکے۔ جس کے کثیر الجہتی منفی اثرات ہماری نام نہاد ترقی کا منہ چڑا رہے ہیں۔

اب طاقت کا توازن مختلف ممالک کی سرحدوں سے نکل کر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کے حق میں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جس کا اثر سماج کی نچلی پرتوں پر بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم بہت خوفناک شکل میں ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ ہمارے جنگل کٹ رہے ہیں، ہمارے آثار قدیمہ تباہ و برباد ہو رہے ہیں، مختلف النوع جاندار یا تو ختم ہو چکے ہیں یا ختم ہونے کی نہج پر پہنچ چکے ہیں اور ہم بے بس و لاچار اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ لٹتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ قبضہ صرف مادی وسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی خوشی سے جڑی روحانی،ثقافتی اور تہذیبی اقدارکو نیست و نابود کرنے تک پھیل چکا ہے۔ ان ناخداوں کی بھوک اور ہوس کا یہ عالم ہے کہ یہ اپنے معاشی نفع کی خاطر جھوٹی اشتہار بازی کے ذریعے عام انسانوں کے اندر مختلف طریقوں سے ایسی مصنوعی بھوک پیدا کر رہے ہیں جس کا کوئی انت ہی نہیں ہے۔ اس ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر انسان فطری آسائشوں کو پس پشت ڈال کر مصنوعی آسائشوں کو حاصل کرنے کے لئے اپنی تمام تر توجہ اور وقت ان کے حصول کے لئے صرف کر رہا ہے جس کی وجہ سے سماجی اور روحانی رشتے کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ آج کا انسان جدید آسائشوں کو سہولت سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگ رہاہے۔ جب کہ قبضہ گیریت کی نفسیات رکھنے والا طبقہ عدالتوں اور قانون کو خرید رہا ہے جس کی وجہ سے کارپوریٹ سیکٹر کو کھلی چھوٹ ہے دریا خریدے یا جنگل، نوکری کے نام پہ انسان خریدے یا پورے معاشرے کو مال سمجھ کے اپنے تصرف میں لے لے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اسی خبط کی وجہ سے معاشرے کی مختلف سطحوں پر جبر کی ایسی ایسی صورتوں نے اپنے پنجے گاڑھ لئے ہیں جن سے نکلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور اس کا انجام ایسی بیگانگی کی طرف ہمیں دھکیل رہا ہے جس میں انسانی اقدار کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔

مجھے یاد ہے میرے گاؤں میں لوگوں کے بڑے \”ویہڑے\” (صحن) ہوتے تھے پر ان کے در نہیں ہوتے تھے، بڑی بڑی بیٹھکیں ہوتی تھیں اور لوگ شام کو اپنا کام کاج کرکے وہاں دکھ سکھ سانجھا کرتے تھے، چھوٹے بڑے مختلف تہواروں میں شریک ہوتے تھے اور خوب محظوظ ہوتے تھے، فوک گیت، قصے کہانیاں، مقامی کھیل اور انسان کو جوڑنے والی رسمیں ریتیں سب کا سب عالمگیریت اور کارپوریٹ سیکٹر کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور ہم سب اپنے آپ سے جدا ہو کر یوں جی رہے ہیں جیسے کوئی روبوٹ ہوں، تہی دامن روح سے خالی!!!

Facebook Comments HS