دنیا بعد از کورونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کورونا وبا سے بلا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ حالانکہ کہ کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد ماضی میں پھوٹنے والی وباؤں مثلاً طاعون، ایشیا فلو وغیرہ سے بہت کم ہیں۔ اس قدر خوف و ہراس کی ایک وجہ شاید دنیا کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے میں بسنے والے لوگوں کی ایک دوسرے کی پل پل کی خبر سے آگاہی ہے۔ کورونا کا جن بوتل سے باھر آنے تک روزانہ کی بنیاد پر دنیا بھر میں 102465 پروازیں چل رہی تھیں، جو اب جزوی طورپر دوبارہ بحال ہو رہی ہیں۔

حالات کی بےرحم موجیں بعض اوقات بڑے بڑے فیصلوں کو بہا کر لے جاتی ہیں۔ ایسی سنگدل موجوں کی روانی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب اس کی زد میں آئے ہوئے لوگ خود بخود اس وقت کے کٹھن فیصلے کو ماننے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ اندھیرے کی طرف دیکھتے رہنے سے اندھیرا بڑھتا جاتا ہے اور روشنی کے طرف دیکھنے سے اُمید اور اجالے کی کِرن پیدا ہوتی ہے۔ بہر حال کورونا سے جان خلاصی پا لینے والی دنیا کے خدوخال کورونا سے پہلی والی دنیا سے یکسر مختلف ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کورونا سے آنی والی تبدیلی مثبت ہوگی یا منفی۔

اگر منفی پہلووں پہ نظر ڈالیں تو سب سے بڑا خطرہ اور خوف دائیں بازو کے متشدد نظریات کے حامل سیاستدان ہیں۔ انسان اور ہجرت کا ازل سے ابد تک کا ساتھ ہے، ہجرت کی تاریخ اسی قدر قدیم ہے جتنی کہ بنی نوع انسان کی۔ انسان نے کبھی مذھب تو کبھی اپنے افکار و خیالات تو کبھی معاشی حالات کی وجہ سے ایک مقام سے دوسرے مقام کو ہجرت اور نقل مقانی کی۔ اب جبکہ کورونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو دائیں بازو کے نظریات کے حامل لیڈرز ہر ممکن کوشش کریں گے کہ اپنے ممالک میں پناہ لینے آنے والوں کا راستہ بند کر دیں بھلے وہ تباہ حال پناہ گزین ہوں یا سیاسی اور انسانی بنیادوں پہ پناہ لینے والے لوگ ہوں یا امیگریشن کے خواہشمند افراد ہوں۔

دوسرا منفی پہلو ممکنہ چین امریکہ سرد جنگ ہے، امریکی صدر مسلسل کورونا کو چینی وائرس کہہ رہے ہیں۔ چینی حکومت کے ترجمان نے صدر ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں ٹرمپ انسانوں کو تقسیم کرنے کی مذموم سازش میں لگے ہوئے ہیں۔ تیسرا منفی پہلو ریاست کے چوتھے ستون کے کردار سے متعلق ہے۔ جہاں میڈیا نے لوگوں کو وبا سے متعلق آگاہی دی وہیں پہ ریٹنگ کی دوڑ لوگوں میں خوف و ہراس اور اضطراب بھی پیدا کیا ہے۔

چوتھا پہلو منفی سے زیادہ مایوس کن ہے۔ اس کورونے نے دنیا کے سبھی ناخداؤں کو گھٹنوں پہ جھکا دیا ہے، کسی سپر پاور کا غرور و بھرم باقی نا رھا۔

خیر گزری کہ تو نہیں دل میں،
اب کوئی آرزو نہیں دل میں…
آئینے کا بھرم بھی ٹوٹ گیا،
عکس وہ ہو بہو نہیں دل میں۔
امریکہ جسے علم و سائنس کی سرزمین گردانا جاتا تھا، جس امریکہ بہادر کو دنیا میڈیکل سائنس کی اوج ثریا کا مقیم سمجھتی تھی دنیا وہ بھی اس کورونا وائرس کے آگے سرنگوں ہو چکا، دنیا کے خوشحال ترین ملک کا بھرم بھی چکنا چور ہوا۔

جہاں کورونا نے ان گنت نقصان پہنچائے وھاں کچھ مثبت پہلو بھی دیکھنے میں آئے۔ اول الذکر تو ماحولیاتی آلودگی میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان کا “ایئر کوالٹی انڈیکس” انسانی صحت کےلئے انتہائی مضر تھا، دسمبر 2019 میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کا ائیر کوالٹی انڈیکس بالترتیب 210، 215 اور 186 تھا۔ جو کہ صرف تین ماہ کے قلیل عرصہ میں کم ہو کر 69، 51 اور 46 ہو چکا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کہ دعوی بھی کر رہے ھیں کہ اوزون لیئر میں پڑنے والا شگاف بھی ھیلنگ پراسس میں ہے اور بھرتا جا رھا۔ تیسرا مثبت پہلو کہ لوگوں کو ایک زمانے بعد اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کو مل رھا۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے سنائی دیتے ھیں کہ اک عرصے بعد گھر والوں سے میل جول ہوا تو پتہ چلا یہ بڑے اچہے لوگ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *