جانور راج: نئے ترانے اور اچانک مظاہرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخیر فروری کی ایک سہ پہر، جانی صاحب کے دور کے متروکہ، کشید خانے سے جو بارچی خانے سے پرے تھا، ایک کوسی کوسی، اشتہا انگیز، مخمور سی خوشبو کی لپٹیں احاطے کی طرف آئیں، یہ ایسی خوشبو تھی جو جانوروں نے پہلے کبھی نہ سونگھی تھی۔ کسی نے کہا کہ یہ ابلتے جو کی بھپکار ہے۔ جانوروں نے ہوا کو ندیدے پن سے سونگھا اور سوچا کہ ممکن ہے ان کے کھانے کے لئے گرما گرم دلیہ پک رہا ہو۔ مگر کوئی گرم دلیہ نمودار نہ ہوا، اور اگلی اتوار یہ اعلان ہوا کہ اب سے سارا جو، صرف سؤروں کے لئے مختص ہو گا۔ باغ سے پرے والے کھیت میں پہلے ہی جو بویا جا چکا تھا۔ اور جلد ہی خبر اڑی کہ نپولین کے ساتھ ساتھ، جس کے لئے آدھا گیلن شراب پہلے ہی مختص تھی، اور جو اسے ہمیشہ کراؤن ڈربی کے بادیے میں پیش کی جاتی تھی، اب ہر سؤر کوبھی شراب کا ایک پوا راشن میں ملا کرے گا۔

لیکن اگر سختیاں سہنا پڑ رہی تھیں تو تو ان کا کافی حد تک مداوا یہ تھا کہ اب ذاتی وقار اس سے کہیں زیادہ تھا جو کہ پہلے ہوتا تھا۔ مزید نغمے جاری ہو رہے تھے، مزید تقریریں تھیں، مزید جلوس تھے۔ نپولین نے حکم دیاتھا کہ ہفتے میں ایک بار ’اچانک مظاہرہ‘ ہوا کرے گا، جس کا مقصد، جانور راج کی کاوشوں اور کامیابیوں کو سراہنا ہوا کرے گا۔ مقررہ وقت پہ جانور کام چھوڑ دیا کریں گے اور فارم کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ، فوجی نظم میں چکر لگایا کریں گے، جس میں سؤر سب سے آگے، پھر گھوڑے، پھر گائیں، پھر بھیڑیں، اور پھر مرغیاں وغیرہ ہوا کریں گی۔

کتے جلوس کے پہلوؤں میں کھڑے ہوتے تھے اور سب سے آگے، نپولین کا سیاہ مرغا ہوتا تھا۔ باکسر اور کلوور ایک دوسرے کے درمیان ہمیشہ ایک بینر تھامے رکھتے تھے جس پہ کھر اور سینگ کا نشان اور نعرہ ’نپو لین زندہ باد‘ ثبت ہوتا تھا۔ بعد ازاں، نپولین کی مدح میں لکھی ہوئی نظمیں گائی جاتی تھیں، اور چیخم چاخ کی ایک تقریر جس میں خوراک کی پیداوار میں اضافے کے حالیہ اعداد و شمار بتائے جاتے تھے، اور اس موقع پہ بندوق سے سلامی بھی داغی جاتی تھی۔

بھیڑیں، ان ’اچانک جلسوں‘ کی خوب شائق تھیں، اور اگر کوئی شکایت کرتا (جیسا کہ کچھ جانور، جب سؤر اور کتے قریب نہیں ہوتے تھے تو کبھی کبھار کرتے تھے ) کہ انہوں نے وقت ضائع کیا اور ٹھنڈ میں کھڑا رہنا خاصا گراں تھا، بھیڑیں اسے، ”چار لاتیں اچھی، دو لاتیں گندی! “ کی فلک شگاف ممیاہٹوں سے چپ کرا ہی دیا کرتیں۔ مگر مجموعی طور پہ جانوروں نے ان تقریبات کا لطف اٹھایا۔ انہیں یہ یاد دہانی، دلاسا آمیز لگتی تھی کہ آخر کار، وہ سچ مچ میں اپنے آپ تھے اور جو کام انہوں نے کیا وہ ان کے اپنے بھلے کا تھا۔ تو پھر یہ تھا کہ ترانوں، جلوسوں، چیخم چاخ کی اعداد و شمار کی فہرست، بندوق کی گرج، مرغے کی بانگ اور جھنڈے کی پھڑ پھڑاہٹ میں وہ کم سے کم لمحہ بھر کو یہ بھول جاتے تھے کہ ان کے پیٹ خالی ہیں۔

اپریل میں، ’جانوروں کا باڑہ‘ ایک جمہوری ریاست بن گیا اور تب ایک صدر کا انتخاب لازمی ہو گیا۔ امیدوار تو ایک ہی تھا، نپولین، جو کہ بلا مقابلہ منتخب ہو گیا۔ اسی روزیہ بتایا گیا کہ تازہ ترین، کاغذات، برآمد ہوئے ہیں جو سنو بال کی جانی صاحب کے ساتھ یاری کی مزید ثبوت مہیا کرتے تھے۔ اب معلوم ہوا کہ سنو بال نے جیسا کہ جانور پہلے گمان کرتے تھے فقط، معرکہ گاؤ تھان کو ہارنے کی حکمت عملی ہی تیار نہ کی تھی بلکہ وہ کھلم کھلا، جانی صاحب ہی کی طرف سے لڑ رہا تھا۔ درحقیقت یہ وہی تو تھا جو انسانوں کے جتھے کی کمان کر رہا تھا اور جس کے لبوں پہ، معرکے میں کودتے ہوئے ”انسانیت زندہ باد! “ کا نعرہ تھا۔ سنو بال کی پشت کے زخم، جو اب بھی کچھ جانوروں کو یاد تھے، نپولین کی کچلیوں سے آئے تھے۔

موسمِ گرما کے درمیان، منوا، پرانا کاگا، کئی برس کی غیرحاضری کے بعد اچانک ہی فارم پہ دوبارہ نمودار ہو گیا۔ وہ بالکل نہ بدلا تھا، اب بھی کوئی کام نہ کرتا تھا، اور ہمیشہ کی طرح اسی اندازمیں ’کِھیل بتاشوں کی سلطنت‘ کے بارے میں باتیں کیا کرتا تھا۔ وہ کسی ٹھنٹھ پہ اڈا جما لیتا، پچھلے پر پھڑ پھڑاتا، اور جو سامع مل جاتا، گھنٹہ بھر اس کے کان کھاتا۔ ”اوپر، ادھر، دوستوں، “ وہ آسمان کی طرف اپنی بڑی سی چونچ اٹھا کے بڑے پکے پن سے کہتا، ”ادھر اوپر، وہ سیاہ بادل جو آپ کو نظر آ رہا ہے اس کے عین پیچھے، وہیں ہے وہ، ’کِھیل بتاشوں کی سلطنت‘ ، وہ خوشگوار مقام جہاں، ہم بیچارے جانور اپنی مشقتوں کے بعد، ابدی آرام میں رہیں گے۔

وہ یہ دعویٰ تک کرتا تھا کہ اپنی بلند پروازوں میں سے ایک میں اس نے، برسیم کے سدا بہار کھیت، السی کی کھل اور گڑ کی بھیلیوں کو باڑوں پہ اگے دیکھا تھا۔ بہت سے جانور اس پہ اعتبار کرتے تھے۔ وہ توجیہہ تراشتے کہ ان کی زندگیاں اب، بھوک اور تھکن سے عبارت تھیں تو کیا یہ درست اور مبنی بر انصاف نہیں تھا کہ ایک بہتر دنیا کہیں تو پائی جاتی ہے؟ منوا کے ساتھ سؤروں کا رویہ سمجھ سے بالاتر تھا۔ وہ سب کے سب حقارت سے کہتے کہ ’کِھیل اور بتاشوں کی سلطنت‘ کے بارے میں اس کی کہانیاں جھوٹ ہیں، پھر بھی انہوں نے اسے بنأ کام کاج کے، ایک کپی شراب کے راشن پہ فارم پہ رہنے کی اجازت دے رکھی تھی۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: خوراک کی راشن بندیجانور راج: انقلابی ہیرو باکسر، قصاب کو بیچ دیا گیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *