کرونا وائرس، بے حیائی اوراللہ کا عذاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاوڈاسپیکر پر چیختے چلاتے مقامی مسجد کے پانچویں پاس مولوی صاحب ہوں یا پھر ٹی وی چینلز، یوٹیوب اور فیس بُک پرہزاروں دینی کتابیں پڑھ کر بیٹھے علماء دین، سب سائنس کی ترقی سے فائدہ اُٹھا کر اُسے معاشرتی بے راہ روی کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔

یوں تو یہ مولوی حضرات سال میں کئی بار ہوائی جہاز اور تیزرفتار کاروں میں دُنیا بھر کا سفر شان سے کرکے چند ہی گھنٹوں میں دُنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تبلیغ کرنے اور اپنے ماننے والوں سے نذرانے وصول کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ اور تو اور دل کا دورہ پڑے تو ایسے اسپتالوں کا انتخاب کرتے ہیں جنہاں جدید ترین طبی سہولیات اور بہترین تربیت یافتہ عملہ موجود ہو۔ مگرپھر بھی سائنس سے اُنہیں خدا واسطے کا بیر ہے۔

اور اب تو مولوی حضرات نے سائنس کے ساتھ ساتھ عورت مارچ میں لگنے والے نعرے میرا جسم میری مرضی کو بے حیائی کی انتہا گردانتے ہوئے کرونا وائرس کی آمد کو بھی اس بے حیائی کا پھل بتانا شروع کردیا ہے۔

یہ بات تو واضح ہے کہ مردوں کے ہجوم میں جنسی اشتہا انگیز بیانات دیتے اور حوروں کے خدوخال کی تفصیلات بیان کرتے مولوی حضرات ہوں یا مخلوط نظام تعلیم میں پڑھنے والے اور ملٹی نیشنل کمپنیز کے دفاترمیں ہر روز عورتوں کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے اورکام کرتے ماڈرن پڑھے لکھے نوجوان لڑکے گویا سب ہی اپنے گھر سے باہر کی عورتوں میں دلچسپی رکھتے اور کسی نہ کسی طرح جنسی تعلقات بنانے کے خواہش مند ضرور ہوتے ہیں۔

مگر تقریبا ان سب ہی کوعورتوں کی اجتماعی خودمختاری یعنی اپنی زندگی سے متعلق فیصلے کرنے کے حق سے خطرہ ہے اور وہ عورتوں کے اپنے ہی جسم پر حق رکھنے کے لئے اُٹھنے والی آواز کو بے حیائی مانتے ہیں۔

اب بھلا دُنیا میں سب سے زیادہ پورن ویب سائیٹس دیکھنے والی قوم کو کون بتائے کہ عورت کے جسم کا مصرف صرف تمھاری جنسی خواہشات کو تسکین پہنچانا نہیں ہے۔

ناہی وہ تمھارے حُکم کی غلام ہے اور نہ ہی اُسے تمھارے نام نہاد تحفظ کی ضرورت ہے۔

بللکہ یہ کہنا شاید زیادہ دُرست ہوگا کہ عورت کو بس تم محافظوں سے ہی محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔

بے حیائی عورت کی خود مختاری میں نہیں بللکہ سڑک پر سے گزرتی ہر عورت پر تمھاری عُریانی سے بھرپور نظر اور ماشا اللّہ کستی آواز میں ہے۔ جو اصل میں جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتی ہے۔ اور جس سے بچنے کے لئے عورت اپنے آپ کو مزید پردوں میں چھپاتی جارہی ہے مگر جتنا وہ اپنے آپ کو چُھپا رہی ہے تمھاری آواز یں اور بھی بُلند ہوتی جارہی ہے۔

بے حیائی تو رشتہ سے انکار کردینے پر بے گناہ لڑکیوں پر تمھارا تیزاب پھیکنا اور غیر مسلم لڑکیوں کو اغوا کرکے زبردستی کلمہ پڑھا کر اُن کا نکاح پڑھوانا ہے۔ جس کی خبریں اخبارات میں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔

بے حیائی تو یوٹیوب پر موجود وہ لاکھوں وڈیوز ہیں جس میں پاکستانی مرد وحشت سے نیم برہنہ مجرے دیکھ دیکھ کر نوٹ نچھاور کرتے ہیں اور واپس گھر جاکر اپنے گھر کی عورتوں کو دلیری سے تحفظ فراہم کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔

اصل میں بے حیائی تو معاشرے کی طرف سے مردوں کو دیے گئے وہ لامحدود اختیارات ہیں جن کی بنیاد پر عورت اور مرد دونوں یہ سمجھتے ہو کہ مردوں کو عورتوں پر فضلیت حاصل ہے۔ اور اس لیے مردوں کو حق کے وہ عورتوں کی زندگی کے فیصلے کرسکیں۔

سو اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم کرونا وائرس کو تمہاری اس بے حیائی پر اللہ کا عذاب سمجھیں یا ایک وبائی مرض جس کا علاج سائنس ہی سے مل سکے گا کسی مذہبہ پیشوا کے بس میں نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *