پاٹے خاں اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ میرے دوست “پاٹے خان” سے تو واقف ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاٹے خاں خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ تمام سیاسی، سماجی، مذہبی، سائنسی علوم پر خود ہی سند ہے۔ یعنی اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔

تین ہفتے قبل جب ملک میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنا شروع ہوئی اور یہ سوچ بچار ہو رہی تھی کہ اس سے کیسے بچا جائے، کیسے اس پر قابو پایا جائے اور ممکنہ نقصان میں کیسے کمی لائی جائے۔ چائنہ اور دیگر ممالک کے ردعمل کے تناظر میں لاک ڈاؤن کی تجویز زیر غور تھی۔ اسی دوران میری ملاقات “پاٹے خاں” سے ہوئی، میں نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا جس پر “پاٹے خاں” نے نہایت مدبرانہ لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا۔

“پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کرونا وائرس ہے کیا؟ نہ کہ ملک میں افراتفری پھیلانی چاہیے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ وائرس کیا ہے؟ یہ ایک قسم کا فلو ہے جس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بڑی تیزی سے پھیل جاتی ہے۔ لیکن آپ کو پتہ ہے 97 فیصد لوگ جو اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں بلکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اور ان میں سے بھی 90 فیصد کو صرف کھانسی زکام ہوتا ہے جو خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ صرف چار یا پانچ فیصد ہیں جنہیں ہسپتال جانا پڑتا ہے اور یہ لوگ یا تو بزرگ ہوتے ہیں یا پہلے سے بیمار ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ کےلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرونا وائرس ہے کیا؟”

میں چونکہ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر یہ باتیں سن سن کر پک چکا تھا۔ لہذا میں نے بات آگے بڑھانا چاہی۔ لیکن “پاٹے خاں” نے حسبِ روایت اپنے جارحانہ لہجے اور کھنک دار آواز میں اپنی تقریر جاری رکھی۔ احتیاطاً ہمیں 6 فٹ کی جسمانی دوری پر رہنا مقصود تھا اس لیے میں منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کرانے سے قاصر تھا۔ ویسے بھی مجھ میں اتنی ہمت کہاں کہ میں یہ جسارت کر سکوں۔ اس کی بے ربط تقریر سننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ وہ بلا تعطل بولے جا رہا تھا۔

“یہ سب سے پہلے چائنہ میں پھیلا اور ہماری حکومت اُن سے مسلسل رابطے میں رہی، پھر یہ ایران میں آیا تو ہماری حکومت ایران سے بھی مسلسل رابطے میں رہی۔ اب ایران سے جو زائرین آ رہے تھے ان کو تفتان بارڈر پر روکنا بہت مشکل کام تھا کیونکہ وہ اک ویرانہ ہے، جہاں سہولیات نہیں ہیں۔ لیکن میں پھر بھی داد دیتا ہوں فوج کو اور حکومت کو جنہوں نے وہاں پر ان کو قرنطینہ میں رکھا اور ان کو سہولیات فراہم کیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا۔ اور حکومت کو پتہ تھا کہ یہ بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اس لیے حکومت نے فوراً نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں بھی یہ تجویز زیر غور رہی کہ کیا ہمیں لاک ڈاؤن کرنا چاہیے۔”

میں سمجھ گیا کہ اتنی لمبی تمہید کے بعد “پاٹے خاں” اب اصل موضوع پر بات کرے گا۔

“آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان کے وہ حالات نہیں ہیں جو امریکہ یا یورپ کے ہیں۔ ہمارے ملک میں غربت ہے۔ تقریباً پچیس فیصد لوگ شدید غربت کا شکار ہیں۔ ہم پہلے ہی بہت مشکل حالات سے گزر رہےہیں ہم اگر لاک ڈاؤن کریں گے تو لوگ کرونا کی بجائے بھوک سے مر جائیں گے۔ لیکن میں آپ کو اک بات بتا دوں کہ اس نے پھیلنا ہے جیسے باقی ملکوں میں پھیلی ہے اس نے یہاں بھی پھیلنا ہے۔ ہم اس کو روک نہیں سکتے۔ لیکن آپ نے یہ کرنا ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ زندگی موت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے”

بات تدبیر کی بجائے ایمان پر ختم ہوئی۔ لہذا میں مزید سوال کرنے کی بجائے ڈر کے مارے خاموش ہو گیا۔ اور گفتگو اپنے متوقع انجام کو پہنچی۔ روزبروز متاثرین میں اضافہ ہوتا گیا اور تقریباً چار پانچ روز بعد میری پاٹے خاں سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ میں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ہمیں لاک ڈاؤن کی طرف ہی جانا پڑے گا۔ جس پر “پاٹے خاں” نے لاک ڈاؤن کی مکمل تفہیم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

“آپکو پتہ بھی ہے لاک ڈاؤن ہوتا کیا ہے؟ یہ ایک طرح کا کرفیو ہے۔ جس میں لوگوں کو گھروں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اگر لوگوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا تو وہ کیسے گذارا کریں گے۔ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ہمارے حالات امریکہ، اٹلی یا چائنہ جیسے نہیں۔ اگر لاک ڈاؤن کریں گے تو رکشہ ڈرائیور، مزدور، دہاڑی دار، ریڑھی بان اور چھوٹے دکاندار بھوک سے مر جائیں گے۔ لوگوں کو خود ہی احتیاط کرنی چاہیے، گھروں سے نہ نکلیں، حکمت اور عقل سے کام لیں، ہاتھ دھوئیں اور صفائی کا خیال رکھیں کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔

اور یاد رہے اللّٰہ تعالیٰ مشکل حالات میں انسان کے ایمان کو آزماتا ہے اور اہلِ ایمان وہ ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ اسی طرح اک قوم کا بھی مشکل حالات میں ہی پتہ چلتا ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ ہماری قوم نے ہمیشہ مشکل وقت میں بڑا اچھا کردار ادا کیا۔ کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہمیں افراتفری سے ہے۔ اگر ملک میں افراتفری پھیل گئی تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔”

میں چپ چاپ بت بنا “پاٹے خاں” کی بے سری منطق پر مبنی، کھوکھلے جذبات سے بھرپور تقریر سنتا رہا اور کچھ نہ بولا۔ جبکہ کئی سوال قرطاسِ ذہن پر ابھرے۔ مثلاً کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے یا حکمت عملی بنانے یا اپنانے کا ایمان کی پختگی سے کیا تعلق؟

اگلے ہی روز خبر آئی کہ حکومت نے پندرہ روز کے لئے لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی میں نے “پاٹے خاں” کو فون کیا اور بڑے فاتحانہ انداز میں کہا ” آخر وہی کرنا پڑا نا۔” جس پر اس نے لاک ڈاؤن کی تشریحِ مکرر کچھ اس انداز میں کی۔

“بھائی لاک ڈاؤن تو اس وقت ہی شروع ہوگیا تھا جب صرف 21 کیس سامنے آئے تھے۔ تمام تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے اور تمام دیگر سماجی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں تھیں۔ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو نہیں ہوتا۔ لاک ڈاؤن اور کرفیو میں فرق ہوتا ہے اور میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ کرفیو لگانے کے جو اثرات مرتب ہوں گے ہم صحیح معنوں میں ان کا اندازہ نہیں کر پا رہے۔”

یہ بات سن کر میں دل ہی دل میں مسکرایا کہ “پاٹے خاں” نے اب لاک ڈاؤن کا مطلب ہی بدل ڈالا اور لاک ڈاؤن کی بجائے کرفیو پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ خیر میں نے ظاہراً اتفاق کیا اور اِدھر اُدھر کی بات کرتے ہوئے فون بند کردیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات میں مزید کشیدگی آنا شروع ہو گئی۔ متاثرین کی تعداد بڑھتی ہوئی دو ہزار کے لگ بھگ پہنچ گئی۔ ایک ہفتہ بعد میری “پاٹے خاں” سے پھر ملاقات ہوئی اور میں نے کہا۔ “اگر ہم وقت پر لاک ڈاؤن کرتے تو ہم اس وبا کے نقصانات میں کافی حد تک مزید کمی لا سکتے تھے اب کہیں حالات زیادہ ہی نہ بگڑ جائیں” جس پر “پاٹے خاں” نے پھر اپنی تقریر شروع کر دی۔

وہ اپنی نسیں پھلا پھلا کر اور زور لگا کر بولنے لگا جیسے وہ اپنی دلیل سے عاری بے وزن گفتگو میں وزن پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ اس نے پھر وہ ساری باتیں پوری دلجمعی کے ساتھ دوہرائیں جو وہ آگے متعدد بار ارشاد فرما چکا تھا۔ اور آخر میں اس نے اپنے روایتی انداز میں اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بس یہی کہا۔

“یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا لہذا ہمیں ایمان کی طاقت سے کرونا کا مقابلہ کرنا ہے”
بلآخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے “پاٹے خاں” سے جان کی امان چاہتے ہوئے سوال کیا۔
“اگر ہم نے ایمان کی طاقت سے ہی ہر چیز کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں پیٹ کاٹ کر اسلحہ خریدنے، دفاع پر اتنی زیادہ رقم خرچ کرنے اور گھاس کھا کر ایٹم بم بنانے کی کیا ضرورت تھی؟”

میرا سوال سنتے ہی “پاٹے خاں” بدستور آگ بگولہ ہو گیا اور نتھنے پھلاتا ہوا ناراض ہو کر چل دیا۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *