برٹولٹ بریخت کے کھیل “گیلیلو “کا ایک منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Galileo before the Holy Office

کردار

گلیلیو :    مرکزی کردار

آندریا :    گلیلیو کا طالب علم اور دوست

چھوٹا راہب : طالب علم

فیدر زونی : طالب علم

ورجینیا :  گلیلیو کی بیٹی اور کلیسا کی راسنح العقیدہ مقلد

***     ***

(پردہ اٹھتا ہے)

تاریخ : 22 جون 1633ء۔ ایک تاریخی دن ۔ اس روز ”عہد تعقل“ کا آغاز امکان میں تھا۔

منظر : روم میں فلورنس کے سفیر کا پائیں باغ ۔ چھوٹا راہب اور فیدر زونی بظاہر شطرنج کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن دراصل گلیلیو کے مقدمے کا فیصلہ انہیں مضطرب کئے ہوئے ہے۔ ایک کونے میں ورجینیا گھٹنوں کے بل تسبیح کے دانے گھما رہی ہے اور زیر لب مناجات اور دعاﺅں میں مصروف ہے۔

چھوٹا راہب : مقدس پوپ نے اسے اپنے حضور پیش ہونے کی اجازت ہی نہیں دی۔

فیدر زونی : اب سائنسی بحثوں کا وقت نہیں۔

آندریا: اس کے ساتھ بحث میں جیتنے سے تو وہ رہے۔ لیکن اس کا انجام یہ ہو گا کہ اسے مار ڈالیں گے۔

فیدر زونی : (کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے) کیا تم واقعی ایسا سمجھتے ہو ؟

آندریا : گلیلیو کبھی معافی نہیں مانگے گا۔

Bertolt Brecht

(خاموشی کا وقفہ)

چھوٹا راہب : تم جانو جب رات کو سونے کیلئے لیٹیں اور نیند آنکھوں سے بہت دور ہو تو ذہن میں ادھر ادھر کے بے ربط خیالات آتے رہتے ہیں۔ کل رات میں یونہی پڑا سوچتا رہا۔ کاش یہ لوگ گلیلیو کو پتھر کا وہ چھوٹا سا گولہ جیب میں لے جانے دیں جو گلیلیو ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہے اور جسے وہ عقل کا نقیب پتھر قرار دیتا ہے۔

فیدر زونی : وہ اسے جس بندی خانے میں ڈالیں گے وہاں قیدیوں کے لباس میں جیب نہیں ہوتی۔

آندریا : مگر گلیلیو معافی نہیں مانگے گا۔

چھوٹا راہب : یہ لوگ اس شخص کو سچ بولنے سے روکنا چاہتے ہیں جس نے حقیقت کو دیکھنے کی خواہش میں اپنی آنکھیں گنوا ڈالیں۔

فیدر زونی : ہاں ! ہو سکتا ہے کہ یہ پادری لوگ گلیلیو کے معاملے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

(خاموشی کا وقفہ)

آندریا: (ورجینیاکی طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہ بیٹھی دعائیں مانگ رہی ہے کہ گلیلیو تائب ہو جائے۔

فیدر زونی : اسے چھوڑو۔ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ جب سے گلیلیو گرفتار ہوا ہے اس بیچاری کو تو تن بدن کا ہوش نہیں۔ اس کیلئے فلورنس سے خصوصی طور پر اعترافات کروانے والا پادری بلایا گیا ہے۔

(منظر نمبر 10 کا خبر رساں داخل ہوتا ہے)

خبر رساں : مسٹر گلیلیو جلد ہی یہاں پہنچنے والے ہیں۔ ان کیلئے بستر تیار کیا جائے۔

فیدر زونی : تو کیا انہوں نے اسے چھوڑ دیا ؟

خبر رساں : مسٹر گلیلیو توقع ہے کہ پانچ بجے کے قریب اپنے تائب ہونے کا اعلان کریں گے۔ سینٹ مارکوس کے گرجا گھر میں بڑی گھنٹی بجا کر گلیلیو کے معافی نامے کا پورا متن عوام کو سنایا جائے گا۔

آندریا : میں نہیں مانتا‘ تم جھوٹ بولتے ہو۔

خبر رساں : مسٹر گلیلیو کو گھرکے پچھلے دروازے سے پائیں باغ میں لایا جائے گا تاکہ اسے مشتعل ہجوم سے بچایا جا سکے۔ لوگ تو ابھی سے گلیوں میں جمع ہو رہے ہیں۔

(خبر رساں باہر جاتا ہے‘ خاموشی کا وقفہ)

آندریا: چاند بھی زمین کی طرح مٹی کا ڈھیلا ہے۔ چونکہ چاند کی روشنی اس کی اپنی نہیں ہے۔ مشتری اپنی جگہ پر ساکن سیارہ ہے۔ اس کے گرد چار چاند گھوم رہے ہیں۔ اس لئے ہمارے اردگرد کوئی بلوری غلاف نہیں ہے۔ سورج کائنات کا مرکز ہے۔ زمین کائنات کا مرکز نہیں۔ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ سب کچھ گلیلیو ہمیں دکھا چکا ہے اور جو حقیقت کسی شخص نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہو وہ اسے کیسے جھٹلائے۔

(خاموشی کا وقفہ)

فیدر زونی : پانچ بجنے میں ایک منٹ رہتا ہے۔

(ورجینیا اونچی آواز میں دعا مانگتی ہے)

آندریا : سنو ! یہ لوگ سچ کو قتل کر رہے ہیں۔ (اپنی آنکھوں میں انگلیاں ٹھونس لیتا ہے۔ دوسرے دونوں طالب علم بھی یہی کرتے ہیں۔ فیدر زونی چھوٹے راہب کے پاس جاتا ہے اور تینوں سکڑے سمٹے کھڑے ہیں۔ کچھ نہیں ہوتا۔ خاموشی میں ورجینیا کی بڑبڑاہٹ سنائی دے رہی ہے۔ فیدر زونی بھاگ کر دیوار کی طرف جاتا ہے اور گھڑیال دیکھتا ہے مڑتا ہے۔ اس کے تاثرات بدل چکے ہیں وہ اپنا سر زور زور سے ہلاتا ہے۔ چھوٹا راہب اور آندریا کے سینوں پر بندھے ہاتھ نیچے آ جاتے ہیں)۔

فیدر زونی : نہیں کوئی گھنٹی نہیں بجی۔

چھوٹا راہب : گلیلیو نے معافی نہیں مانگی۔

آندریا: وہ سچ پر قائم رہا اس نے ٹھیک کیا۔ بالکل ٹھیک کیا۔

چھوٹا راہب : گلیلیو تائب نہیں ہوا۔

فیدر زونی : بالکل نہیں ہوا۔

(تینوں ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔ خوشی میں دیوانے ہو رہے ہیں)

آندریا : تو طے پایا کہ طاقت کے بل پر ہر بات نہیں منوائی جا سکتی۔ جو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو اسے کیسے جھٹلایا جائے۔ گلیلیو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ثابت قدم رہا۔

فیدر زونی : 22 جون 1633ء آج سے عقل کا عہد شروع ہو چکا ہے اگر گلیلیو نے معافی مانگ لی ہوتی تو میں جینے سے بیزار ہو جاتا۔

چھوٹا راہب : میں نے کچھ کہا نہیں مگر میں اذیت میں تھا۔ میرا ایمان کمزور نکلا۔

آندریا : مجھے مکمل یقین تھا۔

فیدر زونی : گلیلیوتائب ہو جاتا تو ہمارا اجالا رات کی تاریکی میں ڈوب جاتا۔

آندریا : مگر ایسا کیسے ہوتا۔ کبھی پہاڑ بھی پگھلے ہیں؟

چھوٹا راہب : (گھٹنوں کے بل جھک کر چیختا ہے) اوہ میرے خدایا تیرا شکر ہے۔

آندریا : آج درماندہ انسانیت سر اٹھا کر کھڑی ہو سکتی ہے۔ آج ایک شخص نے ان جاہلوں کے سامنے نہ کہنے کی جرات کی ہے۔

(عین اسی لمحے سینٹ مارکوس کے گرجا کی گھنٹی بج اٹھتی ہے۔ تینوں حیران پریشان گم متھان کھڑے ہیں)

ورجینیا : (کھڑے ہوتے ہوئے) سینٹ مارکوس کی گھنٹیاں ، اسے سزا نہیں ملی۔ وہ بچ گیا ہے۔

(گلی سے منادی کرنے والے کی آواز سنائی دیتی ہے جو اونچی آواز میں گلیلیو کا معافی نامہ سنا رہا ہے)

مناد کی آواز : میں‘ مسمی گلیلیو گیلی لائی‘ ریاضی اور طبیعات کا مدرس‘ اپنی ان تعلیمات سے تائب ہونے کا اعلان کرتا ہوں کہ زمین متحرک ہے۔ میں خلوص قلب اور راسنح ایمان کے ساتھ اس عقیدے سے انکار کرتا ہوں‘ اس خیال فاسد سے نفرت کرتا ہوں‘ اس بدعت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میں مقدس صحائف کے منافی تمام عقائد اور خیالات پر لعنت بھیجتا ہوں۔

(روشنی مدھم ہوتی ہے۔ تینوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں۔ سینٹ مارکوس کے گرجا گھر کی گھنٹی آہستہ آہستہ اور مدھم ہو رہی ہے۔ ورجینیا جا چکی ہے مگر تینوں طالب علم انتظار میں کھڑے ہیں)

آندریا : (اونچی آواز میں) پہاڑ پگھل گیا۔

(گلیلیو خاموشی سے داخل ہوتا ہے۔ اس کا حلیہ پہچانا نہیں جاتا۔ اس نے آندریا کی آخری بات سن لی ہے۔ وہ کچھ لمحوں کیلئے دروازے پر رک کر ان طالب علموں کا انتظار کرتا ہے۔ مگر تینوں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ گلیلیو آہستہ آہستہ چلتا ہوا آگے آتا ہے اور اپنی کمزور بصارت کی وجہ سے ٹٹول ٹٹول کر کرسی پر بیٹھ جاتا ہے)

آندریا : میں اس کی شکل نہیں دیکھ سکتا۔ اس سے کہو کہ یہاں سے چلا جائے۔

فیدر زونی : دھیرج ! دھیرج !

آندریا : (شدید غصے میں) اس شخص نے اپنی گردن بچانے کیلئے یہ سب کچھ کیا۔

فیدر زونی : اسے پانی کا گلاس دو۔

(چھوٹا راہب آندریا کیلئے پانی کا گلاس لاتا ہے۔ تینوں گلیلیو کی موجودگی سے بظاہر لاتعلق ہیں جو خاموشی سے کرسی پر بیٹھا منادی کرنے والے کی آواز سن رہا ہے۔ جواب کچھ فاصلے پر ایک اور گلی میں گلیلیو کا معافی نامہ پڑھ کر سنا رہا ہے۔)

آندریا : مجھ سے چلا نہیں جا رہا۔ ذرا میری مدد کرو

(دونوں اسے سہارا دے کر دروازے تک لے جاتے ہیں)

آندریا : (دروازے میں کھڑا ہو کر) بدنصیب ہے وہ دھرتی جہاں ہیرو پیدا نہیں ہوتے۔

گلیلیو : نہیں آندریا‘ بدنصیب ہے وہ دھرتی جسے ہیرو کی ضرورت پڑتی ہے۔

(پردہ گرتا ہے)

مترجم: وجاہت مسعود 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *