پاکستان میڈیکل کمیشن یا کونسل، معاملہ کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اکتوبر 2019 کی بات ہے، میں اپنے روم میں بیٹھا، فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے سالانہ امتحانات کی تیاری کر رہا تھا کہ یک دم خبر آئی کہ حکومت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کر دیا ہے، اور اس کی جگہ، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیا ادارہ پاکستان میڈیکل کمیشن بنایا جائے گا۔

اس خبر کو سن کر پوری میڈیکل کمیونٹی میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی، کیونکہ پاکستان میں میڈیکل تعلیم کو ریگولیٹ کرنے والا ادارہ (جسے پوری دنیا مانتی ہے ) کو یک دم ختم کر دیا گیا۔ حکومت کو اس جلدبازی فیصلے پر، ہر جگہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ڈاکٹرز کی ہر تنظیم بشمول وائے ڈی اے، پی ایم اے، وائے سی اے نے اس حکومتی عمل کی مذمت کی اور اس آرڈنینس کی ہر جگہ مخالف کرنے کا اصولی فیصلہ کیا۔

حکومت نے عددی اکثریت کی بنیاد پر سینیٹ سے یہ آرڈیننس آسانی سے پاس کروا لیا، جبکہ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں قومی اسمبلی سے بھی منظوری حاصل کر لی اور یہ آرڈیننس قانون کا حصہ بن گیا۔ جمہوریت میں یہ آمریت کی بدترین مثال تھی، اس آرڈیننس کے فوری بعد پی ایم ڈی سی بلڈنگ کو سیل کر دیا گیا اور اس کے ملازمین کو کہا گیا کہ وہ کل سے آفس نا آئیں، یہ سیل حکومت نے پولیس کی مدد سے کیا۔ تھوڑے دنوں میں پی ایم ڈی سی ملازمین نے یہ آرڈیننس عدالت میں چیلنج کر دیا۔

کچھ غیر جانبدار حلقوں کا خیال تھا کہ حکومت نے جو پی ایم سی تشکیل دی ہے، اس سے وہ ساری خامیاں دور ہوں گی جو پی ایم ڈی سی کے ڈھانچے میں تھیں، لیکن جیسے ہی حکومت نے پی ایم سی کے ڈھانچے کو پبلک کیا تو ایک کہرام مچ گیا، کیونکہ پی ایم سی کے بورڈ آف گورنرز میں صرف پرائیویٹ میڈیکل کالجز مالکان اور پروفیسرز کو نمائندگی دی گئی، پبلک سیکٹر کالجز کو یک دم فراموش کر دیا گیا، جبکہ پی ایم سی کے سربراہ بھی وزیراعظم کے ہسپتال شوکت خانم سے لائے گئے، یہ صورتحال دیکھ غیرجانبدار حلقے بھی حکومت کے خلاف ہو گئے کیونکہ پی ایم سی صرف مافیا کو نوازنے کے لئے بنایا گیا۔

جب حکومت نے اس بدنام زمانہ آرڈنینس کے نکات پبلک کیے تو حکومت کا مکروہ چہرہ مزید سامنے آ گیا۔ پی ایم سی آرڈیننس کے یہ بنیادی نکات تھے۔

1۔ میڈیکل طلبہ کے لئے نیا امتحان این ایل ای (نیشنل لائنسنسگ ایکزائم) لازمی کر دیا گیا۔ جو ہاؤس جاب سے پہلے اور بعد میں ہو گا، اس کے بنا لائسنس نہیں ملے گا، یعنی پاکستان کی تمام میڈیکل یونیورسٹیز کے امتحانات پر عدم اعتماد کر دیا گیا۔ یوں میڈیکل طلبہ پر مزید بوجھ لاد دیا گیا۔

2۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو کہا گیا کہ وہ جتنی مرضی فیس لیں، پی ایم سی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 3۔ پی ایم سی کسی بھی میڈیکل کالج کی سالانہ انسپکشن نہیں کرے گا 4۔ جو چاہے پرائیویٹ میڈیکل کالج کھول سکتا، ہر سال فیس کا ایک خاص حصہ پی ایم سی کو دنیا ہو گا۔ 5۔ ایم بی بی ایس کے بنیادی مضامین کے لئے ڈاکٹر اساتذہ کی پابندی کو ختم کر دیا گیا۔ 6۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو اختیار دیا گیا وہ اپنی داخلہ پالیسی خود بنائیں۔ 7۔ میڈیکل کالجز میں تعلیم کے معیار کو چیک کرنے کے لئے نیا امتحان این ایل ای متعارف کروایا گیا۔

یہ تھے پی ایم سی آرڈنینس 2019 کے بنیادی نکات (باقی نیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں ) ۔ یہ نکات پڑھنے کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ آرڈیننس صرف اور صرف پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے مالکان اور مافیاز کو نوازنے کے لئے بنایا گیا۔ پی ایم ڈی سی پہ اس شب خون مارنے والوں کے سربراہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان کے کزن اور ہیلتھ ٹاسک فورس کے سربراہ جناب نوشیرواں برکی تھے (جن کے کارناموں کے لئے ایک علیحدہ مضمون کی ضرورت ہے ) ۔

پی ایم ڈی سی کے ملازمین نے اس آرڈنینس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، ہائی کورٹ نے اس آرڈیننس کو منسوخ کر دیا اور فروری 2020 کو پی ایم ڈی سی کو دوبارہ کھولنے کا موقع دیا گیا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ عدالت پی ایم سی آرڈنینس 2019 کو غیر آئینی و قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیتی ہے اور پی ایم ڈی سی کو بحال کرتی ہے۔ حکومت نے پی ایم ڈی سی کو بحال تو کر دیا لیکن بلڈنگ کا انتظام پی ایم ڈی سی انتظامیہ کو نا دیا۔ اس حکومتی عمل کے بعد پی ایم ڈی سی ملازمین نے ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی۔

30 مارچ کو جب اس درخواست پر سماعت ہوئی تو جج صاحب نے ریمارکس دیے کہ ”وزیراعظم، وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے“ اور ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ پی ایم ڈی سی کو ڈی سیل کر کے اس کا انتظام پی ایم ڈی سی انتظامیہ کو دیا جائے، اس کام کے لئے حکومت کو ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ حکومت نے فوراً نوٹیفکیشن جاری کر کے پی ایم ڈی سی بحال کر دی اور رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو ان کے آفس کا چارج دے کر عدالت کو مطمئن کر دیا گیا۔ لیکن جب اگلے دن رجسٹرار صاحب اپنے آفس گئے تو پی ایم ڈی سی بلڈنگ کو حکومت نے پھر تالا لگا کر بند کر دیا تھا اور اس کے ملازمین گزشتہ 6 ماہ کی طرح سڑک پر احتجاج کرتے دکھائی دیے۔

آج پانچ دن ہونے کو آئے ہیں، حکومت عدالتی فیصلے کے عمل درآمد نہیں کر رہی اور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، اور بیس ہزار سے زائد فریش میڈیکل گریجوایٹس ہاؤس جاب کے لائنس کے لئے در بدر ذلیل ہو رہے ہیں۔ ہاؤس جاب سے فارغ ہونے والے پریکٹس لائسنس کے لئے الگ ذلیل ہو رہے ہیں، جبکہ حکومت اپنی ہٹ دھرمی ہر قائم ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نئے ادارے تو بنانے سے قاصر ہے ہی بلکہ یہ پرانے اداروں کو بھی تباہ کرنے کی راہ پر ہے۔ پی ایم ڈی سی اس کی ایک چھوٹی سے مثال ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر کرپشن کے الزام تھے، لیکن تحریک انصاف پر کرپشن کے ساتھ ساتھ نا اہلیت کا نشان بھی لگ چکا ہے۔ بجائے اس کے کہ، حکومت پی ایم ڈی سی کی کمزوریوں کو دور کرتی، اس کو مزید بہتر بناتی، حکومت نے مافیاز کو نوازتے ہوتے پرانا ادارہ ہی ختم کر دیا (جس کی ڈگری کو پوری دنیا میں مانا جاتا ہے ) حکومت کی نا اہلیت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ پی ایم ڈی سی کو ختم کرنے کے ساتھ ہی اندرون ملک سمیت بیرون ملک کام کرتے ڈاکٹرز کا بھی مستقبل خاک میں ملا دیا گیا، جن میں سے اکثر اپنا لائنس وقت پر نا جمع کروانے کی وجہ سے نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اس معاملہ کے حل کے لئے تجاویز درج زیل ہیں

1۔ حکومت فی الفور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو بحال کرے اور اس کی انتظامیہ کو مکمل اختیار دیا جائے 2۔ جتنے بھی فریش گریجوایٹس ہیں، انہیں پروویژنل لائسنس کے بغیر ہی ہاؤس جاب کی اجازت دی جائے تاکہ ان کا مزید وقت ضائع نا ہو۔ 3۔ تمام فریش گریجویٹس کو پروویژنل لائسنس جلد از جلد جاری کیے جائیں 4۔ جن کی ہاؤس جاب ختم ہو چکی، انہیں پریکٹس لائسنس جلد جاری کیے جائیں۔ 5۔ پی ایم ڈی سی ملازمین کو ان کی 6 ماہ کی تنخواہ دی جائے 7

۔ حکومت نے پی ایم ڈی سی میں جو بھی اصلاحات کرنی ہیں وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کرے۔ 8۔ جو بھی نئی اصلاحات لائی جائیں اس کا اطلاق بیچ 2020 سے 2024 یا 2021 سے 2025 پر کیا جائے، اس سے پہلے جو بیچز پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈ ہیں ان پر پرانے ہی اصول نافذ ہوں۔ 9۔ جن طلبہ کے رجسٹریشن فارمز پی ایم ڈی سی میں جمع ہیں ( پی ایم سی آرڈنینس کی وجہ سے جن کی رجسٹریشن تاخیر کا شکار ہے، ان میں زیادہ تر فریش گریجوایٹس ہیں ) ان کو جلد از جلد پی ایم ڈی سی میں رجسٹرڈ کیا جا سکے تاکہ ان کی ہاؤس جاب میں مزید تاخیر نا ہو۔ 10

۔ بیرون ملک جو پاکستانی ڈاکٹرز اس حکومتی نا اہلی کی وجہ سے اپنی نوکریاں کھو بیٹھے ہیں، حکومت ان کی نوکریوں کی بحالی کے لئے کردار ادا کرے۔ 11۔ ہیلتھ ٹاسک فورس کے لئے پاکستانی ڈاکٹرز کی خدمات سے استفادہ کیا جائے ناکہ اپنے کزن، امریکی شہری نوشیرواں برکی کو نوازا جائے۔

میری وزیراعظم عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ خدارا اس مسئلے کی طرف توجہ دیں۔ حکومت کی اس غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہزاروں ڈاکٹرز کا مستقبل خطرے میں ہے۔ وطن عزیز میں ڈاکٹرز کی پہلے سے ہی کمی موجود ہے، کرونا کی وجہ سے یہ کمی زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ نئے ڈاکٹر کو جلد از جلد لائنس جاری کیے جائیں تاکہ یہ ڈاکٹرز اپنی قوم کی خدمت کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *