بن روئے: ڈرامہ نگار حقیقت پر مبنی خواتین کے کردار تشکیل دینے سے قاصر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج جس ڈرامے کا ہم نے ریویو کیا ہے اس کا نام ہے \’بن روئے\’۔\"mehwish\"

ہم ٹی وی فلمز نے اس فلم کو ڈرامے کی شکل دی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کے اس ڈرامے کی کہانی بہت ہی سست رفتار ہے۔ 6 قسطیں گزرنے کے باوجود کہانی بہت کم آگے بڑھی ہے۔

ہمایوں سعید، جو ارتضہ کا کردار ادا کر رہے ہیں اپنی کزن \’سمن\’ (ارمینہ خان) کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں جب کہ ان کے بچپن کی دوست \’صبا\’ (ماہرہ خان)، جو ان کی کزن بھی ہیں، اس بات سے بے حد ناخوش ہیں کیونکہ صبا کے خیال میں ارتضیٰ صرف ان کے ہیں۔ صبا اور سمن دراصل سگی بہنیں بھی ہیں مگر سمن کو بچپن میں دوسری بہن کے گھر گود دے دیا گیا تھا کیونکہ اس بہن کی اولاد نہیں تھی۔

ویسے دیکھا جائے تو ڈرامہ بہت خوبصورت ہے اور تمام اداکاروں نے بہترین اداکاری بھی کی ہے لیکن کرداروں میں پھر بھی جان نہیں۔ نہ جانے کیوں ان کرداروں کو دیکھ کر حسینہ معین اور انور مقصود اور فاطمہ ثریا بجیا کے لکھے کرداروں کی یاد آ گئی۔ جن کرداروں میں عورت کی شخصیت ایک بکھرے ہوئے جزیرے کی طرح نہیں بلکہ ایک سالم انسان کی ہوتی تھی۔ نہ جانے کیوں آج کل لوگوں کو عورتوں کا چہرہ یا تو روتا ہوا اچھا لگتا ہے یا مصنوعی مسکراہٹوں سے بھرا ہوا۔ نجانے کیوں ڈرامہ نگاروں کو اصلی اور زندگی سے قریب عورتوں کے کرداروں کو تشکیل دینے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

اسی بارے میں اپنے چند بہتے خیالات میں نے اس وی لاگ میں کہہ ڈالے ہیں۔ آپ بھی سنیے اور اپنی رائے دیجئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply