وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کیا ہی نہیں تو توسیع کیسی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبروں کے مطابق وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید 14 دنوں کی توسیع کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق پریس بریفنگ میں بتایا کہ کورونا کا پھیلاؤٔ روکنے کے لیے 2 ہفتے تک بندشیں جاری رکھی جائیں گی تاہم ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بحال رہے گی۔

وزیر اعظم پاکستان ملک میں لاک ڈاؤن کے قائل ہی نہیں تھے اور اپنی ہر پریس کانفرنس، قوم سے خطاب اور اپنے ٹویٹ پیغامات میں سختی سے اس بات پر تنقید کرتے رہے تھے کہ ملک میں جس جس صوبے نے بھی لاک ڈاؤن کا قدم اٹھایا ہے ان کے نزدیک یہ جلد بازی ہے اور اس کے نتائج کورونا کے پھیلاؤ سے بھی زیادہ خطرناک صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کی کھلی تنقید کے باوجود بھی کسی صوبے نے ان کی ہدایات کی پرواہ کیے بغیر لاک ڈاؤن کو جاری رکھا اور کھانے پینے کی اشیا یا میڈیکل اسٹوروں کے علاوہ ہر قسم کے کاروبار کے بند رکھنے کی ہدایات پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرایا گیا یہاں تک کہ عبادت گاہوں میں عبادتوں اور مساجد میں با جماعت نمازوں تک پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔

وزیر اعظم پاکستان، جن کی ہدایات اصولی طور پر صرف اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں وہاں بھی ان کی ہدایات کے بر خلاف لاک ڈاؤن کی سی کیفیت رہی حتیٰ کے اسلام آباد کے دو بڑے ٹاؤن اور ”ایچ“ سیکٹر باقاعدہ سیل کیا گیا اور راولپنڈی کے بھی کئی ڈھوک چاروں جانب سے بند کر کے ان میں لوگوں کا داخلی اور اخراج، دونوں کو روک دیا گیا اس طرح عملاً وفاقی دار الحکومت سمیت پورا ملک لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔

اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں نہ صرف لاک ڈاؤن کی شدید مخالفت کی بلکہ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے حالات اور بھی کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

ان کا فرمان اور خدشات اپنی جگہ لیکن آج سے دو تین ہفتے قبل اگر فوری طور پر پورے ملک میں ایک ساتھ سخت ترین لاک ڈاؤن ہو چکا ہوتا تو شاید پورے ملک کے حالات مخدوش ہونے سے محفوظ رہتے۔ پورے پاکستان کے علم میں یہ بات ہے کہ کورونا کے پھیلنے کی ابتدا کراچی سے ہی ہوئی تھی، اس کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن کی خبریں عام ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ یہ سنتے ہی وہ افراد جو کئی لاکھ کی تعداد میں دوسرے شہروں سے آکر کراچی میں قیام پذیر ہیں، قافلوں اور جلوسوں کی شکل میں اپنے اپنے گاؤں، علاقں اور شہروں کی جانب ہجرت کرنے لگے۔

ہزاروں زائرین اور ہزاروں مبلغین پورے پاکستان میں پھیلنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے یہ کورونا کراچی سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ یہ بات محض اندازے کی بنیاد پر نہیں کہی جا رہی بلکہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کہی جارہی ہے۔ نہ کراچی سے ٹرینوں پر ٹرینیں اور بسوں پر بسیں بھر بھر کر دوسرے شہروں کی جانب جانے دی جاتیں نہ یہ وائرس پورے پاکستان میں پھیلتا۔ پھر ہوا یہ کہ پنجاب، جس کی آبادی تینوں صوبوں کی آبادی سے بھی زیادہ ہے، اس نے لاک ڈاؤن میں تاخیر کی، ان کی ہر قسم کی آمدورفت جاری رہی، حتیٰ کہ کارو باری مراکز بھی پوری آب و تاب کے ساتھ کھلے رہے اس لئے یہ وبا پورے پاکستان میں پھیل گئی۔ ایک جانب صوبہ سندھ کے علاوہ باقی سارے صوبوں کی تساہلی اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنی تو دوسری جانب وفاق کی اب تک کی ”ہچکچاہٹ“ نے لاک ڈاؤن کے ہر مخالف کی حوصلہ افرائی نے پورے پاکستان کی تباہی پیٹ کر رکھ دی۔

لطف کی بات یہ ہے کہ آج وفاق کی جانب سے جس لاک ڈاؤن کی توسیع کے احکامات جاری ہوئے ہیں، اس لاک ڈاؤن کے احکامات تو وفاق نے کبھی جاری ہی نہیں کیے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاق جس لاک ڈاؤن کو اپنے آخری خطاب تک لگانے کے لئے تیار ہی نہیں تھا اس کی جانب سے اس کے توسیعی آرڈر کس بنیاد پر جاری کیے جا رہے ہیں یا با الفاظ دیگر وفاق کس کے دباؤ میں آکر ایسا کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وفاق آج جس کے دباؤ میں آکر ایک ایسے حکم میں توسیع کرنے پر مجبور ہوا ہے جس کا اس کے افسانے میں کل تک کوئی ذکر ہی نہیں تھا تو وہی آج سے ایک ماہ قبل ایسا ہی کچھ پورے پاکستان میں بیک وقت کر دینے کے لئے کیوں دباؤ نہ ڈال سکے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *