دشمن کا حملہ اور بیگمات کو چھوڑ کر فرار ہونے والے عقل کل حکمران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے جہاں خوف کی حُکمرانی ہو وہاں افواہوں کا بازار سرگرم ہو جاتا ہے لوگ کانا پھوسی کرتے ہیں، کرونا وائرس کا خوف اور دہشت زدہ ماحول میں ہر کوئی اپنے ڈربے میں دبکا ہوا ہے ہو کا عالم یہ ہے کہ لوگ اپنے گھروں کے اندر دبکے بیٹھے ہوئے ہیں بازاروں کی چکا چوند ماند پڑ چُکی ہے اور رات کو کسی کسی وقت کتوں کے بھونکنے کی آوازیں نہ ابھر رہی ہوں تو ایک لمعے خیال آتا ہے کہ ساری کی ساری آبادی کہیں اور چلی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ہفتے سے افواہ سرگرم ہے کہ اسلام آباد سے بڑا استعفیٰ آ رہا ہے اس افواہ میں رتی بھر صداقت نہیں ہاں یہ سچ ہے کہ اکتوبر 2019 سے سپہ سالار اور کپتان کے تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی نہیں رہی دونوں اطراف سے سردمہری نے جنم لیا ہوا ہے۔

تعلقات میں سردمہری کی ابتداء مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی وجہ سے ہوئی تھی جو ابھی تک پگھل نہیں سکی۔ مولانا فضل الرحمن تواتر سے چوہدری برادران کے حوالے سے جس راز کو افشاء کرنے کی بات کرتے ہیں اس کے پیچھے بہت سارے حقائق ہیں اور ان حقائق کا جب وزیراعظم عمران خان کو پتہ چلا تو انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ بس اب بہت ہو چُکا مزید برداشت نہیں کیا جائے گا وہ عملی قدم اٹھانے والے تھے کہ سمجھدار لوگوں نے انھیں ایسا کرنے سے باز رکھا یہاں سے مقتدرہ اور وزیراعظم کے درمیان تعلقات میں ایسی گرہ لگی جو ابھی تک کُھل نہیں سکی۔

کرونا نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا سندھ نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا مرکز گومگو کی کیفیت میں رہا وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن کے حوالے سے کنفیوز نظر آئے وہ ہر روز قوم کو یہ بتا رہے ہیں کہ مکمل لاک ڈاؤن کیا تو غریب بھوک کی وجہ سے مر جائے گا ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہ شہروں کا مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا مگر دوسری طرف حقائق کچھ اور ہیں۔

گزرے روز تین بجے دوپہر میں فلیٹ سے افس کے لیے نکلا تو فیض آباد انٹرچینج سے جیسے ہی اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوا تو لگ بھگ پانچ سو گز کی دوری پر دارالحکومت کی پولیس نے عارضی رکاوٹیں کھڑی کر کے اسلام آباد ہائی وے بند کیا ہوا تھا گاڑی کو سائڈ روکا اتر کر ڈیوٹی پر مامور پولیس افسر سے بطور پترکار اپنا تعارف کروایا اور گزر جانے کی درخواست کی اے ایس آئی کا کہنا تھا کہ آپ آئی ایٹ سے ہو کر افس جا سکتے ہیں یہاں سے ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے اے ایس آئی سے کہا کہ سر وزیراعظم تو کہتے ہیں کہ شہر مکمل لاک ڈاؤن نہیں کریں گے پھر یہ سب کیا ہے؟

اے ایس آئی بولا آپ کو بتا دیا ہے کہ آپ یہاں سے نہیں جا سکتے باقی سوالوں کے جواب میرے پاس نہیں سوال پیدا ہوا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہو گا تو پھر یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا کوئی وزیراعظم کے فیصلوں کو بلڈوز کر رہا ہے؟ ہمارے ملک کا بڑا المیہ رہا جو یہاں نظر آ رہا ہوتا ہے وہ اصل میں ہوتا نہیں اور جو نظر نہیں آ رہا ہوتا اصل میں وہی ہوتا ہے۔ لیڈر شپ کا امتحان مشکلات میں آتا ہے کہ وہ کڑے وقت میں کس طرح سرخرو ہوتی ہے۔

لیڈر مشکل وقت میں تمام اختلاف بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاسی مخالفین کی طرف دست تعاون بڑھاتا ہے کہ مل بیٹھ کر کوئی تدبیر نکالی جائے جس سے انسانیت کو بچایا جا سکے۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف نے دست تعاون بڑھایا مگر ہمارے ہر دلعزیز وزیراعظم نے عجیب رویہ اختیار کیا اپنی سُنا کر ان کی سنے بغیر اُٹھ کر چلے گئے۔

ظہیر الدین بابر مغل بادشاہت کے بانی تھے ان کے بے مثال کارناموں کی وجہ سے تاریخ نے انھیں سنہرے حروف میں یاد رکھا ہے اس عظیم بادشاہ کی سوانح عمری کو پریمقل قادروف نے ناول کے اسلوب میں پیش کیا وہ لکھتے ہیں کہ ظہیرالدین بابر نے نہ صرف محدود وسائل سے اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کو شکست سے دوچار کیا بلکہ ہندوستان کو ایک مضبوط وحدت میں تبدیل کیا وہ دانشور لیڈر اور بلند پایہ مصنف بھی تھے انھوں نے اپنی سوانح عمری ”تزک بابری“ کے نام سے لکھی۔

پریمقل قادروف لکھتے ہیں کہ شیبانی خان اندجان سے خوارزم تک، مرو سے ترکستان تک بدمست ہاتھی کی طرح آگے ہی بڑھ رہا تھا اس کی نظریں ایران سے عراق پھر مکہ اور ہندوستان کی طرف تھی وہ جہاں بھی جاتا انسانی کھوپڑیوں کو گھوڑوں کی سموں تلے روندتا جاتا۔

سمر قند پر جب وہ قابض ہوا تو ظہیرالدین بابر اپنے سیاسی مخالفین ہرات کے حکمرانوں مرزا مظفر اور بدیع الزماں کے پاس چل کر گیا ان سے درخواست کی کہ لوگوں کو شیبانی خان کے قہر سے بچانے کا واحد حل یہ ہے کہ تیمور خاندان کے تمام حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات اور جھگڑوں کو بھول جائیں اگر ہم سب متحد نہ ہوئے تو بہت بڑی مصیبت میں پھنس جائیں گے۔

ظہیرالدین بابر، مرزا مظفر اور بدیع الزماں کے درمیان جب یہ مکالمہ ہو رہا تھا پاس کھڑا ہرات کے حکمرانوں کا مشیر بہزاد سُن رہا وہ بولا جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ہمیں افسوس ہے کہ موجودہ ہرات میں آپ جیسا اعلی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت حکمران نہیں ہے۔ اس پر بابر بولا میرے خیال میں موجودہ ہرات کے حکمران بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔

بہزاد کے دبلے پتلے، تیکھے ناک نقش والے چہرے پر شرارت آمیز مسکراہٹ پھیل گئی وہ بولا ”جی ہاں، عالم پناہ، ہرات میں آج کل تعلیم کا تو کچھ پتہ نہیں پر روشنی بہت زیادہ ہے جانتے ہو کیوں، اس لیے ہمارا ایک بادشاہ آفتاب ہے اور دوسرا مہتاب، ان دنوں ہرات میں ایک نظم بہت مقبول ہے جس میں کچھ اس طرح کا خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کے والد حسین بیقرا اصلی حکمران تھے، ان کے بیٹے دو تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے کہ میں مہتاب ہوں اور دوسرا کہتا ہے کہ میں آفتاب ہوں، دونوں میں شب و روز یہی مقابلہ رہتا ہے ان کی باہمی کشاکشی شطرنج کھیلتے ہوئے دو بادشاہوں کی یاد دلاتی ہے۔

یہ دونوں اپنے عظیم والد کے نقش قدم پر نہیں چل رہے یہ نرگسیت کے مارے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ عقل کل ہیں دشمن کی بڑی سے بڑی فوج کا بھی مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں صائب مشوروں کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے عالی جاہ یہ تو نقلی بادشاہ ہیں محض شطرنج کے مہرے۔

ظہیرالدین بابر جیسا دانشور حکمران ہرات کے حکمرانوں سے مایوس لوٹا شیبانی خان بدمست ہاتھی کی طرح ہرات پر چڑھ دوڑا قتل عام کیا ہرات کے حکمران جن کے درمیان جن کے درمیان شب و روز افتاب و مہتاب کا مقابلہ ہوتا تھا شیبانی خان کو پشت دکھا کر ایسے بھاگے کہ اپنی بیگمات کو بھی ساتھ لے جانا بھول گئے۔

دشمن دو طرح کے ہوتا ہے ایک جو نظر آ رہا ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو نظر نہیں آتا ہمارا پالا اس وقت انسانیت کے ایک ایسے دشمن سے پڑا ہے جو نظر نہیں آ رہا۔ وقت تقاضا کر رہا ہے کہ وزیراعظم ایک دانشور لیڈر کی طرح تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو ایک میز پر بٹھائیں اور اس وباء سے نمٹنے کے لیے حل تلاش کریں۔ ریاستوں کے اپنے تعلقات بھی ہوتے ہیں مگر کچھ تعلقات شخصیات کے بھی ہوتے ہیں۔ وزیراعظم شخصیات پر مبنی تعلقات کو بھی بروئے کار لائیں اور انھیں متحرک کریں۔

مگر ایک بڑا المیہ ہے کہ جو کالم نویس یا اینکر حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا گالم گلوچ بریگیڈ اس کی ماں بہن ایک کر دیتا ہے خیر ہمارا اس سے کیا لینا دینا ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق بات کرتا ہے۔ اعلیٰ ظرف لوگ دلیل سے اختلاف کرتے ہیں اور کم ظرف گالیوں کا سہارا لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 108 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *