کورونا کا رونا، دنیا اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا۔ گزشتہ سال کے اختتام پرسر اٹھانے والے اس وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے۔ 180 سے زائد ممالک میں یہ بیماری وبا کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق اس بیماری کے باعث دنیا بھر میں اب تک 50 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے نہ صرف تجاوز کرچکی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے۔

صرف اٹلی میں ساڑھے 12 ہزارسے زائد اموات رپورٹ ہوئیں جو اب تک کسی بھی ملک میں کورونا کے باعث ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ اس کے بعد دوسرا نمبر اسپین کا ہے جہاں مرنے والوں کی تعداد ساڑھے نو ہزار سے زیادہ ہے۔ فرانس میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد ہے۔ برطانیہ، چین اور ایران میں 3 ہزار سے زائد جبکہ امریکہ میں یہ تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اورمفادات کے حصول کے لیے حکومتوں نے کس کس طرح ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے عالمی طاقتوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں دھکیلا۔ صرف دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما ناگاساکی پر ایٹم بم سے حملہ کرکے نہ صرف ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد بلکہ پورے شہر کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ زندہ بچ جانے والے ہزاروں افراد اورآنے والی کئی نسلیں تابکاری اثرات کے عذاب سے دوچار رہیں۔

سانحہ نائین الیون میں 3 ہزار سے زائد افراد پلک جھپکتے میں لقمہ اجل بن گئے جن میں 90 ممالک کے شہری شامل تھے۔ جس کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ بیس سال سے جاری اس ’جنگ‘ میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 8 لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ ریفیوجی اینٹرنیشنل کے مطابق عراق، شام، لبنان اور ترکی میں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کی ایک کڑی ہے۔

نائیون الیون ایڈوینچر کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، کیا محرکات کارفرما تھے اور کن مقاصد کے حصول کے لیے لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں دھکیلا گیا؟ اس سانحے سے کس نے کیا مفادات حاصل کیے؟ ہر گزرتے دن اور سال کے ساتھ ان تمام سوالوں کے جوابات پر سے پردہ ہٹتا گیا اور نئے ٹھوس شواہد سامنے آتے گئے، کئی راز پھر راز نہیں رہے۔ ابھی دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ کسی منطقی انجام کو نہیں پہنچی تھی کہ کورونا وائرس نے ایک بلا کی طرح پوری دنیا میں اندھیر مچادیا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ وائرس لاتعداد افراد کو اپنی لپیٹ میں لیتا جارہا ہے۔ چین میں کورونا وائرس کے آؤٹ بریک سے اس کے خاتمے تک (اگرچہ یہ بات ابھی یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ چین نے بھی اس وبا پر پوری طرح قابو پالیا ہے یا نہیں کیونکہ ’دی گارجین‘ کی خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس کو جاری امریکی انٹیلیجنس رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے چین میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد کو کم کر کے رپورٹ کیا گیا) اور دنیا بھرمیں اس کے پھیلاؤ تک جہاں بہت سے سازشی نظریات اور دعووں نے سراٹھایا وہیں بیجنگ اس وائرس کو ’امریکی مرض‘ قرار دے کر امریکہ پر اس وائرس کی تیاری اور ووہان میں اس کے پھیلاؤ کا الزام عائد کرتا رہا اور یہ تصور پیش کرتا رہا کہ امریکہ اسے سب سے طاقتور عالمی معیشت سے روکنا چاہتا ہے۔

جبکہ امریکہ اسے ’چائنیز وائرس‘ کہہ کرکورونا کو چین کے حیاتیاتی جنگ کے پروگرام کا حصہ بتاتا رہا۔ گویا اس وائرس کی شہریت کی فی الحال کوئی تشخیص یا تصدیق نہیں ہوسکی اور اس کی پیدائش ابھی تک ایک سوالیہ نشان ہے تاہم ماہرین کی جانب سے اس کو لیبارٹی میں تیار کیا جانے والا وائرس قراردیا گیا ہے۔ یہ وائرس کہاں کیسے اور کب تیار کیا گیا اور اس کے محرکات کیا ہیں؟ کن مقاصد کے حصول کے لیے دنیا بھر کی آبادی کی جانوں کو داؤ پر لگا دیا گیا؟

یہ اب کورونا کا رونا بند ہونے اور نہ جانے کتنے ماہ تک جاری موت کا رقص ختم ہونے کے بعد ہی منظر عام پر آئے گا۔ اس وائرس کو 180 سے زائد ممالک میں پھیلانے سے لے کر دنیا بھر کی آبادی کو لاک ڈاؤن کرنے تک کس کے کیا مفادات وابستہ ہیں، عالمی سطح پر شطرنج کی کون سی نئی بساط بچھائی جارہی ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں فی الحال ٹھوس حقائق سامنے آنے تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن اگر یہ لیبارٹری میں تیار کردہ وائرس ہے تو یقینا اس کی دوائی یا ویکسین بھی ضرور تیار کی جاچکی ہو گی جو کہ وائرس تیار کرنے والے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد جلد یا دیر سامنے لے ہی آئیں گے۔

اس وقت یہ وائرس دنیا پر ایک جنگ کی طرح مسلط کردیا گیا۔ جہاں دنیا کی معیشت کا پہیا ایک جگہ رکا ہوا ہے وہیں تمام ممالک کے شہریوں کے معمولات زندگی بھی ’جہاں ہیں وہیں رک جائیں کے تحت‘ جمود کا شکار ہیں۔ ایسے میں پوری دنیا کا فوکس صرف اس بات پر ہے کہ یہ وائرس جو ایک وبا کی شکل کی اختیار کر چکا ہے اس کا خاتمہ کب، کیسے اور کیا ہوگا؟ کب تک روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں لوگ اس ہی طرح مرتے رہیں گے؟ کب تک دنیا کے کئی ممالک اس ہی طرح لاک ڈاؤن رہیں گے؟

اس وائرس پر قابو پانے کا طریقہ کیا ہے؟ جب تک یہ وائرس دنیا میں کسی ایک شخص کے اندر بھی موجود رہے گا اس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ کیونکہ دنیا کو پہلی بار اس طرح کے وائرس کا سامنا ہے لہذا اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین، دوائی یا حل پہلے سے موجود نہیں ہے۔ اس ہی لیے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے اب تین حل تجویز کیے جارہے ہیں۔ امریکی جریدے کے مطابق اس وبا پر قابو پانے کا پہلا حل یہ ہے کہ اس وائرس پر قابو پانے کے لیے دنیا کے تمام ممالک ایک جیسی حکمت عملی اپناتے ہوئے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کریں جو کہ کافی حد تک ناممکن ہے۔

ہر ملک ایک وقت میں ایک جیسا لاک ڈاؤن اور اقدامات نہیں کرسکتا۔ دوسرا حل جو کہ کافی حد تک خطرناک بھی ہے وہ یہ کہ دنیا کو وائرس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے، اس طرح دنیا میں وہ ہی لوگ زندہ بچیں گے جن کی قوت مدافعت بہترین ہوگی اور باقی لوگوں کی موت کے ساتھ کورونا وائرس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ لیکن اس سے دنیا کوانسانی جانوں کے نقصان کی صورت میں بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ وائرس پر قابو پانے کا تیسرا حل طویل اور صبرآزما لیکن بہتر ہوگا کہ اس بیماری کی دوائی یا ویکسین تیار ہونے تک دنیا احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے نقصانات کو کم سے کم کرنے اور وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرے تو امید ہے جلد دنیا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *