وبا کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی؟ (مکمل کالم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے ایک ماہ، تین ماہ، چھ ماہ یا ایک سال بعد جب یہ وبا ختم ہو گی تو اِس زمین پر بسنے والے انسان اپنی نئی زندگی کیسے شروع کریں گے؟ یہ وہ ملین ڈالر سوال ہے جو ہمارے مستقل کا تعین کرے گا۔ اب سے تقریباً تین ارب نوّے کروڑ سال پہلے ایک چھوٹے سے خلیے سے شروع ہونے والی زندگی مسلسل ارتقا ئی عمل میں ہے اور یہ عمل تا قیامت جاری رہے گا۔ کب، کیسے، کہاں، کون سا خلیہ کیا شکل اختیار کر لے، ڈی این اے میں کون سا جین کب تغیر پذیر ہو جائے، کب کسی جرثومے کی جُون بدل جائے اور اِس کے نتیجے میں زندگی یکایک کیا روپ دھار لے اور ہمیں کہاں پٹخ کر دے مارے، سوائے رب کے کوئی نہیں جانتا۔

ہماری اوقات کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ زمین نامی جس سیارے میں ہم رہتے ہیں، اُس کا پتہ اگر کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو سمجھانا پڑ جائے تو کچھ یوں بتائیں گے کہ جناب والا، اگر آپ اپنی کہکشاں سے ملکی وے کی طرف آئیں تو Sagittarius Armمیں کسی سے بھی ہمارے نظام شمسی کے بارے میں پوچھ لیں، وہاں سے زیادہ دور نہیں، یہی کوئی ایک یا دو کروڑ سال کے فاصلے پر ہے، نظام شمسی میں مریخ کی بغل میں جو چھوٹا سا سیارہ ہے وہی غریب خانہ ہے، چھ سات ارب کی آبادی ہے، آج کل گھر میں ذرا پریشانی چل رہی ہے، بیماری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ جان چھُوٹ جائے ! اور اگر کائنات میں ایسی کوئی مخلوق ہوئی تو عین ممکن ہے کہ ہمیں یہ جواب دے کہ برخوردار، چھوٹا سا تمہارا گھر تھا، اتفاق سے اُ س میں آکسیجن میسر تھی، پانی بھی وافر تھا، اچھی خاصی تمہاری گذر بسر ہو رہی تھی مگر تم نے تو وہ اودھم مچایا کہ الامان الحفیظ، اپنے ساتھ ساتھ دوسرے جانداروں کا بھی جینا دوبھر کر دیا، اب بھگتو!

مجھے یہ تو علم نہیں کہ اِس کائنات میں کوئی دوسری مخلوق بستی ہے یا نہیں لیکن انسان نامی مخلوق جو زمین پر آباد ہے اُس نے دیگر حیوانات کے مقابلے میں ناقابل بیان ترقی کی ہے اور ترقی کے اِس سفر میں انسان نے باقی جانداروں کو کچھ زیادہ عزت نہیں دی، کسی کو ہم پکا کر کھا جاتے ہیں تو کسی کا ابال کر سُوپ پی لیتے ہیں، کسی کی کھال ادھیڑ کر جوتی بنا لیتے ہیں تو کسی درخت کو کاٹ کر ڈرائنگ روم میں میز کی شکل دے دیتے ہیں ۔ بہت سے لوگ آج یہ تھیوری پیش کر رہے ہیں کہ انسان نے چونکہ اِس زمین پر قدرت کا توازن بگاڑ دیا تھا سو ’نیچر ‘ اپنے قانون پر عمل کرتے ہوئے اِس توازن کو واپس لانا چاہتی ہے۔

ممکن ہے ایسا ہی ہو یا ممکن ہے کوئی اور وجہ ہو۔ فی الحال مگرسوال یہ ہے کہ اِس وبا کے خاتمے کے بعد کا انسان کیسا ہو گا، وہ کس قسم کی زندگی گذارے گا اور یہ دنیا کیا کیسی ہوگی؟ اگر یہ وبا آ ج سے دو لاکھ سال پہلے آئی ہوتی تو شاید اُس وقت کے انسان کی زندگی میں کوئی خاطر خواہ فرق نہ پڑتا، وہ ویسے ہی جنگلوں میں رہتا، اسی طرح پیڑ سے پھل توڑ کر کھاتا، حسب توفیق جانوروں کا شکار کرتا اور شام کو اپنی مادہ سے بالوں کی جوئیں نکلواتا (یا ’vice versa‘)۔ آج کا انسان ایسے نہیں جی سکتا، کچھ دیر کے لیے ہم ماسک پہن لیں گے، گھروں میں بھی بیٹھ جائیں گے، ایک دوسرے سے ملنے میں بھی احتیاط برتیں گے مگر بالآخر تنگ پڑ جائیں گے، ہمیشہ کے لیے یہ طرز زندگی شاید ہمیں قبول نہ ہو۔ آخر ہم نے ومبلڈن دیکھنا ہے، فٹ بال کھیلنا ہے، اولمپک منعقد کروانی ہیں، دنیا کی رنگینیاں سمیٹنی ہیں، دوستوں کو جپھیاں ڈالنی ہیں، محبت کی کہانیاں لکھنی ہیں، سمندر سے اڑتے پرندوں کی تصویر بنانی ہے، پہاڑوں پر گرتی برف دیکھنی ہے، دریا کے کنارے بیٹھ کر بانسری سننی ہے، سڑکوں پر آوارہ گردی کرنی ہے، ملکوں ملکوں گھومنا ہے، اپنے رب کے گھر بھی حاضری دینی ہے، زیارتیں کرنی ہیں ۔

اِس زندگی کو ممکن بنانے کے لیے سب سے پہلی تبدیلی جس کے آثار ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں وہ ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔ دو دن پہلے گوگل نے دنیا بھر کے ممالک کا ڈیٹا ویب سائٹ پر ڈالا جس سے پتا چلایا جا سکتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد لوگوں کی نقل و حرکت کس حد تک محدود ہوئی ہے، ظاہر ہے کہ گوگل کے پاس ان معلومات کی رسائی ہے جو صارف کی نقل و حرکت سے متعلق ہیں، جب بھی ہم گوگل کی کسی ایپلیکیشن کو یہ ’اجازت‘ دیتے ہیں کہ وہ ہماری ’لوکیشن ‘ جان سکتا ہے تو گوگل کو یہ پتا چلتا رہتا ہے کہ اُس کا صارف کہاں کہاں گھوم رہا ہے، اسی بنیاد پر گوگل نے یہ تمام اعداد و شمار مرتب کیے۔ اِس سے اگلے مرحلے میں یہ ہو گا کہ حکومتیں اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت کی خاطر اُن سے مزید ذاتی معلومات تک رسائی کا حاصل کریں گے تاکہ مستقبل میں وبا کو پھوٹنے سے روکا جا سکے، ایک متنازعہ اسرائیلی کمپنی نے ابھی سے ایک ایپ تیار کر لی ہے جو انہی خطوط پر کام کرے گی۔

ایک آئیڈیا اِس خاکسار کے ذہن میں بھی آیا ہے کہ دنیا کی تمام حکومتیں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ایک ایسی مربوط ڈیٹا بیس تیار کریں جس میں وائرس سے متاثرہ اور صحت یاب ہونے والے لوگوں کا ڈیٹا ہو، انہیں ایک مخصوص نمبر دے دیا جائے جو اُن کی شناخت ہو، ویکسین ایجاد ہونے کے بعد باقی لوگوں کو بھی اِس ڈیٹا بیس میں شامل کر لیا جائے جو اِس بیماری سے محفوظ تصور کیے جائیں، پھر اِس ڈیٹا بیس کو موبائل ایپ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دنیا میں وائرس سے کتنی آبادی محفوظ ہے اور کتنی آبادی کو ابھی ویکسین کی ضرورت ہے۔ اِس ڈیٹا بیس سے عام لوگوں کو بھی پتا چل جائے گا کہ کسی اجتماع میں جانا محفوظ ہے یا نہیں، سفر کے دوران اذیت ناک سکریننگ کی بجائے پاسپورٹ کے ساتھ صحت کا یہ نمبر بھی امیگریشن کاؤنٹر پر چیک کر لیا جائے کہ کہیں مسافر میں وائرس تو نہیں، بالکل ایسے جیسے کمپیوٹرمیں اینٹی وائرس سافٹ وئیر ڈال کر کھنگالا جاتا ہے۔ آج کے دور میں ایسی ڈیٹا بیس تیار کرکے اسے کسی ایپ کے ساتھ منسلک کرنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن بالکل نہیں ۔

انسان کی زندگی کس قدر بے معنی ہے یہ اِس وبا نے ایک مرتبہ پھر ہمیں سمجھا دیا ہے۔ جب سب کچھ دوبارہ سے واپس آئے گا تو زندگی کے متعلق ہمارے رویے تبدیل ہو چکے ہوں گے، ہم ایک ایسی دنیا میں واپس آئیں گے جو بالکل نئی ہو گی۔ جس میں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ’محفوظ مستقبل ‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگو ں کے لیے زندگی پہلے کی طرح نائن ٹو فائیو کی ڈگر پر آ جائے مگر جس خوفناک انداز میں اِس وبا نے انسان کو جھنجھوڑا ہے یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنی زندگی میں اس عفریت کو کبھی بھلا پائیں گے، ہم جب بھی اپنی آئندہ زندگی کی منصوبہ بندی کریں گے تو لامحالہ اِس وبا کی یاد ہمارے لاشعور میں جاگے گی، وقت کے ساتھ اِس کے اثرات چاہے کم ہو جائیں مگر ان سے مکمل طور پر ہم شاید کبھی آزاد نہیں ہو پائیں گے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آنے والا ہر لمحہ اگر آگہی کا سبب بنتا ہے تو ساتھ ہی ایک نامعلوم بلیک ہول کا در بھی کھول دیتا ہے۔ نا معلوم سے معلوم تک کا یہ سفر جاری رہے گا، انسان کی پیاس نہیں بجھے گی۔

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کیا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 90 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *