عمران خان کے حامی سے مخالف تک کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

اکتوبر 2011 میں عمران خان کا مینار پاکستان پر ہونے والا جلسہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل گیا۔ ہم جیسے مڈل کلاسیوں کو یہ دکھائی دینے لگا کہ کوئی تو ہے جو کہ سیاسی پارٹیوں کی باریوں سے نجات دلا سکے۔ سب سے بڑھ کر عمران خان ایک ایسا شخص تھا جس کی دیانت پر ہمیں شبہ نہیں تھا، نوجوان اس کے پیچھے تھے اور عام مڈل کلاس شہری طبقہ اس کی بھرپور سپورٹ کر رہا تھا۔

عمران خان پر یہ الزام لگایا جائے گا کہ ان کی کامیابی کے پیچھے جنرل شجاع پاشا کا دست شفقت تھا۔ یہ بھی کہا جائے گا کہ آصف زرداری نے نواز شریف کے گڑھ پنجاب، اور خاص طور پر لاہور میں ان کی گرفت کو کمزور کرنے کے لئے عمران خان کی مدد کے لئے ڈوریاں ہلائیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اتنی بڑی عوامی سپورٹ محض کسی کے دست شفقت یا ڈوریوں کے زور پر نہیں فراہم کی جا سکتی ہے جتنی کہ عمران خان کو ملی تھی۔ یہ صرف عوام کی بے پایاں محبت اور مقبولیت ہی سے نصیب ہوتی ہے۔

ہم عام لوگ اس وقت کی سیاسی پارٹیوں سے کیوں تنگ تھے؟ ایک وقت تھا کہ پیپلزپارٹی غریب اور ملازمت پیشہ طبقے کے لئے سیاست کرتی تھی۔ مگر وہ اب محض ڈرائنگ روم کی سیاست تک محدود ہو کر خواص کی سیاست کرنے لگی تھی۔ مسلم لیگ نواز سنہ اسی کی دہائی سے پنجاب پر حکومت کر رہی تھی۔ یہاں کے سکول، ہسپتال اور انتظامی امور میں کیا بہتری آئی؟ کیا محض لاہور کی چند سڑکیں بار بار بنا دینے کو گڈ گورننس کہا جا سکتا ہے؟ ترقی یافتہ دنیا کو تو چھوڑیں، ہمیں تو تیل کی دولت سے محروم دبئی میں جا کر ہی اس کی بادشاہی حکومت کی جو صورت حال دکھائی دیتی تھی، اسے دیکھنے کے بعد اپنے ملک کی حالت پر افسوس شدت اختیار کرتا تھا۔ انہوں نے اپنے ملک سے مخلص ہوتے ہوئے صحرا کی ریت کو سونے میں بدل ڈالا۔ ہماری ان حکومتوں نے اپنے سونے کو ریت کر ڈالا۔

دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو کہ اپنے شہریوں کو اعلی تعلیم دیتی ہیں۔ جو کہ قانون کی حکمرانی قائم کرتی ہیں۔ جمہوریت کو رواج دیتی ہیں۔ کرپشن کا خاتمہ کرتی ہیں۔ انتہاپسندی کو ختم کر کے ہر شہری کی جان، مال اور عقیدے کے احترام کا درس دیتی ہیں کہ سب مل کر ملک کو خوشحال بناؤ۔ وہاں کوئی اپنے خیالات کی وجہ سے وطن یا دین کو خطرے میں ڈالنے کا باعث قرار نہیں دیا جاتا ہے۔

\"Blind-Justice\"

ان نکات پر مسلم لیگ نواز یا پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا کام کیا ہے؟ کیا عدالتیں شہریوں کو سستا اور فوری انصاف دے رہی ہیں؟ کیا پولیس ہم شہریوں کی محافظ سمجھی جاتی ہے؟ کیا ہمیں حکومت کے فراہم کردہ نظام تعلیم اور صحت و فلاحی نظام پر اعتماد ہے؟ کیا یہ حکومتیں ٹیکس چوروں کو پکڑ کر ان سے عوام کا پیسہ وصول کر رہی ہیں تاکہ اسے عوام پر خرچ کیا جا سکے؟ کیا یہ حکومتیں ہمیں جواب دہ ہیں؟ کیا یہ جمہوریت کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں؟ کیا یہ شخصی حکومت کی بجائے ادارے قائم کر رہی ہیں؟ ان تمام سوالات کا جواب نہیں میں ہے۔ فوج کو الزام دینا فیشن ہے۔ مگر کیا ان سب کاموں سے بھی سیاسی حکومت کو فوج نے ہی روک رکھا ہے؟

ایسے میں عمران خان کا سیاسی افق پر نمودار ہونا ہم نے اپنی خوش بختی جانا تھا۔ عمران خان کے قائم کردہ شوکت خانم ہسپتال کی صورت میں ایک بہترین کارکردگی کا حامل ادارہ ہمیں دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں ایک گداگر کو بھی اسی خوشگوار انداز میں ایک معزز شہری کے طور پر دیکھا جاتا تھا جیسا ملک کے ایک امیر ترین شخص کو دیکھا جاتا تھا۔

\"pti-2014-0057\"

سنہ 2013 کا الیکشن پرجوش تھا۔ ہم سب عمران کی پوری حمایت کر رہے تھے اور تہ دل سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو برا جانتے تھے۔ مگر ہمارے خواب ایک ایک کر کے سراب ثابت ہوتے رہے۔ عمران خان کو پانچ سال کے لئے صوبہ پختونخوا کی حکومت ملی۔ پانچ سال بہت ہوتے ہیں۔ پانچ سال میں کایاپلٹ ہو سکتی ہے۔ پانچ سال ہی کی حکومت شیر شاہ سوری کو ملی تھی۔ اس کی اصلاحات ایسی ہیں کہ ہم آج تک ان سے فیض اٹھا رہے ہیں اور مغلوں اور گوروں سے ہوتی ہوئی اب بھی جاری و ساری ہیں۔ اس وقت تو اس بات کا احساس نہیں ہوا مگر اب سحر سے نکلے ہیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس صوبے کو پانچ سال تک ایک مثالی حکومت کے طور پر چلانے کی بجائے عمران خان کا سارا زور ملک میں انتشار برپا کرنے کی طرف دکھائی دیا۔ انتشار کیوں برا ہے؟ کہتے ہیں کہ سرمایہ سکون کی طرف آتا ہے اور انتشار دیکھتے ہی راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ ملک میں امن، قانون اور سیاسی استحکام ہو گا تو پھر ہی معاشی حالات بھی بہتر ہوں گے۔

دسمبر سنہ 2014 تک دھرنے کا شور رہا۔ یہی لگا کہ حکومت اب گئی کہ تب گئی۔ جنگ کے برعکس سیاست میں کبھی بھی سو فیصد جیت ہدف نہیں ہوتی ہے بلکہ ایسا سمجھوتا کیا جاتا ہے کہ سب فریق مطمئن ہو جائیں اور ہر ایک کو کچھ نہ کچھ ملے۔ اس وقت عمران خان کے پاس سودا کرنے کا بہترین موقع تھا کہ انتخابی اصلاحات پر پورا زور لگا دیتے اور وہاں سے کچھ لے کر اٹھتے تاکہ 2018 کے انتخابات میں ان کے ساتھ ویسی دھاندلی نہ ہو سکے جس کا ان کو 2013 کے انتخابات میں شبہ تھا مگر وہ یک نکاتی ایجنڈے پر ہی اڑے رہے کہ نواز شریف استعفی دیں۔ دو ڈھائی سال اس ہیجان میں گزار دیے کہ چار حلقوں کا فیصلہ کیا جائے۔ آج فیصلہ ہو گیا ہے تو پھر اس کا کیا فائدہ ہوا ہے؟ کیا قوم کی حالت میں بہتری آئی ہے؟ کیا اگلے الیکشن میں شفافیت کا عنصر بڑھا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب نہیں میں ہے۔ اگر ہم دھرنے کو دیکھیں تو اس میں عمران خان کو شادی کے علاوہ اور کیا حاصل ہوا تھا؟ اور وہ ناکام شادی بھی ان پر ایک بوجھ ہی ثابت ہوئی۔

\"panama-nawaz\"

اس کے بعد اب پاناما پیپرز کے نام پر ہنگامہ آرائی ہے۔ کیا پاناما پیپرز پر کچھ ثابت کیا جانا ممکن ہے؟ ثبوت کہاں سے آئیں گے؟ کیا پاناما یا برطانیہ ہمیں وہ ثبوت دے گا جو کہ ہمیں چاہئیں؟ بفرض محال ثبوت مل بھی گئے، تو مقدمہ تو انہی عدالتوں میں چلے گا جن میں کئی پشتوں کے بعد مقدمے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلے گا؟ صرف وقت کا زیاں! کیا عدالتی نظام کی شفافیت کے لئے ایک بھرپور مہم چلانا بہتر ہو گا یا پھر پاناما جیسے سرابوں پر؟ یاد رہے کہ یہ عدالتی نظام کی ناکامی ہی تھی جس کے بعد سوات میں طالبان نے سستے اور فوری انصاف کی عدالتیں قائم کیں اور رفتہ رفتہ اپنی حکومت قائم کر لی۔

عمران خان یہ فرما چکے ہیں کہ جب بھی ہم نواز شریف کی دھاندلی کے ایک طریقے کا توڑ کرتے ہیں تو وہ اگلی باری نیا طریقہ استعمال کر دیتے ہیں اور ہم دوبارہ مسلم لیگ نواز کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ کیا عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نواز شریف ان کو مارنے کی بجائے گھسیٹ رہے ہیں اور ان سے کھیل رہے ہیں؟ پہلے ڈھائی سال چار حلقوں اور دھاندلی پر گھسیٹتے رہے، اور بقیہ ڈھائی سال پاناما پر گھسیٹیں گے اور اپنی حکومت کا وقت پورا کر لیں گے۔ پھر عمران خان کیوں اس طرح سے دوبارہ دھاندلی کا شکار ہو رہے ہیں؟ اس ساری ہیجان خیزی کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ کس چیز میں بہتری آئی ہے؟ بہتری قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کی مہم چلانے سے آئے گی، کسی کو اقتدار سے ہٹانے سے نہیں۔ تاریخ کی گواہی ہے کہ اس کی جگہ جو دوسرا آئے گا، وہ پہلے سے برا ہی ہو گا۔

جہاں تک عمران خان کی نواز شریف سے شکایات کا تعلق ہے، تو ان پر ایک نظر ڈالنی ہو گی۔

نواز شریف ایک ڈکٹیٹر کے پروردہ ہیں۔ لیکن جب ملک کی آدھی تاریخ میں ڈکٹیٹر کی براہ راست حکومت ہو گی، تو کون سا سیاست دان اسی نرسری سے نہیں نکلا ہو گا؟ خود عمران خان بھی تو جنرل مشرف کی بھرپور حمایت کرتے رہے ہیں۔ صرف یہ کہ ڈکٹیٹر کی حمایت سے نواز شریف اپنا ہدف حاصل کر گئے، اور عمران خان ناکام رہے۔ دونوں لیڈروں میں کیا فرق ہوا؟

نواز شریف پر عدالتوں سے فرار کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بلاشبہ ماڈل ٹاؤن کیس وغیرہ میں تو یہ بات بالکل سامنے ہے کہ مختلف حربے اختیار کر کے نواز شریف عدالتوں سے بچتے رہے ہیں۔ مگر عمران خان بھی تو اسلام آباد کی عدالت سے اشتہاری قرار پا چکے ہیں۔ قانون کا نفاذ کرنے والا کوئی آ گیا تو دونوں پر ہی گرفت ہو گی۔ کیا اس وقت ہم یہی دلیل دیں گے کہ نواز شریف بڑا چور ہے اور عمران خان ایک چھوٹا چور اس لئے عمران خان بہتر ہے؟ دونوں لیڈروں میں کیا فرق ہوا؟

مالی کرپشن کا الزام آتا ہے۔ نواز شریف کے بے حساب امیر ہونے پر بات کی جاتی ہے۔ کیا اسے بطور کرپشن عدالت میں ثابت کرنا ممکن ہے؟ جنرل مشرف کے دور میں نیب اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجود کچھ نہ کر پایا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت پر بیس پچیس برسوں میں کچھ ثابت نہ ہوا۔ جو جرم عدالت میں ثابت نہ ہو، اس پر سزا دینا ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف عمران خان کی پارٹی کے ہی ایک اہم شخص نے ان پر بھی مالی حسابات میں گڑبڑ کے معاملے پر نالش کی ہوئی ہے اور عمران خان ادھر حساب دینے سے انکاری ہیں۔ تحریک انصاف کے بانی رکن اور عمران خان کے قریبی ساتھی اکبر بابر نے ان پر مالی بے قاعدگی اور حساب کتاب میں گڑبڑ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے مالی بے قاعدگی کے دستاویزی ثبوت قیادت کو فراہم کیے ہوئے ہیں لیکن تین سال سے شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ اب الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت مقدمہ چل رہا ہے لیکن تحریک انصاف خود کو صاف ثابت کرنے کی بجائے ویسے ہی حربے استعمال کر رہی ہے جن کا الزام وہ نواز شریف کو دیتی ہے۔ دونوں لیڈروں میں کیا فرق ہوا؟

\"imran-khan-offshore\"

آف شور کمپنیوں کی بات چل رہی ہے اور عمران خان اس مسئلے پر عمران خان وزیراعظم کے فوری استعفے کے طالب ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ آف شور کمپنیاں کالا دھن چھپانے کے لئے بناتے ہیں۔ شریف فیملی کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ وہ کالے دھن میں کھیلتے ہیں۔ لیکن عمران خان آف شور بنانے والے پہلے معلوم پاکستانی نکلے۔ ان کی آف شور کمپنی 1983 سے 2015 تک موجود رہی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ٹیکس میں بچت کی خاطر بھی آف شور کمپنی بنائی جاتی ہے۔ دوسری طرف عمر چیمہ صاحب کی رپورٹس کے مطابق عمران خان کو سال کی تقریباً ایک کروڑ روپے فارن ریمیٹنس آمدنی آتی ہے۔ اس آمدنی کا خفیہ ذریعہ کیا ہے؟ دونوں لیڈروں میں کیا فرق ہے؟

نجم سیٹھی کی عبوری حکومت کے دور میں پنجاب میں الیکشن فراڈ کا الزام لگایا گیا تھا اور پینتیس پنکچروں کا شوشا چھوڑا گیا تھا۔ بعد میں عمران خان سے پوچھ تاچھ کی گئی تو عدالت کے سامنے ان کا یہ بیان آیا کہ انہوں نے سنی سنائی بات کی تھی اور کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ڈھائی سال تک وہ انتخابی دھاندلی کے مسئلے پر قوم کو سولی سے لٹکائے رہے۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے داخلی انتخابات جو کہ سو فیصد عمران خان کے کنٹرول میں تھے، میں بے پناہ دھاندلی کی تحقیقات جسٹس وجیہہ الدین جیسے صاف ستھری شہرت کے حامل شخص نے کیں۔ دھاندلی کے مجرم قرار دیے گئے لوگوں کی بجائے جسٹس وجیہہ الدین کو گھر بھیج دیا گیا۔ دونوں لیڈروں میں کیا فرق ہوا؟

دوسری طرف عمران خان کے مسائل پر روشنی ڈالی جائے تو وہ بھی بہت ہیں۔ دھرنے کے دوران سے خاص طور پر ایک پہلو سامنے آ رہا ہے کہ عمران خان ایک بیان دیتے ہیں اور اگلے دن ان کو سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے جو بیان دیا تھا، اس کے کیا نتائج و عواقب ہیں، اور وہ اس سے پھر جاتے ہیں۔ اس میں سب سے بڑی مثال ہنڈی کے ذریعے پیسے بھِیجنے کا معاملہ ہے جس کے قومی کے علاوہ بین الاقومی عواقب بھی کچھ اچھے نہیں تھے۔ جبکہ ان اعلانات سے پہلے باقاعدہ بتایا جاتا تھا کہ کل شام میں ایک بہت اہم اعلان کرنے جا رہا ہوں۔ کیا یہ اعلانات کرنے کے بعد ہونے والی مشاورت اور اعلان واپس لینے سے بہتر یہ نہیں تھا کہ مشاورت پہلے کر لی جاتی؟ کیا ایسا لیڈر ہمیں وارا کھاتا ہے جو کہ پہلے بولے اور پھر تولے؟ \"sheikh-rasheed-imran-khan2\"

زبان کے استعمال کا ایک دوسرا معاملہ بھی ہے۔ سیاست میں کبھی پکے دوست یا پکے دشمن نہیں ہوتے ہیں۔ جس شیخ رشید کو عمران خان صاحب اپنا چپڑاسی بھی رکھنے سے انکاری تھے، آج وہی ان کی ناک کا بال بنا ہوا ہے۔ جس آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی کرپشن کی وہ قسمیں کھاتے تھے، آج اسی کے ساتھ مل کر پاناما کرپشن پکڑنے چلے ہیں۔ جس اے این پی کو نہ جانے کیا کیا کہہ ڈالا، تحریک انصاف کی صف اول کی قیادت کو اسی کے لیڈروں کے گھر جا کر ان کی مدد مانگنی پڑی۔ اسی لیے صف اول کے سیانے لیڈر خود کبھی کسی دوسرے لیڈر کے بارے میں بدزبانی نہیں کرتے ہیں، اس کام کے لئے دوسرے درجے کی قیادت میں سے کسی کو مقرر کیا جاتا ہے۔ اب ایک طرف طلال چودھری صاحب ہوتے ہیں، ایک طرف خواجہ سعد رفیق ہوتے ہیں، اور دوسری طرف عمران خان صاحب بدزبانی کے جوہر دکھا رہے ہوتے ہیں۔ عمران خان بہت اچھا بولتے ہیں، لیکن اگر وہ یہ سیکھ لیں کہ کب خاموش رہنا بہتر ہوتا ہے، تو وہ اپنی سپورٹ اس طرح نہیں کھوئیں گے۔ الہامی کتب دانش سے بھرپور ہیں۔ انجیل مقدس میں اس معاملے پر ایک بات کہی گئی ہے جس کا مفہوم ابراہام لنکن نے کچھ یوں بیان کیا ہے: خاموش رہ کر خود پر احمق ہونے کا شک کروانا اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ بندہ بات کر دے اور تمام شکوک ختم کر ڈالے۔

کیا عمران خان نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ ان کے کتنے حامی ان کو چھوڑ چکے ہیں؟ کیا کبھی انہوں نے اس کی وجوہات پر غور کیا ہے؟ کتنے ہی لوگ تھے جو کسی وقت ان کے شدید جذباتی حامی تھے اور آج مخالف ٹھہرے ہیں۔ کیوں؟ عمران خان صاحب سے عرض کی ہے:

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں

\"imran-and-reham-walima\"

سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان ہر تقریر میں فرماتے ہیں کہ میرا قوم سے پکا وعدہ ہے کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور پکا وعدہ کروں گا۔ قوم نے یہ وعدہ بارہا پاش پاش ہوتے دیکھا۔ سب سے نمایاں واقعہ تو ریحام خان کا ہی ہے۔ میڈیا پر خبر چلی کہ عمران خان کی ان سے شادی ہونے جا رہی ہے۔ عمران خان نے خصوصی پریس کانفرنس کی اور اس کی تردید کی، اور چند دن کے اندر اندر ولیمہ کھاتے دکھائی دیے۔ اس کے بعد دوبارہ طلاق کا ایشو بنا اور خبر چلی کہ ریحام خان سے طلاق ہو رہی ہے۔ عمران خان نے دوبارہ خصوصی پریس کانفرنس کر کے اس کی بھرپور تردید کی کہ وہ طلاق نہیں دے رہے ہیں۔ اور طلاق دے دی۔

مان لیا کہ نواز شریف بہت جھوٹے ہیں۔ مان لیا کہ آصف زرداری وعدوں کو قرآن حدیث جیسا مقدس نہیں سمجھتے ہیں اور جھوٹ بول جاتے ہیں۔ لیکن کم از کم وہ یہ تو نہیں کہتے کہ ”میرا قوم سے پکا وعدہ ہے کہ اس سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا“۔

چلیں سیاست کو گولی ماریں۔ ہم طبعاً غیر سنجیدہ آدمی ہیں۔ آپ کو ایک لطیفہ سنا کر بات ختم کرتے ہیں۔

صاحبو ہوا یوں کہ ایک پادری صاحب کا گزر ایسے چند بچوں کے پاس ہوا جو کہ درمیان میں ایک سیب رکھے اس کے گرد جمع ہو کر نہایت سنجیدگی سے کوئی کھیل کھیلنے میں مصروف تھے۔ پادری صاحب نے سوچا کہ ان بچوں کو ہدایت دی جائے تاکہ یہ یسوع مسیح کی سچی بھیڑیں بن پائیں۔ جا کر پوچھنے لگے کہ ”میرے بچو، کیا \"little-boy-with-apple\"کھیل کھیل رہے ہو؟“ بچوں کا سردار اٹھا، جھک کر پادری صاحب کو سلام کیا، اور گویا ہوا ”اے مقدس روح، ہم جھوٹوں کا بادشاہ نامی کھیل کھیل رہے ہیں۔ جو سب سے بڑا جھوٹ بولے گا، یہ سیب اسے انعام میں دیا جائے گا“۔ پادری صاحب نہایت خفا ہوئے، کہنے لگے کہ ”بچو، جب میں تمہاری عمر کا تھا تو میں نے کبھی جھوٹ بولنے کا تصور تک نہیں کیا تھا“۔ تس پر بچوں کا سردار سر جھکا کر کچھ سوچنے لگا۔ اس نے باقی بچوں کی طرف دیکھا۔ سب نے سر ہلا کر اس کا حوصلہ بڑھایا۔ سردار نے سیب اٹھا لیا۔ پادری صاحب بہت خوش ہوئے کہ چلو بچوں کو گمراہی سے بچا لیا۔ ابھی وہ دل ہی دل میں خود کو شاباشی دے ہی رہے تھے کہ سردار دونوں ہاتھوں میں سیب اٹھائے ان کے پاس آیا اور بولا ”اے مقدس روح، ہم ہار گئے۔ آپ جیت گئے ہیں۔ پہلا انعام آپ کا ہوا“۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1419 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments