افغان مونا لیزا کو رہا کر دینا بہتر ہے


\"edit\"پشاور کی ایک خصوصی عدالت نے افغان خاتون شربت گلہ کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کردیا ہے کیوں کہ اس نے اعتراف جرم نہیں کیا۔ اب اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر ذخیوال نے وزیر اعظم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر دلچسپی لے کر شربت گلہ کو رہا کروانے کا اہتمام کریں۔ ان کے بقول شربت گلہ عالمی سطح پر افغانستان کی پہچان اور افغان عوام کے لئے عزیز ترین چہرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری سے دونوں ملکوں کے عوام میں فاصلے پیدا ہوں گے۔ شربت گلہ کو 1984 میں اتاری گئی اپنی مشہور عالم تصویر کی وجہ سے ’مونا لیزا آف افغان وار‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ جون 1985 میں فوٹو گرافر سٹیو مک مکیوری کی اتاری ہوئی یہ تصویر نیشنل جیوگرافک کے سرورق پر شائع ہوئی تھی ۔ یہ تصویر دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تصویروں میں شامل ہے۔

پاکستانی حکام نے گزشتہ برس تحقیقات کے دوران نادرا کے بعض افسروں کو افغان مہاجرین کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اسی سلسلہ میں ایک چھاپہ کے دوران شربت گلہ کو 26 اکتوبر کو پشاور سے پکڑا گیا ہے۔ اس پر پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ رکھنے کا الزام عائد ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے پاس افغانستان کے کاغذات بھی تھے۔ اس خاتون کے خاندان کے بارے میں مختلف معلومت سامنے آئی ہیں۔ اس نے اپنے دو جوان بیٹوں کے ساتھ پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کئے تھے لیکن وہ نوجوان اس کے اصل بیٹے نہیں ہیں۔ پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ شربت گلہ کے دو بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے جبکہ افغان سفیر کا کہنا ہے کہ اس کے چار بچے ہیں۔ افغان سفیر نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر شربت گلہ کو رہا کردیا جائے تو ان کی حکومت اسے افغانستان لے جاکر اپنے بچوں کے ساتھ آباد ہونے میں مدد دینے کو تیار ہے۔ مبینہ طور پر اس کا شوہر انتقال کرچکا ہے اور شربت گلہ تن تنہا اپنے بچوں کی کفیل ہے، اسی لئے وہ دیگر افغان مہاجرین کی طرح حصول روزگار کے سلسلہ میں پاکستان آئی تھی۔

شربت گلہ کی کہانی لاکھوں دیگر افغان مہاجرین کی کہانی سے مختلف نہیں ہے۔ جنگ کی صورت حال میں پاکستان میں پناہ لینے کے لئے انہیں سرکاری دفاتر کے ایجنٹ جو راستہ بتاتے ہیں ، وہ اسی پر چلتے ہیں تاکہ یہاں قیام کرسکیں اور جنگ سے محفوظ رہیں۔ یہ سلسہ سال ہا سال سے جاری ہے۔ عالمی ادارے، پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں اس مسئلہ کو خوشگوار طریقے سے حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان نے طویل عرصہ افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے لیکن وہ دہشت گردی کی موجود ہ صورت حال اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے اب افغان باشندوں کو واپس بھیجنا چاہتی ہے۔

تاہم افغان مہاجرین کا معاملہ آسان نہیں ہے۔ وہ ایک طرف افغانستان میں جنگ کی وجہ سے در بدر ہونے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں بھی انہیں نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں ان پڑھ مہاجرین کو جو بتایا جاتا ہے، وہ اس پر عمل کرکے یہاں قیام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تصویر کا ایک پہلو یہ بھی ہے افغان مہاجرین تین دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ اس طرح یہاں پیدا ہونے والے بچے تکنیکی لحاظ سے ضرور افغان باشندے ہیں لیکن وہ ہمیشہ پاکستان میں رہے اور یہیں جوان ہوئے ہیں۔ پاکستان ہی ان کا اصل وطن ہے۔ یہ سارے معاملات حکومتوں کو طے کرنے ہیں۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہونی چاہئے کہ اس صورت حال کی سزا مظلوم شہریوں کو نہیں ملنی چاہئے۔

شربت گلہ کو اپنی تصویر کی وجہ سے جو عالمی شہرت حاصل ہے ، اس کی بنا پر اس کی گرفتاری کی خبر پاکستانی اور عالمی میڈیا پر شائع ہو رہی ہے۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہؤا ہے کہ افغان مہاجرین کی مشکلات کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں تاہم اس کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک مظلوم خاتون کو پاکستانی قید میں دن گزارنے پڑ رہے ہیں۔ جو افغان حکومت عالمی شہرت یافتہ خاتون کو اب افغانستان کے لئے وجہ افتخار سمجھ رہی ہے، اس نے اس سے پہلے اس کی مدد کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تاہم اگر اس خاتون کے پاس جعلی دستاویزات وصول بھی ہوئی ہیں تو بھی اسے اس کا قصور وار قرار دینا درست نہیں ہو گا۔ خاص طور سے شربت گلہ کو جیل میں رکھ کر اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرکے عالمی سطح پر پاکستان ہی کی شہرت کو نقصان پہنچے گا۔

دریں حالات پاکستان کے لئے بہتر ہو گا کہ وہ انسانی بنیادوں پر شربت گلہ کو رہا کرے اور اسے افغانستان جانے کی اجازت دے کر افغانستان کے ساتھ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا جائے۔ اس سانحہ سے یہ سبق بھی سیکھا جائے کہ اگر نظام کی خرابی اور سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی بدعنوانی کی وجہ سے جعلی دستاویزات جاری ہو تی ہیں تو بدعنوان عملے کو قصور وار سمجھا جائے اور مظلوم مہاجرین کو اس کی سزا دینے کا طریقہ ترک کیا جائے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali