بھٹو صاحب اور ٹیکسلا میں مہاتما بدھ کا تاریخی پیپل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج چار اپریل ہے۔ ٹیکسلا میں بدھا کے عبادت گاہ کا سایہ بننے والا پیپل کا درخت اداس ہے۔ تاریخ کا حصہ بن جانے والے بھٹو کے ہاتھ سے لگایا گیا وہ تاریخی درخت جو اشوک ’گیا‘ سے لایا تھا اور ٹیکسلا میں لگایا تھا پھر جب اشوک کو شکست ہوئی تو اس کی پوتی یہ درخت اپنے ساتھ سری لنکا لے گئی تاریخ کا قدر دان بھٹو جب ساٹھ کی دہائی میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے سری لنکا گیا تو اپنے اعزاز میں منعقد کی گئی اک تقریب میں اس نے اس تاریخی درخت کی ہوائی جڑ کا مطالبہ کر دیا اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کے پاس میری اک امانت ہے میں آپ سے پیپل کے درخت کی وہی جڑ واپس لینے آیا ہوں جو اشوک اعظم کی پوتی ہندوستان سے انخلا کے وقت اپنے ساتھ لائی تھی یوں ہزاروں برس بعد بھٹو اس کی ہوائی جڑ کو واپس لایا اور ٹیکسلا میں اپنے ہاتھوں سے لگا دیا۔

اپریل کے ان دنوں جب ہر درخت خوشی سے نہال کونپلیں نکال رہا ہے کلیاں پھول بن کر فضا کو مہکا رہی ہیں صرف یہ درخت اداس ہے کیونکہ اسی دن اس کے لگانے والے کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا آج ہی کے دن پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا گیا بھٹو کو مارنے والے ناکام رہے اور بقول شخصے بھٹو آج بھی زندہ ہے بھٹو اک شخص کا نام نہیں اک فکر اک سوچ اک نظرئیے کا نام ہے ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم بمبئی سے اور اعلی تعلیم برکلے ہونیورسٹی کیلی فورنیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی اعلیٰ تعلیم کے بعد وہ کچھ عرصہ ساؤتھمپٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے لیکچرر رہے پھر وہ وطن لوٹے اور سیاست میں حصہ لینا شروع کیا وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ان کے جوہر کھلنا شروع ہوئے اور شاید پاکستان کے پہلے اور واحد وزیر خارجہ تھے جنہوں نے آزاد خودمختار خارجہ پالیسی کے اک دور کا آغاز کیا ستمبر 1965 میں جنگ کے دوران ان کی حب الوطنی اور سفارتکاری نے اک جہاں کو گرویدہ بنایا اسی جنگ کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے مسئلے پر اک لازوال تقریر سے اقوام عالم کو ہمنوا بنایا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستانی عوام اور دنیا مستقبل کے اک لیڈر سے آشنا ہو رہی تھی معاہدہ تاشقند کی وجہ سے ایوب خان سے اختلاف ہوئے اور انہوں نے وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا۔

30 نومبر 1967 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اس دن بھٹو نے اپنے دوستوں کے ساتھ لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی بھٹو کی کرشماتی شخصیت نے اک جہان کو اپنا گرویدہ بنایا وہ زندگی بھر اک متنازعہ سیاسی لیڈر رہے لیکن ان کی ذہانت حاضر جوابی اور غریب پروری پر کوئی دو رائے نہیں تھیں وہ اپنے ہزاروں کارکنان کو ذاتی طور پر جانتے تھے جب بھی ملاقات ہوتی ان کو نام سے بلاتے اک موقع پر اک کارکن کو ننگے پاؤں دیکھا تو اپنے جوتے اتار کر کارکن کے ساتھ ننگے پاؤں سفر کیا جب تک کارکن کے پاؤں میں جوتے نہیں پہنا دیے خود بھی نہیں پہنے۔

انہوں نے اک بار سندھ کے اک جلسے میں فیکٹری لگانے کا وعدہ کیا واپس آئے تو فیکٹری لگانے کے لیے فزیبلٹی رپورٹ بنانے کا حکم دیا بیوروکریسی نے لاکھ چاہا کہ وہ اپنا وعدہ بھول جائیں ان کو یاد رہا بیوروکریسی نے بہانے بنانے شروع کر دیے کہ فلاں فلاں وجوہات کی بنا پر مذکورہ جگہ پر فیکٹری نہیں چلائی جا سکتی مگر بھٹو نے تمام اعتراضات پر لکیر پھیر کر ایفائے عہد کو اپنا فخر بتاتے ہوئے فیکٹری لگانے کے احکامات جاری کیے اور فیکٹری بنوائی بھی اور چلا کر بھی دکھائی۔ بھٹو صاحب کو سرائیکی وسیب و ثقافت سے بہت لگاؤ تھا سندھی ان کی مادری زبان تھی مگر ان کو سرائیکی کی درجنوں کافیاں زبانی یاد تھیں وزیراعظم ہاؤس میں کوٹ ادو کے سپوت پٹھانے خان کی خصوصی محافل کا انتظام کرتے اور سرائیکی کلام سنتے۔

قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے وقت ان کی زبان پر ”کیکوں حال سناواں دل کوئی محرم راز نہ ملدا“ رہتا عدالت میں انہوں نے سرائیکی زبان کی عظمت قدامت اور مٹھاس کا اعتراف کرتے ہوئے درداں دی ماری جندڑی علیل اے سنایا بھٹو بلاشبہ اک عوامی لیڈر تھے قائد عوام کو پھانسی پر چڑھانے والے بھٹو کی سوچ کو ختم نہ کر سکے۔ بھٹو آج بھی لوگوں کے دل میں زندہ ہے۔ کئی نسلوں کے بعد بھی ان کا کرزما برقرار ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کی قیادت میں جو میگا منصوبے دیے ان میں پاکستان کا جوہری پروگرام، پاکستان سٹیل ملز معیشت کی بحالی تعلیمی اداروں کا وسیع جال، میڈیکل کالجز، زرعی اصلاحات، انگریزی خطابات کا خاتمہ، محنت کشوں کا تحفظ عوامی سیاسی شعور کی بیداری اور افرادی قوت کی بیرون ملک برآمد شامل ہیں ان کے دور حکومت میں ہی مملکت کو ایک متفقہ آئین 1973 ءنصیب ہوا۔

ان کے بعد پیپلز پارٹی کو بے نظیر بھٹو نے پروان چڑھایا۔ ترقی پسندوں کے مخالفین اور نفرت کے پرچارکوں کو روشن خیال بے نظیر برداشت نہ ہوئیں تو ان کو بھی شہید کر دیا لیکن پیپلز پارٹی کو دلوں سے نہیں نکال سکے۔ آج قائد عوام کے نواسے اور بے نظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو اس پارٹی کو بلندی کے اسی مقام پر لانے کی کوششوں میں ہیں جہاں ان کے شہید نانا اور بعد میں شہید ماں چھوڑ کر گئیں تھیں۔ پیپلز پارٹی کی تاریخ بھی عجیب ہے پیپلز پارٹی میں کچھ تو ہے جو اسے چھوڑ کر گیا اس کی سیاست ختم ہوتی گئی اور جس نے بھٹو خاندان پر تہمتیں لگائیں اللہ پاک نے وہی تہمتیں ان کے منہ پر دے ماریں۔ کل تک جو وزیراعظم گیلانی کی عدالتی نااہلی پر بغلیں بجاتے نہیں تھکتے تھے آج مجھے کیوں نکالا کی گردان کرتے نہیں تھکتے۔ پیشیاں بھگتنے والے گیلانی کے پروٹوکول پر تنقید کرنے والے آج خود ایسی تنقید کی زد میں ہیں۔ ان سیاسی اتفاقات سے قطع نظر بھی دیکھیں تو وہ نواز شریف جو کبھی شہید بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے تھے ان پر یہ وقت آیا کہ نواز شریف کی ملکیتی رمضان شوگر مل سے را کے ایجنٹ پکڑے گئے اور جندال والے قضیے کے بعد شریف خاندان کو صحیح معنوں میں معلوم پڑا کہ سیکیورٹی رسک قرار دینا کسے کہتے ہیں؟

شاہی قلعے کے تہہ خانے آج بھی زراق جھرنا کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالنے سے قبل کوٹھڑی سے پھانسی گھاٹ تک سفر میں اک پاؤں پر کیے جانے والے دھمال کے گواہ ہیں ادریس بیگ، عثمان طوطی اور ادریس طوطی نے ہنستے ہنستے موت کو گلے لگانے کا سبق اپنے قائد سے ہی تو سیکھا وہ قائد عوام جسے جب ڈپٹی کمشنر سعید مہدی رحم کی اپیل کے لیے رضامند کرنے پہنچے تو انہوں نے کہا سر شاہنواز بھٹو کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو کسی نامعلوم مولوی حق کے قابض بیٹے جنرل ضیاءالحق سے زندگی کی بھیک مانگے یہ ناممکن ہے بھٹو کا فیصلہ تاریخ کرے گی ترقی پسندوں کی مخالف قوتوں نے آخر کار چار اپریل 1979 کی رات دو بج کر چار منٹ پر منتخب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا مگر بھٹو پھانسی پر لٹکنے کے باوجود بھی زندہ ہے کیونکہ بھٹو کسی شخص نہیں اک فکر کا اک سوچ اک نظرئیے کا نام ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *