سیاہ بخت مقدر اور نیا کٹا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان میں ہر کچھ دنوں کے بعد کوئی نہ کوئی ”نیا کٹا“ کھلتا رہتا ہے۔ ہم جیسے ملکوں کے مقدر میں شاید یہی کچھ رہ گیا ہے کہ ہر کچھ عرصے کے بعد کوئی سیاسی بھونچال، مالی اسیکنڈل، مافیا کی لوٹ کھسوٹ اور انسانی سانحہ ہمارے سیاہ بخت مقدر پر مزید کالک بھر دیتا ہے۔ ان دنوں پاکستان پوری دنیا کی طرح کورونا وائرس عفریت سے لڑ رہا ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ اپنے محدود وسائل اور ناقص صحت کے نظامِ کی وجہ سے پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی کو بہت زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

ابھی کورونا وائرس سے متعلقہ خبروں اور تبصروں کی بھرمار تھی کہ چینی اور آٹے کے بحران کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقاتی رپورٹس نے ہر سو ہلچل مچا دی۔ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق چینی اور آٹے کے بحران میں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ چینی پر سبسڈی سے شوگر انڈسٹری کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو کس طرح فائدہ پہنچا یا گیا وہ بہت ہی ہوشربا ہے۔

سب سے زیادہ فائدے میں جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی رہے کہ جنہوں نے اربوں روپے سبسڈی کے نام پر کما لیے۔ شریف برداران اور اومنی گروپ کی شوگر ملیں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ رپورٹوں کے مطابق جب چینی کی بر آمد کی اجازت دسمبر 2018 میں دی گئی تھی تو اس وقت چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو تھی۔ ایک طرف چینی کی قیمت بڑھنا شروع ہوئی تو دوسری جانب شوگر مافیا سبسڈی لینے کے لیے حکومت کے پاس آن دھمکا۔ ایک طرف حکومت سے سبسڈی کے نام پر بٹورے تو دوسری جانب اضافی قیمت سے اپنی تجوریاں بھر لیں۔ اب جہاں شوگر مافیا نے اپنا کام دکھایا تو دوسری جانب حکومت کے ان فیصلہ ساز اداروں کی ”بصیرت“ کو بھی سلام کرنا چاہیے جنہوں نے سبسڈی کا اعلان کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے ان تحقیقات پر مبنی رپورٹوں کو پبلک کرتے ہوئے اس بات کا کریڈٹ لیا کہ ماضی کے حکمرانوں میں کبھی اتنی اخلاقی جرات پیدا نہ ہوئی کہ وہ ایسی رپورٹیں جاری کریں۔ خان صاحب کی بات کسی حد تک صحیح ہے کہ انہوں نے کم از کم یہ جرات تو دکھائی کہ ان رپورٹوں کو منظر عام تک لے آئے لیکن ان کا اصل امتحان ان کرداروں کو انجام تک پہنچانا ہے جن کی وجہ سے پاکستان میں آٹے اور چینی کی بحران نے جنم لیا۔

یہ مافیا چور ہی نہیں بلکہ چتر بھی ہے کہ ایک جانب اس نے سبسڈی کے نام پر اربوں روپے بٹورے تو دوسری جانب چینی اور آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کر کے عوام کی جیبوں کو بھی خالی کیا جنہیں ان دو اشیاء کی خریداری کے لیے اضافی قیمت ادا کرنا پڑی۔ پاکستان میں یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی مافیا نے حکومت کے وسائل میں نقب لگانے کے ساتھ عوام کی جیبوں پر بھی کمال مہارت سے صفائی دکھائی ہو۔ یہ مکروہ دھندا تو روز اول سے شروع کر دیا گیا تھا۔

یہاں کاروباری مافیا کو صرف دوش دینا بھی غلط ہو گا جب اس ریاست کی سب سے مقدم دستاویز یعنی آئین پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہو سکتا ہے تو پھر دوسرے امور تو ثانوی نوعیت کے رہ جاتے ہیں۔ عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا جاتا کبھی بر بنائے وطن اور کبھی بحیلہ مذہب انہیں ان کے سب سے بنیادی حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے کردار قانون کے پھندے کو بزور بازو توڑ ڈالتے ہیں یا پھر انہیں ڈھٹائی سے بچا کر آئین و قانون کی کم مائیگی کا اعلان کیا جاتا ہے۔

اب جب کہ چینی بحران کے ذمہ داروں کی نشاندھی ہو چکی ہے تو خان صاحب بسم اللہ کریں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ خان صاحب ہمیشہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اور اس نظام کو پاکستان میں نافذ کرنا چاہتے ہیں جس میں امیر و غریب اور اپنے اور پرائے کی تمیز نہیں ہوتی۔ خان صاحب آج تقریریں کرنے کا نہیں عمل کا وقت ہے۔ مغرب کے معاشروں میں قانون و انصاف کی سربلندی کی مثالیں دے دے کر آپ تھکتے نہیں آج ان معاشروں کی تقلید کا وقت آن پہنچا ہے۔

خان صاحب کی حکومت آج تک ان تمام اعلانات سے گریز کرتی پائی گئی اب دیکھتے ہیں کہ اس بار وہ تحقیقاتی رپورٹوں کی بنیاد پر ذمہ داروں کو کیا سزا دے پاتی ہے۔ ایک طرف یہ حکومت کا امتحان ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کی مضحکہ خیز حرکتیں بھی عروج پر ہیں۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بیان کو ہی لے لیں تو انسان حیران ہو جائے کہ ہمارا واسطہ کس نوع کی مخلوق سے پڑا ہے۔ یہ وہ شہباز شریف ہیں کہ جن کے کاروباری گروپ نے بھی چینی سبسڈی سے فائدہ اٹھایا۔

چلیں چھوڑیں فائدہ اٹھانے کو جب پنجاب آپ کی راجدھانی تھا تو کون سا مافیا کونے کھدروں میں دبک کر آپ کے جلال شاہی سے خوفزدہ تھے۔ نواز لیگ اور پی پی کے دور میں مافیاز کا حکومتی وسائل پر ڈاکہ ور عوام کی جیبوں کی صفائی ماضی بعید کے قصے نہیں کہ عوام کے حافظوں سے محو ہو چکے ہوں۔ سندھ کے۔ گنے کے کاشتکاروں سے ہی ذرا پوچھ لیں کہ ہر سال شوگر ملیں صوبے میں کس طرح ان کا استحصال کرتی ہیں۔ یہ کاشتکار اپنی محنت کے معاوضے کے لیے چیختے رہتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے میں شامل شوگر ملوں کے مالکوں پر مجال ہے جو کبھی جوں رینگی ہو۔

سیاسی افراد کیوں کردار کی پختگی سے محروم ہوتے ہیں اس کی بنیادی وجہ بحرانوں میں ان کا طرز عمل ہے۔ بحرانوں میں شرمساری و خجالت نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو مقدر بنے تھے اور اب یہی تحریک انصاف کا مقدر بننے جا رہی ہے اگر وہ بھی سیاسی سود و زیاں کے بکھیڑے میں الجھ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply