لبنان سے ووہان تک: کچھ تو سیکھنا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس ملک کو کتاب مقدس میں کنعان کہا گیا ہے اسے یونانیوں نے فنیقیہ کا نام دیا تھا۔ آ ج کل اسے لبنان کہتے ہیں جس کے پہاڑوں کی چوٹیاں سارا سال دودھ جیسی سفید برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ عربی میں لبن دودھ کو کہتے ہیں۔ اس لئے عرب اسے لبنان کہنے لگے۔ کتاب مقدس میں ہے ”تیرے لباس سے لبنان کی خوشبو آتی ہے“ زیتون لبنان کا خاص درخت ہے، قدیم ترین زمانوں سے ہی زیتون کو مقدس ترین درخت سمجھا جا تا تھا۔ تاج پوشی کے وقت بادشاہ کو زیتون کے تیل سے مسح کرتے تھے۔ مسیحا کے لغوی معنی ہیں ”مقدس تیل سے مسح کیا گیا“ یہاں زیتون کے جھنڈ ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لئے اس کی لکڑی کے تختے منگوائے گئے۔  زبور میں ہے ”خداوند کے درخت شاداب رہتے ہیں’‘ لبنان میں دیوداروں کا سب سے بڑا جھنڈ جنوبی لبنان میں بشاری کے پاس ہے جہاں خلیل جبران کا گھر ہے، وہ فلسفی تھا۔ ایک دن اس نے اپنی دوست سے سوال کیا جو پینٹنگ میں مصروف تھی

 “اس کائنات کی سات الفاظ میں تشریح کرو“

اس نے جواب دی

 “خدا، امن، محبت، زمین اور زندگی“

یہ کہہ کے وہ خاموش ہو گئی

خلیل جبران نے پوچھا ”باقی کے دو الفاظ“

تو اس نے کہا کہ ”باقی کے دو الفاظ تم بتاؤ گے“

لیکن۔۔۔ پھر خود ہی بولی

دوسرے دو الفاظ

 “میں“ اور ”تم“ ہیں

اگر یہ دو الفاظ نہ ہوں تو باقی کے پانچ لفظوں کا کوئی معنی نہیں ہو گا۔ آج ہم ہیں تو یہ باتیں ہو رہی ہیں۔ آج سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہونے والے وہ افراد جو انسانیت کی عظمت اور بہتری کے لئے خدمات سر انجام دیتے رہے، ان کی یادگاریں تعمیر ہونی چاہییں۔ بالخصوص جنہوں نے دباؤ اور جبر سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں، ظلم اور تعدی سے انسانوں کو نجات دلانے کے لئے اپنی سی کوششوں میں مصروف رہے، وہی انسانی معاشروں کا حسن ہوتے ہیں۔

Lebanon

آج کل بنی نوع انسان کو کورونا جیسی وبا کا سامنا ہے جو ووہان کی گلیوں سے نکل کر دنیا میں گھر گھر پہنچ چکی ہے۔ دنیا بھر میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں اس کا تذکرہ نہ ہو رہا ہو۔ دنیا کو اس سے پہلے بھی کئی وباؤں کا سامنا رہا ہے۔ خسرہ، ہیضہ، چیچک، خناق، ایڈز، سوائن فلو، ایبولا وائرس اب جبکہ کرونا وائرس کا سامنا ہے ان دکھوں اور تکلیفوں کی وجہ سے انسانی زندگی کے اس سفر میں کتنے لوگ آئے اور سوئے عدم روانہ ہو گئے۔ ہم غور نہیں کرتے، یہ دکھ اور تکلیفیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم مل جل کر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اب کے بار جس وبا کا سامنا ہے یہ دور جدید کی وبا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ کئی معاشروں نے اپنے لوگوں کے لئے سخت ترین حفاظتی انتظامات یقینی بنائے اور اپنے اپنے کام میں جت گئے جبکہ ہمارے یہاں وہی طریقہ کار اپنایا گیا جو ستر سال سے ہماری ریت ہے۔ ہمارے ملاؤں نے بولا کہ یہ سازش ہے، تو کسی نے دم درود سے بھگانے کی کہانی سنائی۔ کسی نے مساجد سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تو کسی نے قصہ ہی پاک کر دیا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے اور ہمیں اس سے کچھ نہیں ہونے والا۔

اور تو اور جن کے ہاتھ میں زمام کار ہے وہ بھی وظیفوں اور جھاڑ پھونک کے لئے مولوی صاحبان کے در پر جا پہنچے۔  حالانکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ دنیا بھر میں پولیو اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ عفریت موجود ہے اور انہیں صاحبان جبہ و دستار کی بدولت۔ پولیو کو انگریزوں کی سازش کہنے والوں نے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیا کہ یہ ریاست پاکستان کے بچوں کو اپاہج ہونے سے نجات کے قطرے کیوں پلاتے ہیں؟ کتنے پولیو ورکر مرد، خواتین صرف اس واسطے قتل کر دیے گئے کہ وہ آنے والی نسلوں کو اپنے پیروں پر کھڑا دیکھنا چاہتے تھے۔ ہم سرکاری سطح پہ کام کرتے ہیں تو بجائے اس کے کوئی پالیسی بنائی جائے، ہم ملاؤں کی مرضی اور منشا کو سامنے رکھتے ہیں جس کا باقاعدگی سے خمیازہ بھی بھگتا جا رہا ہے۔ ایسا دنیا بھر میں کہیں نہیں ہوتا، جس کا ہمیں سامنا ہے۔

ترقی کا پہیہ تحقیق اور جستجو کے ذریعے گھومتا ہے۔ حضرت انسان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب 1665 ءمیں بلڈ ٹرانفیوژن کا کامیاب تجربہ کیا جاتا ہے تو دنیا جھوم اٹھتی ہے کہ اس سے کئی انسانوں کی زندگی بچ پائے گی تو دوسری طرف مذہب کے ٹھیکیداروں نے فتوی دیا کہ ایک انسان کا خون دوسرے انسان پہ حرام ہے۔ اس وجہ سے مسلمان ڈاکٹر تین سو سال پیچھے رہے۔  بیسیوں صدی کے آغاز میں رائٹ برادران نے امریکہ میں ہوائی جہاز کا کامیاب تجربہ کیا ادھر ہمارے جاہلوں نے فتوی دیا کہ جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ لوہا بھی ہوا میں اڑ سکتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

1440ء جرمن میں چھاپہ خانہ ایجاد ہوتا ہے اور پورے یورپ میں پھیل جاتا ہے لیکن سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام صاحب فتوی صادر فرماتے ہیں کہ ہماری مقدس کتابیں مشینوں پر نہیں لکھی جائیں گی۔ 1550 ءانگریزوں نے پرنٹنگ پریس لگایا تو ہند کے عماء نے شیخ الاسلام صاحب کے فتوی کی توثیق کر دی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ہمارے کاتبوں کی روٹی روزی چھن جائے گی۔ ایجاد کے دو سو سال بعد مسلمانوں نے اس انقلابی ایجاد سے مستفید ہونے کی شروعات کیں یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور نجانے کب تک رہے گا۔

کرونا کی وبا نے دنیا بھر میں کیا اثرات مرتب کیے ہیں یہ الگ بحث ہے مگر اس وبا نے ہماری ستر سالہ تاریخ کا کچا چٹھا کھول کے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ وبا کا سننا تھا کہ ہم نے ماسک تک مہنگے کر دیے بلکہ مارکیٹ سے بھی غائب کر دیے۔ بات بات پہ مذہب کا نام لینے والے ہمارے ملک میں روپے کی شے دس اور دس والی شے سو کی کر دی کیونکہ ہمارے پاس ایک یہی حل بچتا ہے اور اوپر سے نسل درنسل اقتدار میں بیٹھے پالیسی سازوں نے جو کیا وہ الگ سے پوری داستان ہے۔ مساجد میں اذانوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں مسجد میں رکھے واٹر کولر پہ دس روپے کے گلاس کو سو روپے کی زنجیر کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے ہمارے پاس اکیسویں صدی میں بھی اپنے بچوں کو دینے کے لئے کاغذ اور پنسل نہیں ہیں دوسری طرف حکومتی ایما پر دعا کروانے والے اعلی حضرت مولوی صاحب بائیس کروڑ عوام کو چھوڑ کے تین لوگوں کی صحت اور سلامتی کی دعا کرواتے رہے۔ خدا انہیں سلامت رکھے، وبا کے دنوں میں قانون کا خاص کر اہتمام کیا جاتا ہے مگر یہاں ہر اس معاملے پر کاری ضرب لگائی جا رہی ہے جس کا ملک کے آئین اور قانون کے تحت رشتہ ہے۔

ہم نرگسیت کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم سچائی کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں ہمارے پولیس اسٹیشن اور دفاتر رشوت کے گڑھ ہیں مگر وہاں لکھا ہوتا ہے کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ ہمارے ہسپتالوں میں ایک ایک بیڈ پہ تین تین مریض ڈال دیے جاتے ہیں اور وہ موت بانٹتے ہیں مگر وہاں لکھا ہوتا ہے کہ جس نے ایک زندگی بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا۔ ہمارے یہاں کورٹ کچہری میں دو سو روپے میں جھوٹا گواہ مل جاتا ہے مگر وہاں لکھا ہوتا ہے جھوٹی گواہی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہماری درس گاہیں جہالت بیچتی ہیں مگر وہاں لکھا ہوتا ہے گود سے لے کر گور تک علم حاصل کرو۔ ہماری عدالتوں میں کھلم کھلا انصاف بکتا ہے مگر وہاں لکھا ہوتا ہے لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔

ہمارے بازار ملاوٹ، فریب، دھوکہ، خیانت کے اڈے ہیں مگر وہاں لکھا ہوتا ہے جس نے ملاوٹ کی وہ ہم سے نہیں ہے۔ ہماری دھرتی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں دنیا بھر سے لوگ حصول علم کے لئے آتے تھے نالندہ یونیورسٹی، رانی گھٹ اور تخت بھائی کے کھنڈرات یہی بتاتے ہیں مگر ہم کچھ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم سب بنا یہ سب سمجھے آگے بڑھ سکیں۔

آج کورونا کی وبا سے بہت کچھ سیکھنے کے لئے موجود ہے دنیا بھر میں واحد راستہ جمہوریت کا ہے جس پہ چل کے تحقیق اور جستجو کا در کھولا جا سکتا ہے جو ہم نے ایک عرصے سے بند کر رکھا ہے۔ علم، امن اور روادادی کے فروغ کے لئے آہستہ آہستہ چلنا ہوتا ہے اور جب آپ آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیتے ہیں، اپنی اپنی سطح پہ ہر فرد ہر ادارہ اپنا اپنا کام کرتا ہے تو پھر دنیا جھوم اٹھتی ہے کہ آیئے ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیسے چلنا شروع کیا تھا۔۔۔  شرط چلنا ہے اور چلنے کے لئے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا جاتا ہے ناں کہ دوسروں کے پاؤں کی طرف۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply