جانور راج: انقلابی ہیرو باکسر، قصاب کو بیچ دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جارج آر ویل۔ مترجم: آمنہ مفتی)
جب باکسر کا کھر، مندمل ہو گیا تو اس نے ہمیشہ سے زیادہ کام کیا۔ درحقیقت، اس برس، تمام جانوروں نے غلاموں کی طرح کام کیا۔ فارم کے روزمرہ کے کاموں، پون چکی کی تعمیرِ نو کے علاوہ، ننھے سؤروں کے لئے سکول کی عمارت بھی تھی جس ابتداء مارچ میں ہوئی۔ بعض اوقات، کم خوراک کھا کے کئی کئی گھنٹے کام کرنا، برداشت سے باہر بھی ہو جاتا تھا، لیکن، باکسر کبھی نہ لڑ کھڑایا۔ اپنے قول اور فعل سے وہ کبھی یہ ظاہر نہ کرتا کہ اس کی طاقت اب وہ نہیں جو کبھی ہوا کرتی تھی۔

صرف اتنا تھا کہ اس کی ہئیت کچھ بدل گئی تھی؛ اس کی کھال اب اتنی چمکیلی نہیں رہی تھی جیسی کہ وہ کبھی ہوا کرتی تھی اور اس کی فربہ پٹھ جیسے سکڑ سی گئی تھی۔ دوسرے دیکھ کے کہتے تھے، ”باکسر، بھلاچنگا ہوجائے گا، بس برسیم اگنے دو“۔ بہار آئی مگر برسیم نے باکسر کو ذرا موٹا نہ کیا۔ بعض اوقات جب، وہ کوئی بڑا سا پتھر لئے جان توڑ کے ٹیکری کو جانے والی ڈھلان پہ چڑھ رہا ہوتا تھا تو یوں لگتا تھا کہ سوائے اس کی آگے بڑھنے کی خواہش کے کوئی شے نہیں جو اسے اس کے قدموں پہ کھڑا کیے ہوئے ہے۔

ایسے وقتوں میں اس کے ہونٹ، ”میں مزید محنت کروں گا“ کہتے ہوئے نظر آتے، اس کی آواز نہ رہی تھی۔ ایک بار پھر کلوور اور بنجامن گدھے نے اسے اپنی صحت کا خیال رکھنے کا کہا، مگر باکسر نے کوئی توجہ نہ دی۔ ا س کی بارہویں سالگرہ ہونے والی تھی۔ جو مرضی ہو اسے پروا نہ تھی، بس اس کے پنشن پہ جانے سے پہلے پتھروں کا خاصا ذخیرہ جمع ہو جائے۔

گرمیوں کی ایک ڈھلتی شام میں، افواہ اڑی کہ باکسر کو کچھ حادثہ پیش آ گیا ہے۔ وہ تنہا ہی، پتھروں کا چھکڑا، پون چکی تک گھسیٹنے چلا تھا۔ اور یقینی طور پہ یہ افواہ سچ تھی۔ چند ہی منٹوں میں دو کبوتر یہ خبر لے کے اڑتے اڑتے آئے ؛ ”باکسر گر گیا ہے! وہ پہلو کے بل پڑا ہوا ہے اور اٹھ نہیں سکتا! “

فارم کے قریباً نصف جانور، اس ٹیکری کی طرف دوڑے جس پہ پون چکی ایستادہ تھی۔ وہاں، چھکڑے کے دھروں کے درمیان باکسر پڑا تھا، گردن بڑھائے وہ سر تک اٹھانے کے قابل نہ تھا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں، اس کے پہلو پسینے سے تر تھے۔ اس کے منہ سے خون کی ایک پتلی سی لکیر بہہ رہی تھی۔ کلوور گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھ گئی۔

”باکسر! “ وہ رو پڑی، ”تم کیسے ہو؟ “

”یہ میرے پھیپھڑوں کی خرابی ہے، “ باکسر نحیف سی آ واز میں بولا۔ ”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بغیر ہی پون چکی مکمل کر لوگے۔ پتھروں کا خوب اچھا ذخیرہ ہو چکا ہے۔ میرے پاس یوں بھی ایک ہی مہینہ تھا۔ سچ کہوں تو، میں اپنی ریٹائرمنٹ کا ہی منتظر تھا۔ اور جیسا کہ بنجامن بھی بڑھیا رہا ہے، وہ اسے بھی اسی وقت پہ ریٹائر کر دیں گے اور وہ میرا ساتھی بن جائے گا۔ “

”ہمیں فوراً ہی کسی کو مدد کے لئے بلانا چاہیے، “ کوئی بھاگ کے فارم ہاؤس جاؤ اور چیخم چاخ کو بتاؤ کہ کیا ہوا ہے۔ ”

باقی تمام جانور یک بیک چیخم چاخ کو یہ خبر دینے کو فارم ہاؤس کی طرف دوڑے۔ فقط، کلوور رہ گئی اور بنجامن، جو باکسر کے پہلو میں لیٹ گیا اور بناء کچھ کہے اپنی لمبی دم سے مکھیاں جھلنے لگا۔ قریبا، پندرہ منٹ کے بعد، ہمدردی اور تفکر سے چھلکتا ہوا، چیخم چاخ آیا۔ اس نے کہا کہ کامریڈ نپولین نے فارم کے سب سے وفادار کارکن پہ ٹوٹنے والی اس آفت کی خبر شدید غم و اندوہ سے سنی ہے اور باکسر کو ڈھپئی کے شفا خانے میں علاج کو بھیجنے کے انتظامات کرا ہی رہے ہیں۔

جانوروں کو یہ کچھ براسا لگا۔ مولی اور سنو بال کے سواء کوئی جانور فارم سے کبھی کہیں نہیں گیا تھا اور وہ اپنے بیمار ساتھی کو انسانوں کے ہاتھوں میں چھوڑنے کے بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ مگر چیخم چاخ نے جلد ہی انہیں قائل کر لیا کہ ڈھپئی میں موجود سلوتری باکسر کے معاملے کو اس سے کہیں زیادہ تسلی بخش طریقے سے حل کر سکتا تھا جتنا کہ فارم پہ ممکن تھا۔ اور جب آدھے گھنٹے بعد، باکسر ذرا کچھ بہتر ہو گیا تو بدقت اپنے قدموں پہ کھڑا ہوا اور کسی طرح لنگڑاتا ہوا اپنے تھان تک پہنچا، جہاں بنجامن اور کلوور نے اس کے لئے پیال کا خوب اچھا بسترا بچھا دیا تھا۔

اگلے دو روز باکسر اپنے تھان ہی پہ رہا۔ سؤروں نے گلابی دوا کی ایک بڑی سی بوتل بھجوائی جو انہیں غسل خانے کی دواؤں والی الماری میں ملی تھی، اور کلوور، کھانے کے بعد، دن میں دو بار باکسر کو یہ دوا پلاتی تھی۔ شاموں کو وہ اس کے تھان پہ لیٹتی اور اس سے باتیں کیا کرتی جبکہ بنجامن، مکھیاں جھلا کرتا۔

باکسر نے جو ہوا اس پہ دکھی نہ ہونے کا قصد کیا۔ اگر وہ ٹھیک ہو جاتا، وہ تین سال مزید زندہ رہ سکتا تھا، اور اس نے ان پر سکون دنوں کے بارے میں سوچا جو وہ بڑی چراگاہ کے کونے میں گزارے گا۔ یہ زندگی میں پہلی بار ہو گا کہ اس کے پاس پڑھنے اور اپنا ذہن بڑا کرنے کی کچھ فرصت ہو گی۔ اس نے کہا کہ وہ اپنی باقی زندگی حروفِ تہجی کے بقایا بائیس حروف سیکھنے میں بتانا چاہتا تھا۔

البتہ، بنجامن اور کلوور باکسر کے ساتھ فقط، کام کے گھنٹوں کے بعد ہی ہوتے تھے، اور باکسر کو لے جانے کے لئے گاڑی، دوپہر کو آئی۔ جانور سب کے سب ایک سؤر کی نگرانی میں شلجم کے کھیتوں سے بوٹی اکھیڑ رہے تھے جب انہوں نے بنجامن کو فارم کی عمارتوں کی طرف سے، اس طرف دوڑتے اور حلق پھاڑ کے رینکتے ہوئے دیکھا۔ یہ پہلی بار تھا جب انہوں نے بنجامن کو اس قدر بلبلاتے ہوئے دیکھا۔ درحقیقت یہ پہلی بار تھا کہ کسی نے اسے دوڑتے ہوئے دیکھا۔

”جلدی کرو، جلدی! “ وہ چلایا۔ ”فوراً آؤ وہ باکسر کو لے چلے! “ سؤر کی اجازت کا انتظار کیے بغیر، جانوروں نے کام چھوڑا اور فارم کی عمارتوں کی طرف دوڑ پڑے۔ احاطے میں سچ مچ ایک بڑی سی دو گھوڑوں والی ویگن، جس کے ایک طرف کچھ لکھا تھا کھڑی تھی اور ایک حرامی سی شکل کا آدمی چھوٹے چھجے کی ٹوپی پہنے کوچبان کی نشست پہ براجمان تھا۔ اور باکسر کا تھان خالی تھا۔

جانور، وین کے گردا گرد اکٹھے ہو گئے۔ ”خدا حافظ باکسر! “ وہ ایک آواز میں بولے ”خدا حافظ! “
”احمقو! احمقو! “ بنجامن، وین کے گرد دڑکی لگاتے اور اپنے چھوٹے چھوٹے کھروں کو زمین پہ پٹختے ہوئے چلایا۔ ”احمقو! کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ وین پہ کیا لکھا ہوا ہے؟ “

اس نے جانوروں کو روک دیا اور ایک سناٹا سا چھا گیا۔ میورئیل نے لفظوں کے ہجے کرنا شروع کیے ۔ مگر بنجامن نے اسے ایک طرف دھکیلا اور ایک ہولناک سناٹے کے بیچ اس نے پڑھا:

”جیرا پھٹے والا، وڈ قصائی اور مومیائی گر، ڈھپئی۔ کھالیں اور ہڈ گڈ بازار سے بارعائت خرید فرمائیں۔ راتب د ستیاب ہے ’۔ کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ باکسر کو قصائی کے ہاں لے جا رہے ہیں! “

جانوروں میں سے خوف کی ایک چیخ بلند ہوئی۔ عین اسی وقت کوچبان کی نشست پہ بیٹھے آدمی نے گھوڑوں کو ایک چابک رسید کیا اور وین، ایک متناسب رفتار پہ احاطے سے باہر نکل گئی۔ سارے جانورحلق پھاڑ پھاڑ کے چلاتے ہوئے پیچھے دوڑے۔ کلوور بھیڑ چیر کے سب سے آگے دوڑی۔ وین نے رفتار پکڑ لی۔ کلوور نے اپنی گٹھیا زدہ ٹانگوں سے سر پٹ بھاگنے کی کوشش کی اور دلکی چلنے میں کامیاب ہوئی۔ ”باکسر! “ وہ چلائی۔ ”باکسر! باکسر! باکسر! “ اور عین اسی وقت ایسے جیسے کہ اس نے باہر مچا سب غوغا سن لیا ہو، باکسر کا چہرہ، ناک تک آتی سفید دھاری والا چہرہ، وین کی پچھلی تاکی پہ نمودار ہوا۔

”باکسر! “ کلوور ایک بھیانک آواز میں چلائی۔ ”باکسر! باہر نکلو! جلدی باہر نکلو! یہ تمہیں تمہاری موت کی طرف لے جا رہے ہیں! “

سب جانوروں نے ”باہر نکلو باکسر، باہر نکلو! “ کی تان میں تان ملائی۔ مگر وین پہلے ہی خوب رفتار پکڑ چکی تھی اور ان سے دور ہوتی جارہی تھی۔ کیا پتا باکسر کو سمجھ ہی نہ آیا ہو کہ کلوور نے کیا کہا۔ مگر ایک لمحے بعدہی اس کا چہرہ تاکی سے غائب ہوا اور وین کے اندر سے کھروں کی اونچی آواز آنے لگی۔ وہ باہر نکلنے کے لئے دروازہ توڑ رہا تھا۔ ایک وقت تھا جب باکسر کے کھروں کے دو ایک دھکوں سے وین، ماچس کے تنکوں کی طرح بکھر گئی ہوتی۔

مگر آہ! اس کی طاقت اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی؛ کچھ ہی دیر میں کھروں کے پٹخنے کی آواز مدھم پڑی اور دم توڑ گئی۔ مایوسی کے عالم میں جانوروں نے گاڑی کھینچنے والے دونوں گھوڑوں سے رکنے کی التجا شروع کی۔ ”کامریڈز! کامریڈز“۔ وہ چلائے۔ ”اپنے ہی بھائی کو موت کے منہ میں نہ گھسیٹو“۔ مگر احمق، جنگلیوں، جو پیش آ رہا تھا اسے سمجھ نہ سکنے والے جاہلوں نے فقط اپنی کنوتیاں کسیں اور اپنی رفتار پہلے سے بھی تیز کر دی۔

باکسر کا چہرہ پھر تاکی میں نمودار نہ ہوا۔ بہت دیر سے ہی سہی، مگر کسی نے پانچ سلاخوں والے پھاٹک کی طرف دوڑنے اور اسے بند کرنے کا سوچا، مگر اگلے ہی لمحے، وین اس کے پار تھی اور تیزی سے سڑک پہ غائب ہوتی جا رہی تھی۔ باکسر پھر کبھی نظر نہ آیا

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: نئے ترانے اور اچانک مظاہرے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *