ایک گھر سے باہر کی مشہور شخصیت کا اظہار تشکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر فنکار کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ایک دن آسکر ایوارڈ کی تقریب میں پوری دنیا کے سامنے جھلملاتا جگمگاتا ہوا اسٹیج کی جانب بڑھے اور کالے رنگ کی اس دوشیزہ کو اپنی بانہوں میں لے سکے۔ ہمیشہ کے لیے اسے گھر کی زینت بنا سکے۔ افوہ۔ ایوارڈ کی بات کر رہے ہیں۔ قرنطینہ میں آپ کا ذہن بھی نجانے کدھر کی مٹر گشتیاں کرنے لگا ہے۔ جی تو ہم کہاں تھے؟ آسکر ایوارڈ کی تقریب میں۔ اسٹیج کی جانب بڑھتا ہوا خود کو ساتویں آسماں پر محسوس تو کرے لیکن ساتھ ہی ساتھ عاجزی کی کامیاب ایکٹنگ بھی کرے (بس دکھاوے کے واسطے ) ۔

ہاتھ میں ایوارڈ پکڑے اپنی تقریر کا آغاز کرے اور خدا سے شروع ہوتا ہوا محلے میں پان سگریٹ کی دکان میں بیٹھے گڈو تک کا شکریہ ادا کر دے۔ دل میں بھلے جس قدر مرضی تکبر کرے لیکن بظاہر دنیا کا سب سے ملنسار انسان ہونے کا ناٹک کرے۔ جیسا کہ یہ وقت کر فنکار کا خواب ہوتا ہے اس لیے ہمارے بہت سے دوست پہلی فلم ملنے سے پہلے ہی موقع کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ سوٹ نہیں سلواتے کے کہیں آوٹ آف فیشن نہ ہو جائے۔ لیکن تقریر تیار کر رکھتے ہیں۔ وقت کا کیا پتہ ہوتا ہے۔

جو لوگ اس تقریر کی تیاری نہیں کرتے وہی منہ کی کھاتے ہیں۔ ایوارڈ ملنے پر آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔ شومئی قسمت کے ایوارڈ بھی ان ہی کو ملتا ہے۔ تیاری والے شیشے کے سامنے تقریر ہی دہرائے جاتے ہیں۔

جناب عالی مقام، فدوی کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔ آج وہ مبارک ساعت آن پہنچی ہے کہ جس کو پانے کے لیے ہزاروں سال ٹویٹر نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔ آج ہم اس مقام پہ ہیں جو ہماری والدہ کی دعاؤں اور تمام فالوورز کی نیک خواہشات کا مرہون منت ہے۔

یوں تو ہمیں یہ یک طرفہ مکالمہ بیس ہزار کی گنتی پوری ہونے پر کرنا چاہیے تھا لیکن وہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کا دور دورہ ہے۔ کیا پتہ کل آپ نہ رہیں یا ہمارا پتہ کٹ جائے۔ جو کہنا سننا ہے وقت سے پہلے ہی کر لیا جائے۔

یہ سفر اس لیے آسان نہیں تھا کہ ہم ٹھہرے پاکستانی عورت۔ بہت سے لوگوں کے لیے تو یہ ہضم کرنا ہی مشکل تھا کہ ہم ایک انسان بھی ہیں۔ ہماری تصویر سے آگے بات پہنچتی تو کچھ کہنا سننا ہوتا۔ یوں تو ہم اپنے ڈی ایم کی داستانوں پر ایک الگ کالم لکھ سکتے ہیں لیکن قصہ مختصر ہمارے ہاں کے ادھیڑ عمر حضرات کو روزہ رکھنے کی بہت ضرورت ہے۔ ان کم عمر نوجوانوں کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ اگر ہم نے وقت پر بیشتر عورتوں کی طرح بچے پیدا کر لیے ہوتے تو شاید ہماری اولاد ان ہی سے سال دو سال کم عمر کی ہوتی۔

فالو کرنے کے بدلے ہمیں فالو کے لیے اصرار کرنے والوں اور ری ٹویٹ کے لیے سر کھانے والوں کا ذکر غیر ضروری ہے۔ افوہ، اب تو ہوگیا۔ آپ ہی بھول جائیے۔

ان خواتین کا ذکر بھی ضروری ہے جو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ڈٹی رہیں اور ہمارے ساتھ ڈی ایم میں ان مرد حضرات کی چغلیاں کرتی رہیں۔ کھانے بناتی رہیں اور ترکیبیں بانٹتی رہیں۔ کچھ تو ایسی پکی سہیلیاں بن چکی ہیں کہ کوئی بھی سوٹ لیتے ہوئے ان کی رائے لیے بنا تسلی نہیں ہوتی۔

ان میں سے کئی تو اس قدر حسین ہیں کہ ہمارے اندر کا مرد بھی بہک بہک جاتا ہے۔ ایک تو حسین اوپر سے فلٹر کی بہار۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے۔ کچھ کا بس چلے تو گھر سے باہر بھی فلٹر اوڑھ کر نکلیں۔

ان گنتی کے برابر مرد حضرات کا بھی شکریہ جنہوں نے ہمیں صرف عورت ہی نہیں بلکہ انسان بھی سمجھا۔ ہماری تحریروں اور ویڈیوز پر اپنی تعمیری آرا دیں۔ یوں تو یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے اور آٹا غالباً کچھ کچھ پھیکا ہی ہے۔

اچھا ان کم بختوں کا ذکر بھی ضروری ہے جو ہمیں فالو ایس لیے کرتے ہیں کہ طوفان بدتمیزی برقرار رکھ سکیں۔ اللہ کرے آپ سب کا خربوزہ ہمیشہ پھیکا نکلے۔ جس سے بھی رستہ پوچھیں وہ لاہوری نکلے۔ کون آئسکریم خریدتے ہی زمین پر گر جائے۔ بال بنا کر نکلیں اور سر پر کبوتر اپنے دل کا حال رقم کرتا جائے۔

آج کے دن اپنا آپ ایک ایسی مشہور و معروف شخصیت لگنے لگا ہے جسے گھر والے بھی نہیں جانتے۔ ان کا بس چلے تو مرغی کی جگہ ہمیں ہی روسٹ کرتے رہیں۔ کہ اس کے علاوہ ہمارا کوئی مصرف انہیں سمجھ نہیں آتا۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہمارے ماتھے پر بریانی لکھا ہوا ہے۔ ہماری شکل دیکھتے ہی ہر کوئی فرمائش کرنے لگتا ہے کہ مبادا ہم غلطی سے آرام کا خیال دل میں نہ لے آ جا ئے۔ شاید سب ہی مشہور لوگوں کی زندگی میں یہی تکلیفیں ہوتی ہیں۔ کوئی ملا تو پوچھیں گے۔

بس جی یہی کہنا تھا۔ کرونا وائرس کا پتہ نہیں اس لیے آج ہی اپنے تمام جاننے والوں کو کہئے کہ ہمیں فالو کریں۔ وقت کا پتہ نہیں لیکن مرتے ہوئے ہم بیس ہزاریا کہلوایا جانا پسند کریں گے۔

اتنا لمبا کالم لکھ ڈالا ہے۔ اب احساس ہو رہا ہے کہ پہلے ہی تقریر تیار کر لیتے۔ لیکن اگر تقریر تیار کی ہوتی تو یہ موقع ہی کیوں آتا؟ یہ سوچا کبھی آپ نے؟ نہیں، سوچنے کا کام شیطان کا۔
ہماری ٹیڈ ٹاک میں شامل ہونے کا شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *