ملک نیمروز کے سردار کو بیماری نہیں لگے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت ہے کہ ایک مرتبہ ملک نیمروز کے بادشاہ نے نے اپنا دربار لگایا اور سب امرا وزرا کے سامنے ایک گمبھیر مسئلہ رکھا۔ شمالی سرحد کے دور دراز کے گھنے جنگلات میں ڈاکوؤں اور باغیوں نے سر اٹھایا ہوا تھا، نا صرف یہ کہ وہ گینڈوں کے سینگ اور ہاتھیوں کے دانت کاٹ کر بیچ دیتے تھے، بلکہ ملک نیمروز کے تجارتی قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور کوئی سرکاری اہلکار ملتا تو اسے اغوا کر کے حکومت سے تاوان طلب کیا کرتے تھے۔ یہ باغی نہایت ہی شریر تھے۔ تاوان کے لیے کسی کو اغوا کرتے تو اسے مارتے نہیں تھے، ایک انجیکشن دکھا کر کہتے کہ تاوان کا بندوبست کرو ورنہ تمہیں ایڈز کا انجیکشن لگا دیں گے، پھر سسک سسک کر مرنا۔

نیمروز کے بادشاہ نے سب امرا وزرا سے سے صلاح طلب کی گئی کہ کیا کریں۔ فوجی مہم کا سوچا گیا مگر پہلے کئی مرتبہ بھیجی گئی فوجی مہمیں ناکام ہو چکی تھیں۔ جیسے ہی کوئی بڑا لشکر جنگل کے قریب پہنچتا تو یہ سب شرپسند ایسے غائب ہو جاتے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ہوئے ہیں۔ سب درباری دماغ لڑا لڑا کر تھک گئے مگر کوئی حل سمجھ نا آیا۔ مایوس ہو کر بادشاہ نے کہا ”کیا ہمارے سرداروں میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اس آفت سے ہماری سلطنت کو بچائے؟ “

تس پہ سردار تیس مار خان کی غیرت نے جوش کھایا۔ وہ اٹھے اور بولے کہ ہم وہ ہیں کہ بڑے سے بڑا مسئلہ حل کر دیتے ہیں، ایک وار میں تیس تیس دشمن ڈھیر کر دیتے ہیں، ہم ایسی چال چلیں گے کہ دشمن ہم سے بھاگنے کی بجائے خود ہمارے پاس آئیں گے اور پھر ایک وار میں ہم انہیں ڈھیر کر دیں گے۔

بادشاہ بہت متاثر ہوا۔ تیس مار خان کے درباری رقیب جل بھن کر رہ گئے۔ بادشاہ نے پوچھا کہ سردار صاحب، آپ کا منصوبہ کیا ہے؟

سردار تیس مار خان بولے ”ہم ایک تجارتی قافلے کے بھیس میں جائیں گے۔ اس قافلے میں تمام تاجر ہوں گے، صرف ہم اکیلے ادھر اپنی تلوار کے ساتھ جائیں گے۔ پھر دنیا دیکھے گی کہ ہم کیسے ان نابکاروں کا قلع قمعہ کرتے ہیں“۔

بادشاہ نے پوچھا ”اور اگر پکڑے گئے اور باغیوں نے ایڈز کا انجیکشن لگا دیا تو پھر؟ “
سردار تیس مار خان نے اپنی مونچھوں کو بل دیتے ہوئے کہا ”میں اس کا بندوبست کر کے جاؤں گا۔ میرے پاس اس کا توڑ موجود ہے“۔

اگلے دن سردار تیس مار خان اپنا تجارتی قافلہ لے کر شمالی جنگلات کی طرف نکل گئے۔ ادھر دوسرے پڑاؤ پر ہی باغی ڈاکو ان پر آن پڑے۔ تمام لوگ گرفتار ہو گئے۔ تیس مار خان کو اپنی تلوار نکالنے کی مہلت بھی نا ملی اور پہلے ہی باندھ دیے گئے۔

ڈاکوؤں نے تمام تاجروں کی لائن بنوائی اور انہیں ایڈز کا انجیکشن دکھا کر تاوان کا خط لکھنے یا ایڈز میں مبتلا ہونے کا انتخاب کرنے کا کہا۔ تاجر تو اپنا نفع نقصان خوب جانتے ہیں، انہوں نے اپنے اہل خانہ کو راضی خوشی تاوان کا خط لکھ دیا۔

جب ڈاکو سردار تیس مار خان تک پہنچے تو انہوں نے ہنستے ہنستے تاوان کا خط لکھنے سے انکار کر دیا اور ڈاکؤوں کے سردار کو کہا کہ مجھے ایڈز کا انجیکشن لگا دو، مجھے کچھ نہیں ہونا، میں پہلے ہی اس کا بندوبست کر چکا ہوں۔

ڈاکوؤں کا سردار یہ سنتے ہی دم بخود ہو گیا کہ اس کے سب سے مہلک ہتھیار، ایڈز کی بیماری کا توڑ سردار تیس مار خان کر چکے ہیں۔ اس نے پوچھا ”سردار جی آپ نے ایڈز کا توڑ کیسے کیا ہے؟ ایران توران امریکہ چین سب ایڈز کے آگے لاچار ہیں، پھر آپ کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ آپ کو ایڈز نہیں لگے گی؟ “

سردار تیس مار خان نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا ”پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نہایت پڑھا لکھا اور دانشمند ہوں اور اپنی حکومت کے محکمہ صحت کے تمام اعلانات دیکھنے کا عادی ہونے کے علاوہ دیسی ٹوٹکوں کی قاموس بھی ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے اسی غیر معمولی علم و فضل اور دانش کے سبب میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ اگر کوئی مرد کونڈوم پہن کر رکھے تو اسے ایڈز نہیں لگ سکتی۔ میں نے پہن رکھا ہے، تم لاکھ انجیکشن لگاؤ، مجھے ایڈز نہیں لگے گی“۔

تو صاحبو، بات یہ ہے کہ خود کو جراثیم سے محفوظ سمجھنے والے دیسی ٹوٹکوں، سوشل میڈیائی پوسٹوں اور عاملوں کاملوں کے بیانات پر یقین کرنے سے پہلے خوب تفکر کر لینا چاہیے۔ کئی مرتبہ جراثیم کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کا شکار ان سے محفوظ رہنے کا ٹوٹکا استعمال کر چکا ہے، اور وہ پھر بھی اسے چمٹ جاتے ہیں۔ اس کلجگ میں احتیاط ہی بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1272 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *