یہ وقت جو تھم گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ایک ملنے والے بہت پریشان رہتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ انہوں نے اپنا ایک بزنس شروع کیا۔ ان کی زندگی گھن چکر بن کر رہ گئی تھی۔ ہر وقت ان کے لبوں پر یہی شکوہ ہوتا کہ:

میرے پاس تو اپنے لیے وقت نہیں ہے۔ دوسروں کے لیے وقت کہاں سے نکالوں؟
ان کی والدہ جواباًکہتیں :
ایک دن بہت بڑا ہوتا ہے اس میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں تمہیں وقت کیوں نہیں ملتا؟

بات تو والدہ کی ٹھیک تھی کہ چوبیس گھنٹوں میں زمین اپنے محور پر ایک پورا چکر لگا لیتی ہے اور ہمارے کام دھندے ہمیں اور ہی الجھائے جاتے ہیں۔ میں کسی اور کی بات کیوں کروں مجھے تو خود اکژ یہ چوبیس گھنٹے بھی کم لگتے تھے۔ بعض اوقات میں اپنے آپ سے کہ رہی ہوتی تھی کہ :

یہ کمبخت گھڑی کی سوئیاں کتنی تیزی سے چلتی ہیں۔ میرے کام ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔

جب سے سال 2020میں کرونا وائرس کی وبا پھیلی ہے دنیا بھر میں لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے زندگی شاید تھم سی گئی ہے۔ ساری بھاگ دوڑ اور چہل پہل گویا ٹھپ ہو گئی ہے۔ اب کسی کو ہفتہ وار چھٹی کے دن کا انتظار ہی نہیں ہوتا۔ منگل آتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے جمعرات ہے۔ ہفتے کا دن بدھ جیسا لگتا ہے۔ اب ہم نے کسی کو ضروری ملنے نہیں جانا اور نہ کسی مہمان نے ہمارے گھر آنا ہے۔ کوئی مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں ہو رہی۔ کنوارے شادیوں کے انتظار میں ہیں اور شادی شدہ ازواج سے بیزار ہیں۔

کرونا کی وبا پھیلنے سے پہلے چہل قدمی کرنا بھی ایک بوجھ ہی محسوس ہوتا تھا۔ اب جبکہ کام دھندا ہر جگہ بند ہے تو آج کل میں صبح کی سیر بہت خوشی سے کرتی ہوں۔ چرند پرند کی آوازیں مدھر نغموں کی مانند لگنا شروع ہو گئی ہیں۔ ارد گرد سڑکوں پر ٹریفک بھی بہت کم ہے۔ اسی لیے جانور اور پرندے خاصی آزادی محسوس کر رہے ہیں۔ گلہری اپنی پچھلی ٹانگوں پر بیٹھ کر مزے سے دانہ کھاتی ہے اور میرے پاس بیٹھنے سے گھبراتی نہیں ہے۔ موسم بہار کی آمد آمد ہے اسی لیے پودے اور درخت خوبصورت ہرا رنگ اوڑھنے لگے ہیں۔ آسمان کی جانب دیکھو تو نیلا رنگ کتنا شفاف نظر آتا ہے۔ شاید جب سے انسان گھروں میں قید ہیں تب سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔

اس ٹھہرے ہوئے وقت نے میری توجہ اپنے گردو نواح کی طرف دلا دی ہے۔ یا پھر حساسیت زیادہ بیدار ہو گئی ہے۔ وہ جو دور ایک بلند عمارت نظر آرہی ہے، اصل میں وہ لائبریری ہے جو کہ بند پڑی ہے۔ اس میں کتنی قیمتی اور نایاب کتابیں ہوں گی۔ کسی زمانے میں مجھے کتب بینی کا بہت شوق تھا۔ اب سیل فون اور کمپیوٹر نے کتابوں سے دور کر دیا ہے۔ ہم جلدی جلدی ان سکرینوں پر دیکھ لیتے ہیں کہ دنیا میں کیا خبریں چل رہی ہیں۔ دوست احباب اور رشتے دار کیا کر رہے ہیں۔

ہر چیز بہت سطحی ہو گئی ہے۔ کتابیں آپ کو ایک اور ہی جہاں میں لے جاتی ہیں جہاں آپ کو معلومات بھی ملتی ہیں اور زندگی کو سمجھنے کی گہرائی بھی۔ صرف سوشل میڈیا پر لوگوں سے کے بارے میں جاننا ملاقات کے زمرے میں نہیں آتا۔ پہلے لوگوں سے بات کرنے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب تو وقت ہی وقت ہے۔ میں نے یہ فرصت غنیمت جا نی اور اپنے دور پار کے قریبی لوگوں خیریت دریافت کی تو لگا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور نے ہمیں انسانوں سے دور کر دیا ہے۔ خود غرضی کی ایک دبیز چادر نے ہماری روح کو ڈھانپ لیا ہے۔ ذاتی تعلقات کی خوبصورتی کو دور جدید کی تیز رفتاری برباد کر رہی ہے۔

فکر ہے کہ یہ فراغت کا وقت گزرے گا کیسے؟ سچ ہے کہ انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا ہے۔ سب کا اسکرین دیکھنے کا وقت بڑھ گیا ہے پر پھر بھی ہمیں بوریت نے گھیرا ہو ا ہے۔ پتا یہ چلا کہ پہلے جس مصروفیت کو ہم کوستے تھے وہ بھی ایک نعمت ہے۔ اللہ پاک نے ہر قسم کے حالات میں ہمارے لیے بہتری کے سلسلے رکھے ہیں۔ ہماری ہی سمجھ میں یہ باتیں نہیں آتیں۔ مشہور شاعر احمد فراز کہتے ہیں :

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر ہے کہ رونے کے بہانے مانگے
دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فراز
مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے

چلتے ہوئے میں ایک قبرستان کے پاس سے بھی گزری۔ ایک قبر کے کتبے پر تاریخ وفات 1918 لکھی ہو ئی تھی۔ یہ وہی سال ہے جب سپینش فلو نے دنیا کی ایک تہائی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس عالمی وبا میں تقریباً بیس ملین سے لے کر پچاس ملین لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ تاریخ کے ورقوں کو پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نوع انسانی ایک جدوجہد کا نام ہے۔ ہم اپنی بہترین کوششیں ہی کر سکتے ہیں اس دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں۔

یہ وقت جو تھم گیا ہے اسے غنیمت جانیے اور کچھ دیر کے لیے دنیا داری سے کنارہ کر لے لیجیے۔ اپنی روح کے روزن کھول دیجئے۔ خدائے لم یزل کے قریب ہو جائیے۔ گھر بیٹھے کوئی نیا ہنر سیکھ لیجیے اور اس بات کی منصوبہ بندی میں وقت گزاریں کہ ہم جب اس خلوت سے نکل کر جلوت میں جائیں گے تو کیسے ایک بہتر انسان کے طور پر عمل کریں گے۔ ایسا موقع بھی کم ہی ملتا ہے جب زمیں تو مسلسل گھوم رہی ہو اور وقت ساکت سا ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عطیہ عادل کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *