یہ وقت بھی گزر ہی جائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ محمود غزنوی نے اپنے چیہتے مگر زیرک غلام ایاز کو کہا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتاؤ کہ اگر میں خوش اور مسرور ہوں تو اُسے دیکھ کر نارمل ہو جاؤں اور اگر غم اور پریشانی کی کیفیت ہو تو طبعیت میں سکون اور قرار آ جائے۔ ایاز نے کاغذ کا ایک ٹکڑا پکڑا۔ اس پر کچھ لکھا اور کاغذ کی اچھی طرح تہہ لگا کر بادشاہ کے حوالہ کیا اور کہا بادشاہ سلامت جب کبھی متذکرہ بالا دو کیفیتوں کا سامنا ہو اس کاغذ کو کھول کر پڑھ لینا۔ طبعیت میں سکون اور قرار آ جائے گا۔ کچھ عرصہ گزرا کہ بادشاہ کو امور سلطنت کے کچھ معاملات میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی قسم کے خطرات نے اسے گھیر لیا۔ اسے یاد آیا کہ ایاز نے کاغذ پر کچھ لکھا تھا اور ایسے ہی کسی موقع پر پڑھنے کا کہا تھا۔ اس نے حفاظت سے رکھا ہوا وہ کاغذ نکالا اس پر لکھا تھا ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“

بادشاہ کو یہ پڑھ کر بڑا حوصلہ ملا کہ یہ مصیبت عارضی ہے۔ اور یہ مشکل مرحلہ آخر کار گزر ہی جائے گا۔

ہمارے محترم وزیراعظم کو گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران جب کبھی بھی یہ سوال کیا گیا کہ ملکی معیشت کی حالت بڑی دگر گوں ہے۔ روپے کی قدر تیزی سے گِر رہی ہے۔ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تو انہوں نے نہایت استقامت سے فرمایا کہ ”گھبرانا نہیں یہ وقت بھی گزر جائے گا“

بُرا ہو کرونا وائرس کا کہ اس نے نہ صرف پاکستانیوں بلکہ اقوام عالم کو گھبرانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک بے چینی ہے۔ اضطراب ہے۔ گھبراہٹ ہے۔ بے سکونی ہے۔ خوف ہے۔ سناٹا ہے۔ بڑے بڑے بازار، نائٹ کلب، جوّا خانے، پارک حتیٰ کہ عبادت گاہیں خواہ چرچ ہوں یا مساجد ویراں و سنسان نظر آرہی ہیں۔ پر یشانی انسانی حواس پر براجمان ہے۔ حکمران عجلت میں فیصلے کر رہے ہیں۔ لوگ راشن لینے کے لیے سڑکوں پر کھڑے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کاروبار، تجارت، فیکڑیاں اور دفاتر بند ہونے اور دکانیں اور چھابڑی، ریڑھی کا کاروبار منجمد ہونے کی وجہ سے یہ راشن اور ضروریات زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ حکومت اور فلاحی ادارے اپنے طور پر روبہ عمل ہیں۔ حکمران جماعت کی ٹائیگر فورس بھی حرکت میں آنے والی ہے۔ مگر ہر کس و ناکس جو اس ابتلا میں پریشان ہے یا اس سے متاثر ہے یہ ضرور سوچ رہا ہے کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

بے شمار لوگ جن کے عزیز و اقارب اس نا گہانی آفت کی زد میں آ کر دنیا سے چلے گئے اور جن کے بے نام لاشے بدوں گور و کفن اٹلی اور سپین میں پڑے رہے۔ وہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ ایسے تمام لوگ جو اس کرونا وائرس کی وجہ سے کسی نہ کسی جگہ پر متاثر ہوئے۔ علاج معالجہ ٹیسٹوں کے جاں گُسل مرحلہ سے گزرے مگر زندگی بچ گئی۔ وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ ایسے بے شمار لوگ جو اپنا کاروبار چھوڑ کر۔ اپنی ملازمتوں سے فارغ ہو کر۔ کسپمرسی کی حالت میں گھروں میں دبکے پڑے ہیں۔ وہ بھی سوچ رہے ہیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

ہمارے ڈاکٹر۔ پیرا میڈیکل سٹاف۔ قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے۔ ہمارے ڈیوٹی پر موجود تمام سرکاری و غیر سرکار اہلکار۔ ہماری فوج۔ ہماری پولیس۔ ہمارے جج یہ سوچ کر اپنے فرائض دلجمعی سے ادا کر رہے ہیں کہ وقت ابتلا ہے۔ آزمائش ہے۔ گزر ہی جائے گا۔ ہمارے وہ تمام مرد حضرات جہنیں عرفِ عام میں خاوند کہتے ہیں۔ اور جو صرف ہفتہ وار تعطیل والے روز ہی بیوی بچوں کو دستیاب ہوتے تھے۔ اب گھروں میں قید با مشقت گزارنے پر مجبور ہیں۔

خاتونِ خانہ جو عموماً پہلے بھی ایسے مردوں پر حاوی ہوتی تھیں۔ ان بے چاروں سے گھریلو کام کاج میں شراکت کا تقاضا بھی کر رہی ہیں۔ اور یہ بے بس اور لاچار مخلوق دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نہایت انکساری کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ یہ وقت بھی گزر ہی جائے گا۔

اسی طرح بیوٹی پارلر اور سیلون بند ہونے کی وجہ سے معاشرتی ابتری اور گھر گھر تفکر و پریشانی کا غلبہ ہے۔ مرد حضرات تو بے بس تھے ہی اب صنف نازک بھی ایک آزمائش اور امتحان سے دوچار ہو کر کہہ رہی ہیں کہ یہ وقت بھی گزر ہی جائے گا۔

وقت نے تو بہر حال گزرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ تو ہماری ذہنی کیفیت ہوتی ہے۔ اسے ہنس کر گزارو یا رو کر۔ ایسے امتحان میں وہی لوگ اور قومیں سرخرو ہوتی ہیں جو ایسی آزمائشوں اور مشکلات کا خندہُ پیشانی اور جرات اور منصوبہ بندی سے مقابلہ کرتی ہیں۔ ہماری قوم اللہ کے فضل سے بڑی جرات مند ہے۔ خیر کا عنصر یہاں غالب ہے۔ لوگ اتنے خوف زدہ نہیں جتنے یودپ اور امریکہ میں ہیں۔ ماشاءاللّہ پاکستانیوں کا جسمانی و دماغی نظام مضبوط ہے۔ یا جذبہ حُریت یا جہالت کا غلبہ ہے کہ ابھی تک کرونا وائرس کو اُتنی سنجیدگی سے نہیں لے رہے جتنی اس کی ضرورت ہے۔ اور غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ کہ یہ وقت بھی گزر ہی جائے گا۔

ایسی گمبھیر صورتحال میں اللہ تعالٰی کو لوگوں کا اس کی طرف رجوع کرنا اچھا لگتا ہے۔ مرد مومن کی نوک مژگان پر لرزتے ہوئے آنسو اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر استغفار کا کلمہ اور اس کے لرزتے ہاتھوں کا پوری دلسوزی، دردمندی اور یکسوئی سے اللہ کے حضور دعایئں مانگنا اس وبا اور بلا کو ٹال سکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *