میرا جسم میری مرضی اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب یہ سلوگن وائرل ہوا تو سوسائٹی میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔ کیا تعلیم یافتہ تو کیا مذہبی طبقہ۔ ان کی زبانیں شعلے اگلنے لگیں، طنز، نصیحتیں اسلامی ہدایات، مذہبی روایات اور پھر گالیوں کی بوچھاڑ۔ ہم ٹھہرے دیہاتی۔ بات کو ابھی سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جس کا جسم ہوگا مرضی بھی اسی کی ہوگی اس میں قباحت کیا ہے۔ جسم صرف جسم نہیں ہوگا جسم میٹافور بھی ہو سکتا ہے جس میں انسان کی پسند نا پسند اس کی خواہشات، اس کی امیدیں، اس کی امنگیں، اس کی منشا، اس کے خیالات بھی اس میں شامل ہوں گے لیکن چونکہ ہم مسلمانوں کی تمام عبادات کا محور جسم ہے۔ حوروں کا، اس کے جمال کا اور ہمارا مولوی بھی لہک لہک کر حوروں کے جسم کا نقشہ کھینچتا رہتا ہے۔ اس لئے ان ماڈرن عورتوں کے جسم کی مرضی کا نعرہ لامحالہ ان معزز لوگوں کو اچھا نہیں لگا کہ عورت کو جو ہم نے گھر میں درجہ دوم کے شہری کی طرح رکھا ہوا ہے۔ اب بغاوت پہ اترتی دکھائی دے رہی ہے۔

چنانچہ ہم نے معاملہ رفع دفع کرانے کے لئے نیا سلوگن دے دیا تاکہ تلخیاں ختم ہو جائیں۔
”میرا جسم تم سب کی مرضی“۔

لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ دونوں طرف لشکر صف آرا تھے۔ ادھر میرا جسم میری مرضی والوں کا جلوس نکلا ادھر مذہبی طبقہ اور مہذب طبقہ اور مومنین جوش میں آئے کہ تم کون ہوتے ہو اپنے جسم پر اپنی مرضی جتانے والے جسم تو اللہ تعالی نے دیا ہے۔ پھر انہوں نے پتھراؤ شروع کر دیا خشت باری کی اور آخر مین لٹھ بازی پر اتر آئے اور ”کافر عقیدہ * والوں کے کشتوں کے پشتے لگا دیے اور ان کے جسم پر اپنی مرضی نہیں چلنے دی یہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔

لیکن اس سارے ڈرامے کا ڈراپ سین اب آتا ہے۔ وہ ہے۔ ”کرونا وائرس“ کی آمد۔ اس نے جس طرح نسل انسانی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ہزاروں لوگ اس کا لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ تقریبا دو کروڑ انسانوں کو یہ عفریت نگل لے گا۔ اب تمام دنیا مین اہم ترین علاج اور احتیاط یہ رکھی گئی ہے کہ تمام ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا جائے لوگ گھروں میں رہیں ان کی جانیں قیمتی ہیں۔ وہ خود کو بھی محفوظ رکھیں اور دوسروں کی جانیں بھی بچائیں اب ان کی جانوں پر ان کی نہیں حکومت کی مرضی چلے گی۔

لہذا اب وہی مذہبی اور مہذب طبقہ جو میری جان میری مرضی کا مخالف تھا۔ اب وہی اس کا سب سے بڑا علمبردار ٹھہرا ہے۔ اب صرف وہی طبقہ حکومت کی بات ماننے کو تیار نہیں کہ اس کے جسم اور جان پر کسی اور کی مرضی چلے۔ وہ لا اینڈ آرڈر قائم کرنے والے اداروں سے بھی لڑائی کر رہا ہے اور حکومتی احکامات کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔ حکومت کہتی ہے لاک ڈاؤن ہے، اندر رہو تمہاری جان کو خطرہ ہے اور کل کا مخالف حکومت کی بات ماننے کو تیار نہیں آج وہ کہ رہا ہے۔ صرف زبان سے نہیں بلکہ باہر نکل کر دنگا فساد کرکے کہ میرا عقیدہ ہے
میرا جسم میری جان میری مرضی
اب مین کس کو مبارک باد دوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply