افسر ساجد کی سات کتابیں سات حیرتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دیکھنے والے کے لیے یہ دنیا ایک نگار خانہ ہے جہاں پلک جھپکنے کی دیر ہوتی ہے کہ سامنے والا لینڈ سکیپ تبدیل ہو جاتا ہے۔ جیسے Heraclitus نے کہا تھا تم اسی دریا میں دوبارہ پاٶں نہیں رکھ سکتے کہ نہ وہ دریا ہوتا ہے اور نہ تم وہ ہوتے ہو مگر حیرت کا مقام ہے کہ شاعری شاعری ہی رہتی ہے اور آپ اس میں بار بار پاٶں رکھ سکتے ہیں اور شاعری کا دریا آپ کو ساتھ بہا کر لے بھی جاتا ہے آپ اس میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں اور پھر ابھرتے ہیں۔ اسی کا اظہار افسر ساجد نے اپنے نقطہ نظر سے واضح کیا ہے ;ع

نہ کچھ کہنے کی ساعت ہے
نہ کچھ سننے کی مہلت ہے
بس اک حیرانگی ہے جو
ہمیں کہنے نہیں دیتی
انہیں سننے نہیں دیتی۔
”حیرت“ سید محمد افسر ساجد کی ساتویں کاوش ہے اس سے قبل ان کی دو کتب اردو زبان میں اور چار انگریزی زبان میں شائع ہو چکی ہیں۔ ترسیل، وجود اک واہمہ ہے اردو زبان میں اور

Perceptions 1989
Appraisals 2002
Profiles and Dialogues 2005
Evaluations 2019
انگریزی میں منصہِ شہود پر آئیں۔ یوں تو ان کا ادبی سفر ستر کی دہائی میں شروع ہوا اور تاحال پوری توانائیوں کے ساتھ جاری ہے۔ ادبی کالم نگاری اس پر مستزاد ہے جو وہ کئی عشروں سے معاصر انگریزی زبان میں جاری ہے۔ اس وقت انگریزی زبان میں اردو تنقید میں ان کی طرح کا مکمل انہماک اور جدید تر ادبی منظر نامے پر کمال دسترس رکھنے والا تنقید نگار کہیں نہیں۔ اس ضمن میں وہ سر عبدالقادر ایڈیٹر مخزن کی روایت کے امین ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ شہزاد کے مطابق اس وقیع کام کا آغاز 1898 عبدالقادر نے تہذیبی اور ثقافتی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے انگریزی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا اور اس موضوع پر اولین کتاب

The New School of Urdu Literature
سامنے آئی۔ یہ ان کے لیکچرز تھے جو کتاب کی شکل میں شائع ہوئے جن شخصیات کے فن کو موضوعِ بحث بنایا گیا ان میں ہمارے دادا مرشد محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد، رتن ناتھ سرشار اور عبدالحلیم شرر شامل تھیں۔ سید افسر ساجد اسی تنقیدی بصیرت کی روایت کو انگریزی دان حلقے میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

مرتضیٰ برلاس نے
دوستوں کے حلقے میں ہم وہ کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں شاعروں میں افسر ہیں
جیسا شعر کہہ کر بیوروکریسی میں افسروں کے مزاج بھی نشاندہی کر دی ہے اور افسروں میں شاعری کی ناقدری بھی بیان کر دی ہے مگر یہاں معاملہ الٹا ہے۔ افسر ساجد نے ادب اور ادیبوں میں اور شعر اور شاعروں میں جو مقام بیان بنایا ہے اس سے سب واقف ہیں۔ انتظامی امور ہوں یا ادب میں تنقید کا منصب ہو نظم میں کنٹری بیوشن ہو یا بین الاقوامی مشاعروں کا انعقاد ہو انہوں نے ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ ادب اور علم کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسی لیے یونیورسٹیوں اور تدریسی اداروں یا علم اور کلچر سے متعلقہ شخصیات نے ہی زیادہ کام ہے۔

جیسے ادب میں ہم بینکرز کا بھرم احمد مشتاق، مشتاق یوسفی اور افتخار جالب بنایا ہے بعینہ بیوروکریسی میں بھی بہت کم لوگ ہیں جن کا ادب سے اتنا گہرا تعلق یا کمٹمنٹ ہو۔ بیوروکریٹس میں قدرت اللہ شہاب اور مصطفی زیدی تک آتے آتے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ ان کے بعد مرتضی برلاس اور افسر ساجد نے اس ادب کی شمع کو بلند رکھا۔ آج کل بیوروکریسی میں جو فصل تیار ہوئی ہے اس کی ترجیحات اور طرح کی ہیں اس دربار میں ادب کا چڑھاوا نہیں چڑھتا کسی اور چیز کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ افسر ساجد نے اپنی کلاس میں اپنی کلاس قائم رکھی ہے اور اپنے طرزِ عمل سے ثابت کیا ہے کہ نوکری میں شان کس طرح قائم رہ سکتی ہے اور نام خاندان اور ملک قوم کا پاس کیسے رکھا جاتا ہے۔

زیر نظر کتاب ان کی شاعری کا دوسری کاوش اور مجموعی طور یہ ان کی ساتویں کتاب ہے۔ بنیادی طور پر وہ نظم کے شاعر ہیں اور اسی صنف میں اپنے جوہر لٹائے ہیں مگر یہ خوشی کی بات ہے اس دفعہ انہوں نے غزل کو بھی اپنا وسیلہ اظہار بنایا ہے۔ کتاب کا آغاز نعت سے ہوتا ہے اور کمال کے مطلع سے

راستوں کی روشنی اور بام و در کی روشنی
سب اجالوں سے ہے افضل اس نگر کی روشنی
سلام میں بھی بہت سے اعلیٰ اشعار موجود ہیں
جن کی زباں پہ کلمہِ حق کا ورود تھا
جو آبروئے حرف و بیاں تھے انہیں سلام
افسر ساجد کی شخصیت میں جو نفاست اور تہذیب اور رکھ رکھاؤ ہے اس کا اظہار ویسے ہی ان کی شاعری میں بھی مقام پاتا گیا ہے ;ع

ہونٹوں کا ہلانا بھی کسی کام نہ آیا
آیا بھی کوئی نام تو وہ نام نہ آیا
اک گام پہ منزل تھی مگر وائے تمنا
اس جاں کے سفر کا کوئی انجام نہ آیا
ایمائیت اور رمز بھرے انداز میں بات کہنے کا ہنر خوب جانتے ہیں گویا کچھ نہ سکے اور کہہ بھی گئے کی کیفیت ہے اور بھرپور کیفیت ہے۔ ; ع

ہمارے حال پہ خنداں ہے جو نسیمِ سحر
اسی کے نام پہ سو زخم کھائے بیٹھے ہیں
میں اپنا درد سر شام بھول جاتا ہوں
سحر کی آس میں ہر کام بھول جاتا ہوں
کنول کا پھول جو لہکا ہے نیلے پانی پر
میں اس کے عکس میں ہر نام بھول جاتا ہوں
چونکہ انہوں نے معاشرے کو اپنی ملازمت کے دوران بہت باریک بینی اور نزدیک سے دیکھا ہوا ہے اور معاشرے کے مکر و فریب کا بھی مشاہدہ کیا ہے ایسی تلخ حقائق نے بھی ان کی غزل میں جا پائی ہے

ہم سرابوں سے بہلتے رہے افسر ساجد
ہم نے خوابوں کو حقیقت سے بھی بر تر رکھا۔
اس مجموعے میں افسر ساجد کی نظموں بھی شامل ہیں جس میں ہست و بود، بے گانگی، بے چارگی اور بے یقینی جیسے مشکل موضوعات ان کے مد نظر رہے ہیں اور آج کے انسان کے المیاتی انجام کو بیان کیا گیا ہے ; ع

مقتل صبح و شام میں
محشر بے امان میں
جب کوئی کام آ گیا
جنبش ماہ و سال میں کچھ تو قیام آ گیا۔
اور آج کے انسان کی نفسیاتی الجھن یوں ہے کہ; ع
وہ اپنے آپ میں روپوش
اک عرصے سے حیراں اور پریشاں
در بدر کی ٹھوکریں کھاتا۔
بھٹکتا پھر رہا ہے۔
سید افسر ساجد نے زندگی کی بساط پر ہمیشہ اپنی مرضی کی چال چلی ہے اور جہاں بڑے بڑوں کے ِپتّے پانی ہو جاتے ہیں اور ایمان ڈول ڈول جاتے ہیں وہ وہاں سے ایک شانِ بے نیازی سے دامن جھاڑ کے نکلے ہیں۔ ; ع

محبت اک الاؤ ہے
جو بجھ کر بھی لپکتا ہے
لپک کر بجھ بھی جاتا ہے
مگر پھر بھی
محبت کرنے والوں کو حضور یاد رکھتا ہے
ابد آباد رکھتا ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *