مریم نواز کی خوش لباسی پر تنقید کیوں؟

اخلاقیات کی رو سے خواتین کی عمر کا ذکر معیوب سمجھا جاتا ہے مگر چونکہ آج کل کچھ بھی پرائیویٹ نہیں رہا اور زیر نظر مضمون کا تقاضا یہی تھا اس لیے معذرت قبول کیجے۔ کچھ دن پہلے ریکھا جی کا ایک گانا سن رہا تھا اور حیران تھا کہ 69 سال کی عمر میں انہوں نے چہرے کو کیسے چمکا کے رکھا ہوا ہے اور اپنے آپ کو صحیح طریقے سے مینٹین کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان

Read more

شادی کے بعد بیٹی کی پہلی سالگرہ ۔

یہ اس کی پہلی سالگرہ ہے جو وہ اپنوں سے سے ہزاروں میل دور مگر اپنوں میں منا رہی ہے۔ ابھی ابھی اسے مبارک باد دے کر کال ختم کی ہے۔ آخر میں کہہ رہی تھی ابو اپنا خیال رکھئے گا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنا خیال کیسے رکھوں۔ مجھے چائے وہی بنا کر دیتی تھی۔ سو جاؤں تو چادر وہی اڑھاتی تھی وقت بے وقت دروازہ دیکھنے وہی جاتی تھی۔ سونے سے پہلے ٹنکی بھرنا، چولہے چیک کرنا، دروازوں کے تالے دیکھنا، غرض یہ کہ اس نے مجھے ہر کام سے آزاد کر رکھا تھا۔ اب خود تو دور دیس روانہ ہو گئی ہے اور اپنے سارے فرائض مجھے سونپ کر کہتی ہے کہ ابو اپنا خیال رکھا کریں۔

Read more

بارے شنگھائی کا بیاں ہو جائے

یہ سن 2016 کا قصہ ہے۔ کافی دنوں سے دفتر کی جانب سے نوید مل رہی تھی کہ اکتوبر میں ہم کو 5 دیگر ہم کاران کے ساتھ جو گراؤنڈ سروس سے وابستہ ہیں شنگھا ئی بھیجا جائے گا تا کہ ہوائی جہاز کے ساتھ منسلک ہونے والی کچھ مشینری پسند کر کے آرڈر دیا جائے۔ پھر اچانک اک گونہ خاموشی چھا گئی، کافی عرصہ بے صبری سے انتظار کرنے کے بعد اکتوبر میں رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا

Read more

ہمارے لڑکپن کا نواں شہر ( 2 )۔

سکول سے آگے یہ گلی بائیں طرف بستی باغبان کی طرف مڑ جاتی ہے۔ وہاں ہمارے والد صاحب کے دوستوں میں سے ایک صاحب رہتے تھے۔ ان کی نرسری، جہاں آج کل کسٹم ہاوٰس ہے، اس جگہ اناروں والے باغ کے پیچھے ہوتی تھی۔ انتہائی سادہ مزاج، پنج وقتہ نمازی بزرگ تھے۔ ان کے صاحبزادے نے آرمی جائن کر لی تھی اور ان کا نام جمیل تھا۔ اب ہم حسب وعدہ آغا صاحب کی حویلی واپس آتے ہیں۔ حویلی کی

Read more

ہمارے لڑکپن کا نواں شہر

ماضی قریب میں تواتر سے بہت سے کالم نگاروں کی نگارشات نظر سے گزریں جن میں انہوں نے اپنے لڑکپن کے حالات اور اپنے علاقہ کے بارے خاصی دل چسپ باتیں زیب تحریرکیں۔ ہم بھی ان کی طرح ناسٹل جک ہو گئے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ آپ کو اپنی جنم بھومی نواں شہر کی سیر کرائی جائے، اور لڑکپن کی بھولی بسری یادوں میں آپ کو بھی شریک کیا جائے۔ یہ انداز ”1966 کا ذکر ہے۔ والد محترم ہوموپیتھک ڈاکٹر تھے اور ان کا کلینک مین روڈ پر انکم ٹیکس آفس کے بالکل سامنے ہوا کرتا تھا اور ہمارا گھر ساتھ والی گلی میں تھا جو آگے جا کر محلہ کڑی مصری خاں سے مل جاتی ہے۔

Read more

ہندوستان، مہمان اور پانی

ہندوستان میں رہتے ہوئے ایک اچھی بات یہ دیکھی کہ مہمان کو آتے ہی سب سے پہلے بغیر پوچھے پانی پیش کیا جاتا ہے۔ ہم نے اس انداز میزبانی کو فوراً اپنا لیا اور اب ہمارے ہاں کوئی بھی مہمان آئے، سب سے پہلے اسے پانی کا گلاس پیش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس عام طور سے ہمارے گھروں میں مہمان سے پہلے تو بیس پچیس منٹ ادھر ادھر کی گپیں ہانکی جاتی ہیں، اس کے بعد اس سے پوچھا

Read more

دلی والو، تم بالکل ہم جیسے نکلے۔۔۔

جولائی کی 10 تاریخ تھی۔ وہ 2006 کا ایک گرم دن تھا۔ سب امور زندگی حسب معمول رواں دواں تھے۔ اچانک دن کو بارہ بجے ٹی وی پر یہ الم ناک خبر دیکھی کہ پی آئی اے کا فوکر طیارہ ملتان سے لاہور کے لیے ٹیک آف کرتے ہی گر گیا ہے اور تمام مسافر مع عملہ حادثے کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ اتفاق سے چھٹی کا دن تھا۔ ایئرپورٹ سے کال آگئی کہ ایمرجنسی ہے، فوراً پہنچو۔ جاتے

Read more

نیروبی، اچولا صاحب اور جوش ملیح آبادی

اگست 1998 میں ایک سرکاری کام سے کراچی میں اپنے محکمے کے صدر دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک کمرے میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ نیروبی کا لوکل اسٹیشن مینیجر Mr. Ochola ایک ماہ کی چھٹی پر جانا چاہتا ہے مگر پاکستانی عملے میں سے کوئی بھی وہاں ریلیو (ان کی جگہ) پر جانے کو تیار نہیں۔ کیوں کہ وہاں لا اینڈ آرڈر کی حالت ہمیشہ سے بہت مخدوش ہے اور جان سب کو پیاری ہے۔ آپ کا

Read more