ہمارے لڑکپن کا نواں شہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماضی قریب میں تواتر سے بہت سے کالم نگاروں کی نگارشات نظر سے گزریں جن میں انہوں نے اپنے لڑکپن کے حالات اور اپنے علاقہ کے بارے خاصی دل چسپ باتیں زیب تحریرکیں۔ ہم بھی ان کی طرح ناسٹل جک ہو گئے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ آپ کو اپنی جنم بھومی نواں شہر کی سیر کرائی جائے، اور لڑکپن کی بھولی بسری یادوں میں آپ کو بھی شریک کیا جائے۔ یہ انداز ”1966 کا ذکر ہے۔ والد محترم ہوموپیتھک ڈاکٹر تھے اور ان کا کلینک مین روڈ پر انکم ٹیکس آفس کے بالکل سامنے ہوا کرتا تھا اور ہمارا گھر ساتھ والی گلی میں تھا جو آگے جا کر محلہ کڑی مصری خاں سے مل جاتی ہے۔

گھر، کلینک سے ایک حقہ کی دوری پر تھا۔ یعنی والد صاحب گلی کے موڑپرآواز دیتے کہ جما ا ا ا ال، حقہ لے آؤ۔ تو ایں جانب لپک جھپک حقہ تازہ کر، چلم جما، 10 منٹ کے اندرحقہ پہنچا دیتے۔ ہمارے گھر کے سامنے ملک محمد نواز جوئیہ کی کوٹھی تھی جس کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ ان لوگوں نے شیر پالے ہوئے تھے اور گلی کے بچے شیر دیکھنے کے شوق میں اکثر ان کے گیٹ کے باہر کھڑے رہتے۔ گلی سے نکلتے ہی بائیں ہاتھ پرجنرل آغا محمد افضل خان قزلباش کی حویلی تھی۔

مرحوم بہت ہی وضع دار اور شفیق بزرگ تھے۔ شام کو حویلی کے سامنے چھڑکاؤ کیا جاتا اور پھر کرسیاں لگوا کر آغا صاحب وہاں بیٹھ جاتے اور رات گئے تک محفل جمی رہتی۔ ہم بھی آتے جاتے انہیں ضرور سلام کرتے اور وہ نہایت محبت سے ہمارے سلام کا جواب دیتے۔ والد صاحب کے ساتھ بھی خصوصی شفقت سے پیش آتے اور دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے فارسی میں ہی گفتگو کرتے۔ ان کی حویلی کے سامنے سڑک کے پارچھوٹا سا پارک ہوتا تھا، جس کا نام باغیچہ اطفال تھا۔

ماشا اللہ خاصا ہرا بھرا اور سر سبزو شاداب پارک تھا۔ وہاں دوستوں کے ساتھ خوب دوڑیں لگائی جاتیں۔ اس پارک کے دونوں اطراف دو چوڑی چوڑی گلیاں ہیں۔ دائیں ہاتھ والی تو نواں شہرکے مین بازار کو نکل جاتی ہے اور بائیں طرف کی گلی میں چند مکان ہیں اور آگے جا کر وہ گلی ایک ٹی کی شکل میں دو مختلف گلیوں سے مل جاتی ہے۔ اس گلی میں سب سے پہلا گھر تو شیخ عنائت اللہ صاحب کا تھا۔ ان کے بعد ماہر امراض جلد ڈاکٹر اقبال صاحب اور ان کے مکان کے ساتھ نواب سمیع اللہ صاحب اپنے خانوادے کے ساتھ قیام پذیر تھے۔

سب سے آخری کوٹھی نما مکان جناب افضل ہمدانی صاحب کا تھا۔ وہ بھی والد صاحب کے احباب میں سے تھے اور اکثر کلینک میں آ جاتے تھے اور دنیا بھر کے موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا۔ اسی گلی سے باہر سڑک پر نکلیں (جس کا نام ایل، ایم، کیو روڈہے ) تو دائیں طرف چند دکانوں کی چھوٹی سی مارکیٹ تھی جن میں سے کچھ تو شیخ عنائت اللہ کی تھیں اور کچھ چوہدری عبدالمجید کی۔ ان میں سب سے پہلے مجاہد آٹوز تھی جہاں سکوٹر اور موٹر سائیکلوں کی مرمت ہوتی تھی۔

مجاہد صاحب کی شکل آج بھی نگاہوں کے سامنے ہے۔ ہنستا مسکراتا چہرہ، لمبا قد۔ جوان رعنا۔ کسی اعتبار سے بھی مکینک نہیں لگتے تھے۔ انہی کی ورکشاپ میں ہم نے ایریل، بی ایس اے اور ٹرائمف بائیکس دیکھیں۔ یہ کم ظرف ستر اسی سی سی تو بہت بعد کی ایجاد ہے۔ مجاہد صاحب کی ورکشاپ میں ان کے معاون اور دوست راجہ صاحب ہوتے تھے۔

ان کی دکان کے بعد تاج ہوٹل تھا۔ تاج محمد گھنگریالے بالوں والا پنجابی گبھرو جوان تھا۔ بڑا ملنسار اور یار باش آدمی تھا۔ اس کی چائے کا ذائقہ آج تک زبان پر موجود ہے۔ ریڈیو سیلون اور بناکا گیت مالا سے ہم تاج ہوٹل میں ہی متعارف ہوئے تھے۔ ہمیں والد صاحب کی نسبت سے ہمیشہ ڈاکٹر صاحب، کہتا۔ یقین کیجئے روزانہ سہ پہر کی چائے کے لئے تاج کے ہوٹل سے چار آنے کا دودھ لایا جاتا، جس میں سے پانچ گھر والوں کے لئے چائے بنتی اور باقی بلی کو پلا دیا جاتا۔ تاج کا انتقال عین جوانی میں ہو گیا تو اس کے بیٹے نے باپ کی گدی سنبھال لی۔ بیٹا، ہو بہو باپ کی سچی تصویر ہے۔

اگلی دکان شفیع دھوبی کی تھی۔ جو خود کو ڈرائی کلینر کہتے تھے۔ شفیع اور اس کا بھائی جمیل مہاجر کہلاتے تھے۔ دونوں بھائی اصلی کاروباری تھے۔ اس زمانے میں استری کے دو آنے اور مکمل جوڑا دھلائی کے آٹھ آنہ مقرر تھے۔ ان کے بعد والی دکان میں والد صاحب کا کلینک تھا۔ 1965 کی جنگ سے کچھ پہلے وہ انکم ٹیکس آفس کے سامنے والی دکان میں شفٹ ہو گئے تھے۔ تو وہ دکان رحیم بخش قصائی نے 20 روپے مہینہ کرائے پر لے لی تھی۔ یہ ڈاکخانے والی گلی کے کونے پر تھی۔

اس گلی کے بیچوں بیچ ایک گندا نالہ بہتا تھا اور اسی نالے کے اوپر ایک تندور تھا، تندور والی ا یک دبلی پتلی، سوکھی سڑی سی عورت تھی۔ جو اپنے خاوند سے کم اور راہ چلتوں سے زیادہ لڑتی تھی۔ اس کی چنچناتی ہوئی آواز آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔ تندور کے پیچھے کچھ فاصلے پر ایک بہت بڑا برگد یا شاید پیپل کا درخت تھا جس کے نیچے نلکا لگا ہوا تھا۔ یہاں اکثر تانگے والے اپنے گھوڑوں کو پانی پلاتے اور خود بھی کچھ دیر آرام کرنے کے بعد روزی کی تلاش میں نکل جاتے۔

نلکے سے تھوڑا سا ہٹ کر اللہ بخش موچی کا اڈہ تھا۔ اس کا بیٹا اشرف بہت ذہین لڑکا تھا اور یقیناً کسی اچھے عہدے سے ریٹائرہوا ہو گا، آگے چلیں تو دو بھائیوں کی لکڑی کی ٹال تھی، ان کے بیٹے آج بھی گدھا ریڑھی پر سامان ڈھوتے نظر آتے ہیں۔

اب آپ کو ایک نادر روزگار شخصیت، خان محمد المعروف خانو نائی سے ملواتے ہیں۔ ماشا اللہ وزڈم آف دا ایسٹ کا مظہر۔ اکثر ملتانی میں (ملتانی اس وقت تک موسوم بہ سرائیکی نہیں ہوئی تھی اور اپنے اصلی نام سے ہی پکاری جاتی تھی) ۔

کہا کرتا ”ڈاکٹر صیب، عوضانے ڈیونے پوندن“ یہ ایک کثیر الجہات فقرہ ہے۔ مطلب آپ چاہیں تو اسے ادلے کا بدلہ سمجھ لیں۔ یا جیسی کرنی ویسی بھرنی، یا پھر یہ کہ اعمال کی جزا و سزاضرور ملتی ہے۔ موصوف کو ہمارا خاندانی نائی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ والد صاحب اسے گھر بلا کر حجامت بنوا لیتے اور جاتے ہوئے اسے دونی پکڑا دیا کرتے۔ راقم کو اڑتی ہوئی سونے کی چڑیا بھی انہی ذات شریف نے دکھائی تھی۔ روایتی نائیوں کی طرح دیگ پکانے کا ماہر اور زبان چلانے میں یکتا۔ چونکہ اس پوری سڑک پر چوک تک اور کوئی نائی نہیں تھا اس لئے گاہکوں سے خاصے طنطنے سے پیش آتا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *