فیمینزم: ایک گہرا شعور اور لمبی جدوجہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں کچھ مغربی اصطلاحات ایسی ہیں جو کسی گورکھ دھندے سے کم نہیں ہیں۔ ان اصطلاحات پر غلط معنوں کی اتنی تہیں ہیں کہ ان کا مفہوم اور اطلاق کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک ایسی ہی اصطلاح فیمینزم کی بھی ہے۔ اس سوشل میڈیائی دور میں فیمینزم اب مردوں کو گالم گلوچ اور انہیں جابر، ظالم اور حاکم قرار دینے تک محدود رہ گیا ہے۔ حالانکہ فیمینزم کی تحریک اور اس کی بنیاد اس سے یکسر مختلف ہے۔ فیمینزم مردوں کے خلاف نہیں بلکہ مردوں کے ساتھ مل کر اس پدر سری معاشرے کے خلاف لڑنا ہے۔ وہ پدر سری معاشرہ جو صرف عورتوں کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی تنگ ہے۔

بیسویں صدی میں ابھرنے والی یہ تحریک جو عورتوں کو مساوی اجرت، تعلیم اور عورتوں کو ووٹ دینے کے حوالے سے تھی۔ اپنے بیشتر مقاصد حاصل کرچکی ہے۔ موجود دور میں اس تحریک اور آٹھ مارچ کا مقصد کیا ہوسکتا ہے اور ہمیں عورتوں کے حوالے سے اسے کن تناظر میں دیکھنا چاہیے یہ آج کا بنیادی سوال ہے۔

شہری آبادی کی بیشتر خواتین کو تعلیم اور ملازمت کی آزادی حاصل ہوچکی ہے لیکن یہ سوال ابھی بھی قابل غور ہے کہ کیا وہ بطور انسان اس آزادی کا بھرپور فائدہ اٹھارہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عملی زندگی میں آنے کے باوجود عورت اپنے ان احساسات سے نکل نہیں پائی جو پدر سری معاشرے نے اسے دیے تھے۔ اعلیٰ تعلیم اور اچھی ملازمت کے باوجود عورت تب تک اپنی زندگی کو مکمل نہیں سمجھتیں جب تک ان کی شادی نہ ہوجائے یعنی ابھی تک یہی مانا اور سمجھا جاتا ہے کہ شادی اس کی زندگی کا حاصل اور اس کی پناہ گاہ ہے۔

وہ خواتین جو شادی شدہ ہیں ملازمت کے باوجود گھر کی بیشتر ذمہ داریاں نبھا رہی ہوتی ہیں کہ پدر سری معاشرے کے مطابق ان کی اولین ترجیح یہی ہونی چاہیے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم اور ملازمت ابھی تک عورت کو اس کے ”روایتی“ کردار میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ خود بھی خود کو بطور انسان سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس پر پیدا ہوتے ہی عورت ہونے کا جو بوجھ لاد دیا جاتا ہے وہ عملی زندگی میں جتنی ہی ترقی کرلے اس سے نکل نہیں سکتی۔ مرد ملازمت کے بعد شام کو دوستوں کے ساتھ ڈنر پر جاسکتا ہے اور رات گھر دیر سے آسکتا ہے لیکن ایک ملازمت پیشہ عورت بھی ایسی تفریح کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

کہا یہ جاتا ہے کہ عورت کو معاشرے میں استحکام حاصل کرنے کے لیے معاشی طور پر خود کفیل ہونا چاہیے۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کو عورت کی کمائی کو خاندان میں آمدنی کا سکینڈری ذریعہ سمجھا جاتاہے۔ پرائمری اہمیت ہمیشہ مر د کی کمائی کو ملتی ہے۔ وہ خواتین جو شادی کے بعد ملازمت کررہی ہیں انہیں ایک کفیل کی حیثیت و رتبہ کم ہی حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہ درجہ صرف مرد کو حاصل ہے۔ ہمارا متوسط طبقہ کسی حد تک یہ بات قبول کر چکا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کی معاشی مدد سے ہی اس خاندان کو چلایا جا سکتا ہے لیکن وہ لمحہ آنے میں شاید ابھی کچھ وقت ہے جب عورت معاش کی بنیاد پر خاندان اورمعاشرے کے سامنے مر د کے برابر آکھڑی ہو۔

شادی جو ایک سماجی معاہدہ ہے اور سماج کا نظام مثبت طور پر آگے بڑھانے میں مددگار ہے۔ عورتوں کے لیے کسی قید خانے سے کم نہیں ہے۔ پاکستانی سماج میں عورت خاندان کا سب سے اہم جزو ہے لیکن یہاں یہ مسئلہ ہے کہ اسے جزو نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے صرف خاندان سے منسوب کرکے وہیں تک محدود کردیا جاتا ہے۔ بچیوں کو بہت آغاز سے ہی اس بات کا احساس دلانا شروع کردیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک دن دوسرے گھر جانا ہے اور انہیں وہاں جانے کی تیاری مکمل کرنی چاہیے۔

دوسرے گھر جانے کی تیاری میں لڑکی کی تعلیم، تربیت اور بطور فرد اس کی شخصی خوبیوں کو چنداں اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ گھریلو امور میں اس کی استعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ شادی کے لیے لڑکی کو جن معیارات میں پرکھا جاتا ہے اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ نسل اور خاندان چلانے کے لیے صرف خوش ذائقہ کھانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

دراصل عورت ہمارے ہاں ایک minorجنس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاص صورتحال میں اس کا ذکر بوڑھوں اور بچوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور یہ سمجھاجاتا ہے کہ انہیں بھی ایسی ہی نگہداشت اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو جسمانی حوالے سے کمزور مانا جاتا ہے۔ عورتوں کو پہلے ماں باپ کے ہاں یہ تحفظ دیا جاتا ہے اور جوان ہونے پر اس کے شوہر کو یہ ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ ہماری بیشترخواتین نے اس اسٹیٹس کوقبول کرلیا ہے کیونکہ passiveہونے کے کچھ فوائد بھی ہیں کہ وہ تمام ذمہ داریوں سے بری ہوجاتی ہیں۔

اب یہ مرد کا فرض ہے کہ ان کی حفاظت اور نگہداشت کرے۔ کچھ عورتیں ایسی بھی ہیں جو تحفظ کے اس حصار کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن انہیں دوہری مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک معاشرہ اور دوسری اس کی اپنی ہم جنس۔ ہمارے ہاں عورت کا اپنی ذمہ داری خود لینا بغاوت سمجھا جاتا ہے نہ کہ اس جرات پر ان کی ہمت افزائی کی جائے انہیں مستقبل سے ڈرایا جاتا ہے۔ انہیں ”عدم تحفظ“ کا احساس بار بار دلایا جاتا ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ شہری معاشروں میں عورت کی تعلیم عام ہوچکی ہے لیکن کیا یہ تعلیم عورت کے اندر آزادی و خود مختاری کا احساس لارہی ہے؟ اس سوال کا جواب نہ میں ہے۔ درا صل تعلیمی نظام بھی ہمارے روایتی سماجی نظام کا ہی حصہ ہے جو ابھی سماج کے کسی بھی فرد میں ایسی تعلیم کا آرزومند نہیں ہے۔ تو ہماری تعلیم بھی ایک طرز کیdummyبنانے میں جتی ہوئی ہے۔ والدین بچیوں کو صرف اس لیے تعلیم دے رہے ہیں کہ ان کے رشتے اچھے آئیں گے یا شادی کے بعد اگر کوئی مصیبت آن پڑی تو وہ اپنے شوہروں کی مدد کرسکیں گی لیکن وہ نہیں چاہتے کہ عورت اپنے لیے تعلیم حاصل کرے۔ کوئی ایسا ہنر سیکھے جو اس کی اپنی ذات کو خوشی و طمانیت دے یا جس کے ذریعے سے وہ خود کو جان سکے۔ وہ نہیں چاہتے کہ وہ ایسی تعلیم حاصل کرے جس سے وہ اپنے مستقبل کی حفاظت خود کرسکے۔ وہ ابھی نہیں چاہتے کہ عورت خاندان سے الگ صرف اپنے بارے میں سوچ سکے۔ اپنی زندگی جی سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “فیمینزم: ایک گہرا شعور اور لمبی جدوجہد

  • 08/04/2020 at 8:19 pm
    Permalink

    بہت خوب، ڈاکٹر صنوبر الطاف صاحبہ ۔۔۔!

    👍❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *