کرونا رُت میں سرسبز وشاداب دیہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وبا سے پنجہ آزمائی شہروں میں کی جارہی ہے لیکن پاکستان کی 75 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے، وہاں عوام کے تحفظ کے لئے کیا ہورہا ہے؟ دیہات کو نہ بچایا گیا تو معیشت کو بھی کورونا ہوجائے گا جس کے لئے وینٹیلیٹر سے مصنوعی تنفس کا بندوبست بھی موجودنہیں ہے، ’دانے‘ یعنی خوراک اور ’پیسے‘ دونوں ہی ہمارے گاؤں ہمیں دیتے ہیں۔ گاؤں والدین کی طرح ہوتے ہیں جن کا فرض نگہبداشت اور جائز ناجائز ضروریات پورا کرنا ہوتا ہے اور شہر لاڈلے بچوں کی مانند ہوتے ہیں۔ بچوں کے پیسے ختم ہوجاتے ہیں لیکن ’ابا جی‘ اور ’اماں جی‘ بچوں کی محتاجی کو ہمیشہ دور ہی کرتے رہتے ہیں لیکن خود ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں، پاکستان کے دیہات اور گاؤں اور وہاں کے چوپال بھی ایسے ہی ہیں۔

‎ہر طرف کورونا کی ہاہا کار مچی ہے، موت انسانوں کو ایسے نگل رہی ہے جیسے ٹڈی دل فصلوں کو کھاتے ہیں امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ امیرکبیر معاشرے ریت کی دیوار ثابت ہوئے جبکہ ہمارے غریب، نادار اور مفلوک الحال آبادیوں میں محرومیوں نے وہ قوت مدافعت پیداکردی ہے کہ کورونا جیسا ظالم اور سفاک دشمن بھی ان کے آگے پانی بھررہا ہے یہ شاید قدرت کا رحم و کرم ہے کہ ننگے پاوں، بے آسرا، اپنوں پرایوں سے لٹتے پٹتے اپنے ان بندوں کی قوت مدافعت بڑھا دی ہے۔ کہاجارہا ہے کہ پاکستان میں الحمدللہ وائرس کا ہلاکت خیز اثر نہیں جو امریکہ، اور یورپ کے ممالک اٹلی، سپین اور فرانس میں ہورہا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ وائرس کی طاقت کم ہے لیکن مختلف ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی قوت مدافعت اور مزاحمت بہت زیادہ ہے۔

‎انہیں کون بتائے کہ جعلی دوائیاں، اینٹیں پیس کر اور رنگ دے کر بنائے جانے والے مرچ مصالحے، ’چھپڑ‘ کے پانی اور کیمیمکل سے بنے دودھ، خوراک سے لے کر سبزیوں تک ہر ملاوٹ شدہ چیز معدوں میں منتقل کرتے یہ پاکستانی کتنے طاقتور ہیں اور ان کا مدافعتی نظام کتنا ”ڈھیٹ“ ہے یہ کورونا وائرس کو پتہ چل گیا ہے۔ ان بے چاروں کو گدھے اور خچر کڑاہیوں میں بکروں کے نام پر تل تل کر کھلائے جاتے ہیں اور یہ ’صابرین‘ جعلی کاربونیٹڈ واٹر بوتلیں پی کر ڈکار لیتے اور پھر بھی ”فٹ فاٹ“ رہتے ہیں۔ ان سادہ لوح کے لئے خوراک، دوائی اور قیادت تک کچھ خالص میسر نہیں۔ گٹر اور پانی کی لائنیں ملی ہیں۔ ہسپتالوں میں چوہے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ایسے میں کورونا وائرس ان کا کیا بگاڑے گا؟

‎دیہات میں اب بھی وہی ماحول ہے۔ لوگ گلے بھی مل رہے ہیں، حقے بھی گڑگڑا رہے ہیں، ملنگ، فقیر سب اپنی دھن میں مست ہیں لسیاں بھی چل رہی ہیں اور تندوروں سے اترتی گرما گرم روٹیوں پر مکھن کے پیڑے رکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتے دیہاتی کسی بھی کورونا سے بے نیاز ہیں۔

‎پاکستان کے مجموعی قومی پیداوار یا ’جی ڈی پی‘ میں 18.5 فیصد حصہ زراعت کا ہے۔ ماہرین اسے ناکافی تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر تین میں سے دو باشندے دیہات سے تعلق رہتے اور ہر پانچ میں سے دو کا ذریعہ معاش زراعت سے جڑا ہے۔ ہماری بنیادی برآمدات یعنی کپاس، ٹیکسٹائل، چاول، کنوں مالٹے، چمڑے کی مصنوعات زراعت کی مرہون منت ہیں۔ اسی لئے انہیں نقدآور فصلیں کہاجاتا ہے جو پاکستان کے لئے ہر سال ڈھیروں ڈالر لاکر ہمارے ’گلے‘ کو بھرتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ دیہات اور گاؤں ہی ہماری معیشت کو چلانے کے علاوہ ہماری خوراک کا بھی بندوبست کرتے ہیں۔ الحمدللہ دیہات کی صورت یہ وہ نعمت اور رحمت خداوندی ہے جس نے مشکل ترین حالات میں بھی ہمیں سنبھالادیا۔ اسی لئے عام مقولہ ہے کہ ”جنہاں دے گھر دانے، اونہاں دے کملے وی سیانے“۔

‎پاکستان میں 9.16 ملین ہیکٹر رقبے پر ’واہی بیجی‘ یا کاشتکاری ہوتی ہے۔ اس سال 27.03 ملین یا دو کروڑ 70 لاکھ ٹن پیداوار کا تخمینہ لگایاگیا ہے۔ موسمی تغیر کی بناءپر پیداوار کم ہونے کا خدشہ ہے لیکن اگر ہمارا پیداواری ہدف پورا نہ بھی ہوا اس کے باوجود ہمارے پاس اتنی مقدار میں گندم اور آٹا دستیاب ہوگا کہ جس میں 2020 کی ضروریات باآسانی پوری ہوجائیں گی۔

‎لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے مدنظر یہ دیکھنا ہوگا کہ گندم کی محفوظ کٹائی، صفائی اور پھر ترسیل کیسے ممکن ہوگی؟ گندم خریداری کے لئے کیا انتظام ہوگا کہ لوگ بھی کورونا سے بچے رہیں اور گندم بھی فروخت کرکے خیر سے گھروں کو لوٹ جائیں یہ معاملہ دو دھاری تلوار ہے ایک طرف لوگوں کو بھی بچانا ہے اور دوسری طرف معاشی خطرات سے بھی بچنا ہے۔

‎سندھ میں گندم کی کٹائی شروع ہوچکی ہے۔ پنجاب میں بھی یہ عمل قریب قریب شروع ہونے کو ہے۔ پنجاب میں ملک کی 80 فیصد گندم پیدا ہوتی ہے۔ بارشوں کی وجہ سے اگر کٹائی میں کچھ دن تاخیر ہوئی بھی تو اپریل کے درمیان میں یہ عمل لازمی شروع ہوجائے گا۔

‎ہمارے ملک میں کٹائی کا زیادہ تر کام درانتی سے ہوتا ہے جس میں لوگ مل جل کر اللہ کی رحمت جھولیوں میں بھرتے ہیں۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ ابھی تک دیہات میں کورونا کے متاثرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم زیادہ توجہ کریں اور دیہی آبادی کو اس مہلک وبا سے بچانے کے لئے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اس ضمن میں سب سے اہم امر سکریننگ اور ٹیسٹنگ کا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر چند سو کو یہ وائرس متاثر کرگیا تو پریشانی بڑھ جائے گی اور متاثرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جانے کا اندیشہ ہے۔ معروف سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمٰن پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ ہمارے پاس ٹیسٹنگ صلاحیت کی نہیں ہے، ملک میں کورونا کیسز ایک لاکھ تک جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہم ٹیسٹنگ صلاحیت نہیں بڑھائیں گے، کنفرم کورونا کیسز کی تعداد معلوم نہیں ہوسکتی ہے۔

‎حکومت کو فی الفور دیہات اور گاؤں کو بچانے کے لئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہیں بروقت بوریاں جسے باردانہ کہتے ہیں، فراہم کرنا ہوگا۔ اسے کیسے محفوظ بنانا ہے، رش نہ لگے اور بہترین نظم وضبط سے تمام عمل کیسے پورا ہوگا؟ یہ سب ایک مشکل کام ہے اور اس کے لئے بہترین منصوبہ بندی درکار ہے۔ یاد رکھیں ماں باپ ساری زندگی بچوں کو سنبھالتے ہیں لیکن جب ماں باپ کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو اولاد ’رُل‘ جاتی ہے۔ زراعت اور گاؤں، دیہات ہمارے ماں باپ کی طرح ہیں، ان کا خیال کریں۔ ان سے گھر چل رہا ہے۔ بچوں سے گھر نہیں چلتا۔

کورونا رُت کے ہلاکت خیز موسم میں بہار شہروں میں وحشت اور اجاڑ کا منظر پیش کر رہی ہے جبکہ ہمارے دیہہ دیہات اور گوٹھ صدیوں سے معمول کے مطابق خوش منظر ہریالی اور تازگی کا مرقع ہیں خدائے لازوال اس سرسبز وشاداب منظر کو تا ابد سلامت رکھے

بشکریہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *