کیا کورونا وائرس عالمی طاقتوں کا توازن بدل دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دنیا کے 203 ممالک میں کورونا وائرس اپنی تباہی پھیلا رہا ہے اور دنیا کے اربوں عوام اپنے اپنے علاقوں میں، گھروں میں، ہسپتالوں میں قیدی جیسی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہر روز کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اور ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

پہلے بتایا گیا تھا کہ اس وائرس کی وجہ سے 98 فیصد مریض صحت مند ہوجاتے ہیں جبکہ صرف دو فیصد مر جاتے ہیں۔ لیکن ابھی تک اٹلی اور اسپین کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد 12 فیصد سے بھی اوپر ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مرنے والے عام طور پر ساٹھ برس سے اوپر والی عمر کے وہ لوگ، جن کو دمہ، ذیابطیس یا پھیپھڑوں اور گلے نیز سانس کی بیماریاں ہیں اس کا آسان نشانہ بنیں گے لیکن پاکستان سمیت بہت سارے ممالک میں کم عمر لوگ بھی موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ علاج ابھی تک موجود نہیں ہے، لہذا احتیاط زندہ رہنے کی واحد سستی شرط ہے۔ لیکن، دنیا بھر کے اربوں افراد کی زندگی لازمی طور پر اجیرن ہو چکی ہے، وہ بیمار نہ ہوتے بھی سب سے بڑے مسئلے سے دوچار ہیں، وہ ہے زندہ رہنے کے لئے دو نوالوں کا انتظام۔

سائنس اور سائنسدان اس وائرس کا واحد توڑ اور حل ہیں۔ باقی تمام غیرحقیقی باتیں، کہاوتیں، چڑھاوے، چھوٹے بڑے رنگ برنگے آسرے، ٹوٹکے، دھاگے اور پھونکیں ہوا میں تحلیل ہو چکی ہیں۔ ایسے دھاگے ٹوٹکوں کے بے رحم بیوپاریوں کو ایک جھٹکا اس وقت لگا ہے جب دنیا بھر کے تمام مذاہب کے سب سے بڑے مراکز بند کیے گئے ہیں۔ رام کی گنگا اب میلی نہیں رہی۔ دنیا بھر کے لوگ اپنے مذہبی عقائد اور فرائض کی انجام دہی سے تاحکم ثانی روک دیے گئے ہیں۔ جب تک سائنسدان اس وائرس کا علاج اور ٹیکہ یا ویکسین دریافت نہیں کرتے، اس وقت تک ان لوگوں کی چاندی ہے جو بے آسرا عوام کو آسروں کے ان دیکھے جہان میں دھکیل دیتے ہیں۔

کراچی، لاہور اور دوسرے شہروں کی فضائی انڈیکس بتدریج بہتر ہورہی ہے۔ فیکٹریوں اور کارخانوں کی چمنیاں بند ہیں۔ دنیا بھر میں آلودگی کم دکھائی دینے لگی ہے۔ اب دنیا بھر میں اس ”ناول کورونا وائرس“ کی وجہ سے مقامی مرض عالمی وبا بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے سرحدی معاملات، عالمی تعلقات وغیرہ ثانوی بن چکے ہیں۔ چین جہاں سے یہ وبا پھیلی تھی اس کا نام ایک کارگر ملک کے طور پر سامنے آ رہا ہے، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک حتی کہ دنیا کے سپرپاور امریکہ میں مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد چین سے بڑھ کر سب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ چین بیماری میں پس منظر میں چلا گیا ہے لیکن طاقت میں آگے آرہا ہے۔

سرمایہ دار دنیا ”ناول کورونا وائرس“ پیدا ہونے کے بعد دو طرح کی باتیں کررہی ہے۔

1۔ یہ عالمی واقعہ چین کی قوت کو اس طرح مسمار کردے گا جیسے 1986 میں سوویت یونین اور مخائل گورباچوف کو ”چرنوبل واقعے“ نے تباہ کر دیا تھا

2۔ ممکن ہے کہ امریکہ کے لئے ”ناول کورونا وائرس“ کی وبا 1956 میں ”سوئز کینال بحران“ کی طرح ثابت ہو، جس تنازعے میں برطانیہ کو عالمی طاقت کے درجے سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ آج، امریکی پالیسی سازوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اگر امریکہ اس لمحے کو پورا کرنے کے لئے نہیں اٹھتا ہے تو، کورونا وائرس وبائی مرض ایک اور ”سوئز واقعے“ کا نشان لگا سکتا ہے۔

”ناول کورونا وائرس“ پر امریکی ردعمل؟

دنیا بھر کے لوگ تاسف کے ان اوقات میں ایک مرتبہ پھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر ہنس دیے، جب انہوں نے اس وبا کے بارے میں انتہائی غیرذمے داری دکھائی۔ واشنگٹن، وائٹ ہاؤس اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکموں سے لے کر بیماریوں کے قابو پانے اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) تک اہم اداروں کے رویوں نے امریکی حکومت کی قابلیت اور اہلیت پر اعتماد کو سوالیہ بنا دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عوامی بیانات اور صبح سویرے شوقیہ ٹویٹس نے امریکی عوام کو بے سروسامانی کے جنگل میں پھینک دیا ہے۔ دوسری جانب، حکومت اور تمام نجی ادارے اور ان کی پیشگی تیاری نہ ہونے سے محض ان کے کھوکھلے پن کو آشکار ہی نہیں کیا، بلکہ امریکا کی عالمی حیثیت کو ڈانواڈول کرنے میں بنیادی کردار ادا کر دیا ہے اور ان تمام عوامل سے ایک سوال سامنے آچکا ہے کہ عالمی سطح پر اس وبا کے ردعمل کی قیادت کرنے کے لئے واشنگٹن کس قدر تیار ہے۔ اس وبا نے امریکہ کی اندرونی حکمرانی اور گورننس کے مسائل، عالمی معاونت اور بحرانوں سے نمٹنے کی ہم آہنگی کی عدم موجودگی نے امریکہ کو اس آزمائش میں ناکام کر دیا ہے۔

جب واشنگٹن ناکام ہورہا ہے تو چین امریکی غلطیوں کے ذریعہ پیدا ہونے والی خلا کو پر کرنے کے لئے اور اس کا فائدہ اٹھانے کے لئے برق رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، اور دیکھتے دیکھتے وبائی امراض میں عالمی رہنما کی حیثیت سے سامنے لے آیا ہے۔ پاکستان تو پڑوسی دوست ملک ہے، لیکن دوسرے ممالک کو مادی مدد فراہم کرنے، اور یہاں تک کہ دوسری حکومتوں کو منظم کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں چینی ڈاکٹر بیشتر ممالک میں عوام کی مدد کرنے پہنچ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ عالمی سیاست میں امریکہ کے موقف اور اکیسویں صدی میں اس کی قیادت کے مطالبے کو تبدیل کر سکتا ہے۔

ناول کوروناوائرس کے پھیلنے کے بعد سرمایہ دار دنیا میں ایک بھونچال آگیا ہے۔ ان کے پاس چین کو کوسنے کے لئے ایک بات یہ رہ گئی کہ اس کو نومبر 2019 میں ڈاکٹر لی وین لینگ نے وائرس کے بارے میں مطلع کیا تھا، لیکن چین نے اس وبا اور ڈاکٹر دونوں کو پہلے خفیہ رکھا بعد میں اس ڈاکٹر لی کو وائرس انفیکشن میں ہی مار دیا۔

لیکن چین بیماری پر قابو پانے، گرفت مضبوط کرنے جیسی علامات کو پوری دنیا میں نشر کرنے کے لئے ایک بڑی داستان میں تبدیل کرنے کا کام کر رہا ہے۔ چین آنے والی عالمی بحالی میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔ جبکی امریکہ جو اپنے عوام کے لئے ٹیسٹ کٹس فراہم کرنے میں بھی تنقید اٹھا رہا ہے، ایسے میں چین کو کھیلنے کے لئے ایک کھلا ماحول مل چکا ہے۔ نظر آتا ہے کہ چین کی پیش قدمی کے سامنے فقط امریکی بد نظمی موجود ہے۔ سرکاری میڈیا اور سفارتکار باقاعدگی سے عالمی سامعین کو چینی کوششوں کی برتری کی یاد دلاتے ہیں اور واشنگٹن میں نام نہاد سیاسی اشرافیہ کی ”غیر ذمہ داری اور نا اہلی“ پر تنقید کرتے ہیں۔

چینی امداد سفارتکاری کا نیا جوبن:
چینی صوبے ہوبیئی کے شہر ووھان میں پیدا ہونے والے بحران کے آغاز پر، چین نے دنیا بھر سے ضروری آلات، ماسک وغیرہ بطور امداد وصول کیے۔ اب اس پوزیشن میں ہے کہ انہیں دوسروں کے حوالے کردیں۔ ہم سب نے دیکھا کہ، جب کسی بھی یورپی ملک نے طبی سامان اور حفاظتی پوشاک کے لئے اٹلی کی فوری اپیل کا جواب نہیں دیا تو، چین نے فوری طور پر ایک ہزار وینٹیلیٹر، 20 لاکھ ماسک، ایک لاکھ سانس لینے والی مشینیں، بیس ہزار حفاظتی سوٹ، اور 50 ہزار ٹیسٹ کٹس بھیجنے کا عہد کیا۔ چین نے میڈیکل ٹیمیں اور لاکھوں ماسک ایران بھی روانہ کردیئے ہیں اور سربیا کو سامان بھیجا ہے، جس کے صدر نے یورپی یکجہتی کو ”پریوں کی کہانی“ کے طور پر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ”چین واحد ملک ہے جو ہماری مدد کرسکتا ہے“ علی بابا کے شریک بانی جیک ما نے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کٹس اور ماسک امریکہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہے، نیز افریقہ کے تمام 54 ممالک میں 20 ہزار ٹیسٹ کٹس اور ایک لاکھ ماسک بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

چین کو معلوم ہے کہ دنیا کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے جس چیز پر انحصار کرتی ہے اس کا زیادہ تر حصہ چین میں بنایا گیا ہے۔ یہ پہلے ہی سرجیکل ماسک کا بڑا پروڈیوسر تھا۔ اب، جنگی بنیادوں پر، اس نے ماسک کی پیداوار کو دس گنا سے زیادہ بڑھاوا دیا ہے، جس سے دنیا کو ان کو فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔ چین میں COVID۔ 19 سے پیدا ہونے والے ثانوی انفیکشن سے نمٹنے کے لئے تیار ہونے والی اینٹی بائیوٹکس بہت اہم ہیں، اور چین ان کو بنانے کے لئے ضروری دواسازی کے بہت زیادہ اجزا تیار کرتا ہے۔

اس کے برعکس امریکہ کو اپنی ضروریات اور مانگ کو پورا کرنے کی فراہمی اور صلاحیت کا فقدان ہے، اور کہیں بھی بحران کے علاقوں میں امداد فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ امریکہ کی نئی تصویر خطرناک اور سنگین ہے۔

امریکہ کے پاس صرف ایک فیصد ماسک اور سانس لینے والے آلے ہیں اور شاید وینٹیلیٹروں میں سے دس فیصد وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے درکار ہیں۔ باقی چین سے درآمد کرنا پڑے گا۔ اسی طرح، امریکی اینٹی بائیوٹکس مارکیٹ میں چین کا حصہ 95 فیصد سے زیادہ ہے، اور بیشتر اجزاء ملکی طور پر تیار نہیں ہو سکتے۔

آج کل چین نے درجنوں ممالک اور سینکڑوں طبی عہدیداروں سے ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرنے کے لئے، ایک مضبوط سفارتی مہم چلائی ہے تاکہ اس بیماری کا مقابلہ کرنے والے چین کے اپنے تجربے سے متعلق وبائی بیماری اور اسباق کے بارے میں معلومات شیئر کی جاسکیں۔ چین کی زیادہ تر سفارت کاری کی طرح، یہ اجتماعی کوششیں بڑے پیمانے پر ایشیا، افریقہ، بحرالکاہل کے جزیروں اور یورپ میں کر رہا ہے۔ ان کی یہ کاوشیں ہر ملک میں بدیسی زبانوں کا پہلے صفحے کا اشتہار ہو گئے ہیں۔ جن پر سب کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں۔

جیسے عالمی جنگیں دنیا کے نقشے اور عالمی قوتیں تبدیل کرتی آئی ہیں، اسی طرح، عالمی وبا دنیا میں اہلیت اور وسائل کی بنیاد پر ایک نئی دنیا میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ بڑے ملک بنائی گئی بڑی دنیا کو چھوٹا کرنے پر اصرار کریں گے۔ بڑی کمپنیاں بڑی مچھلیوں کا کام کر کے چھوٹی مچھلیوں کو نگل لیں گی یا مدغم کریں گی۔ جو کام دنیا کے بڑے ممالک کرتے تھے، حتی کہ، مختلف ممالک میں جمہوریت اور سماجی نظاموں کی دیکھ بھال کرتے تھے، وہ سارے کام اب کمپنیوں کو کرنے ہوں گے ۔ اور یہ بڑی کارپوریشنز جمہوریت کو بھی کارپوریٹ غلاف پہنائیں گی۔ اور ایک کارپوریٹ جمہوریت معرض وجود میں آجائے گی۔ سرمایہ دارانہ سماج برسوں سے ان تیاریوں میں مصروف رہا ہے، کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے ان کی قلعی کھلنے سے بچ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *