خدمت خلق کرنے والوں کو سلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اس وقت کرونا سمیت کئی طرح کی آفات و بلیات میں گھرا ہوا ہے، کرونا تو ایک نہ دن اللہ کے فضل و کرم سے چلاہی جائے گا لیکن دوسری آفات و بلیات جو کہ ہمیں کیکڑے کی طرح جکڑچکی ہیں وہ باید و شاید ہی جائیں۔ آفات و بلیات کے نام یہ ہیں ناجائز منافع خوری، عدم احساس، نا اہلی، ضد، تعصب، نالائقی، بداحتیاطی، فتوے بازی وغیرہ وغیرہ۔

ایک طرف آزمائش کی گھڑی ہے دوسری طرف ہم نے پانچ پانچ روپے والے ماسک پچاس روپے کے کردیے، بیس تیس والے سینی ٹائزر اب پانچ سو ہزار سے کم پر راضی نہیں ہوتے۔ آٹے میں ملاوٹ کی شکایتیں عام ہیں، سنسنی خیزی اور ہیجانیت قومی میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا اور سوشل میڈیا سے لے کر مساجد کے اعلان تک آپہنچی ہیں۔ اس وقت آزمائش بھی سیاست سیاست کھیلی جارہی ہے، حاکم وقت اس وقت بھی کسی کی سننے پر تیار نہیں بس اپنی ہی سنوانا اور منوانا چاہتے ہیں۔ اس وقت دنیا کی تقریبا تمام نسلیں اور مذاہب سے جڑے افراد اس بلائے ناگہانی جسے کرونا کہا جاتا ہے سے دوچار ہیں، لیکن ہمارے ہاں وائرس کی بھی کئی قسمیں بنادی گئیں ہیں، شیعہ وائرس، سنی وائرس، تبلیغی وائرس اور لبرل وائرس۔

ابتدا میں تفتان بارڈر پر بدانتظامی کا مظاہرہ ہوا، نتیجے کے طور پر ایران سے آنے والے زائرین خود بھی مصیبت میں پھنسے اور ان کی وجہ سے ملک بھی وبال کی زد میں آیا، لیکن اس میں زائرین کا تو کوئی قصور نہیں وہ تو اپنی مذہبی عقیدت و احترام سے زیارتوں پر گئے تھے لیکن بہر حال بدانتظامی کی جہاں بات کی گئی وہیں ان بے چارے زائرین پر بھی تبرا کیا گیا، ابھی یہ تبرا جاری تھا کہ بے چارے معصوم لیکن اپنی ضد کے پکے تبلیغی بھی مشق ستم بننے کے لیے میسر آگئے۔

وسیم اکرم پلس نے فرمایا کہ ہم نے تین جنوری سے بھرپورتیاری کررکھی تھی، حالانکہ یہ کلموہے وائرس کی رونمائی سات جنوری میں چین میں ہوئی تھی لیکن ہم نے تیاری چار دن پہلے ہی سے کررکھی تھی، یہ اسی تیاری کا ہی نتیجہ تھا کہ دنیا آنے والی عفریت سے نمنٹے کے لیے کوششوں میں مصروف تھی اور ہم دھڑلے سے پی ایس ایل میچ کروارہے تھے کیونکہ پاکستان بڑی مشکلوں کے بعد اصلی پی ایس ایل دیکھ رہا تھا، پچھلی حکومتوں والے پی ایس ایل تو محض نقلی اور ڈھونگ شدہ ہی ہوتے تھے اور ان میں کھلاڑیوں کی بجائے زیادہ تر ریلوکٹے ہوتے تھے، اب تو عوامی اور انقلابی حکومت کی وجہ سے واقعی اصلی والے کھلاڑی کھیل رہے تھے تو پھر بھلا پی ایس ایل کیسے ملتوی کیا جاتا، ہاں پاکستان میں عورتوں پر بہت ظلم ہورہا تھا، ان کا استحصال عام بات تھی پھر بھلا عوامی حکومت کیسے برداشت کرتی، اس لیے بخوشی عورت مارچ کی بھی اجازت دی گئی، ایسے میں پنجابی کلچرل ڈے بھی منایا گیا، یہ ساری سرگرمیاں میرے خیال میں بالکل جائز ہیں لیکن میرے خیال میں اگر واقعی تین جنوری سے تیاری تھی اور دنیا ایک ناگہانی وبا سے پیش آزما تھی تو پھر یقینی طور پر ایسے ایونٹس کا انعقاد اسی وقت رک جانا چاہیے تھا، کیونکہ انہی دنوں تبلیغی جماعت کا سالانہ جوڑ طے تھا، انتظامیہ نے انہیں التواء کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا موقف یہ تھا یہ کیسا وائرس ہے جو پی ایس ایل کے میچوں کو دیکھنے والے تماشائیوں کا متاثر نہیں کرتا اور نہ عورت مارچ کے شرکاء کو کچھ کہتا ہے بس مذہبی لوگوں پر حملہ کرتا ہے، اگر اس وقت حکومت سارے ایونٹس کو منسوخ کرتی تو یقینی بات ہے کہ تبلیغی جماعت والے بھی شاید باز آجاتے۔

ابھی جو ہروقت ملک الموت کے ہرکارے کی طرح قوم کو ڈرا ڈرا کر ہلکان کیا جارہا ہے، اسی وقت آگاہی مہم شروع کی جانی چاہیے تھی۔ کیونکہ اس وقت سوشل میڈیا پر تصاویر آنی شروع ہوگئیں تھی کہ کرونا کے پیش نظر فلاں مارکیٹ ویران ہے، فلاں سیر گاہ اجڑ گئی، حتیٰ کہ بیت اللہ کے بند ہونے اور امام کعبہ کی دوران نماز بلند ہونے والی سسکیاں اور مختلف عرب ممالک میں دوران اذان گھر میں نماز اداکرنے کے فقرے شامل ہونے کی کئی آڈیوز اور فوٹیجز منظر عام پر آچکی تھیں۔

پاکستان کی اکثریت مسلمان ہے، ظاہری بات ہے، ہر وقت کوئی نہ کوئی پاکستانی عمرے کی غرض سے حجاز مقدس کے سفر میں ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سعودی حکومت نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں، عمرہ بند کیا تو جو لوگ ابھی وہاں بغرض عمرہ موجود تھے، انہوں نے واپس آنا ہی آنا تھا، ان کے لیے کیا گائیڈ لائن جاری کی گئی؟ ان کو کیا سمجھایا گیا، وہ لوگ آتے گئے، لوگوں میں گھلتے ملتے گئے اور وائرس کی ترسیل ہوتی رہی، مردان کے علاقے منگا میں بے چارہ بزرک معتمر تو جان سے گیا ہی گیا اس سے رابطے والے درجنوں بے چارے وائرس کا شکار بنے، اسی طرح ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے منڈی فیض آباد میں میاں بیوی عمرہ کرکے واپس آئے، کرونا کی علامات ظاہر ہونے پر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لایا گیا، نتیجہ مثبتت آنے پر اس کے محلے اور خاندان سے مزید بیس لوگوں کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا، آٹھ مزید لوگ وائرس میں مبتلا پائے گئے، نتیجہ پورا محلہ سیل کرنا پڑا۔ اب اہل محلہ کو راشن بھی دینا پڑا، وہاں پر فورس بھی لگانی پڑی اور پتہ نہیں یہ سلسلہ کہاں رکے یا نہ رکے۔

یہ وقت نہ تو الزام تراشیوں کا ہے نہ پوائنٹ سکورنگ کا، نہ دل کے پھپھولے پھوڑنے کا اور نہ پرانے بدلے چکانے کی، یہ وقت دعا ہے، وقت عمل ہے، وقت اتحاد ہے، وقت اصلاح ہے وقت توبہ ہے، ایرانی زائرین بھی ہمارے ہیں، تبلیغی بھی ہمارے ہیں، لبرل بھی ہم میں سے ہی ہیں، حکومت بھی ہماری، اپوزیشن بھی ہماری، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت پورے عمل و ارادے و استقامت سے حالات کا سامنا کیا جائے، اوپر بیان کیے گئے واقعات کا مقصد محض الزام تراشی نہ ہے بلکہ یہ وہ غلطیاں ہیں جن کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں، غلطیاں ہمیشہ انسان سے ہوتی ہیں اور دانشمند ہمیشہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے کی راہیں متعین کرتے ہیں۔

ہمیں اس وقت قوم بن کر سوچنے کی ضرورت ہے، اس وقت ہمیں خبط عظمت کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ اگر اس موقع پر اللہ ہم سے کوئی تعمیری اور بہتری کا کام لے رہا ہے تو شکر کرنا چاہیے، میں دیکھ رہا ہوں کہ ڈاکٹر طبقہ کہ رہا ہے کہ وہ اس وقت فرنٹ فٹ پر ہیں، بینکر کہ رہے ہیں کہ وہ اس مصیبت میں معاشی پہیہ رواں دواں کیے ہوئے ہیں، مولوی حضرات کہتے پائے جاتے ہیں کہ دیکھو جی ہم ایسے حالات میں پنج وقتہ صدائے اذان بلند کررہے ہیں، پولیس والے محاذوں پر کھڑے ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کررہے ہیں اور تو اور اب تو ہمارے بیوروکریٹ بھائی بھی قرنطیبہ مراکز کے باہر اور اندر سے تصاویر اپلوڈ کررہے ہیں کہ دیکھو جی جنہیں بابو اور اشرافیہ کا طعنہ دیا جارہا ہے وہ اگلے محاذوں پر کھڑے ہیں۔

بات اتنی سی ہے کہ دنیا میں جو بھی بندہ معاشرے کو کچھ دینا چاہتا ہے، اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے تو اس کا راستہ صرف خدمت خلق ہی ہے، آج جن لوگوں کو خدمت خلق کا موقع ملا ہے تو محض توفیق ربی ہے، اس پر شکر بجا لانا چاہیے اور ایسے تمام خدمت خلق کرنے والوں کو میرا سلام بلکہ میرا سلام تو شاید کچھ حیثیت نہ رکھتا ہو ایسے لوگوں کو رب کی رحمتیں اور نورانی ملائکہ بھی سلام کہتے ہیں۔ ایسے موقع پر جہاں کچھ لوگ سلام سمیٹ رہے ہیں تو وہاں کچھ لوگ کسی بے چارے غریب کو صابن کی ایک معمولی ٹکیہ دے کر فیس بکی تصویری رسید جاری کرکے لعنتیں وصول کررہے ہیں، اللہ انہیں ہدایت عطا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *