فیمینزم کی اصطلاح سے میرا پہلا پہلاتعارف دو طرح کی خواتین کے ذریعے ہوا جواپنے تئیں فیمینسٹ تھیں۔ پہلی وہ جو بزعم خودنہایت باشعور اور ذی فہم تھیں، فیمینزم کی تعریف سامعین کے مطابق کرتی تھیں۔ اگر مجمع وہ ہے جہاں روایت اور مذہب کا اثر زیادہ ہے تو وہ ”اسلام میں عورتوں کے حقوق“ سے گفتگو کا آغاز کرتیں، ہاں البتہ نجی محفلو ں میں وہ ”اپنے“ موقف کا کھل کر اظہار کرتی تھیں۔ دوسری قسم کی خواتین ذرا فلسفیانہ ٹائپ کی ذہنیت رکھتی تھیں۔ایک تقریب میں ان کی مدلل اور پر مغز گفتگو سننے کا بھی اتفاق ہوا۔
انہوں نے حضرت خدیجہؓ کو اپنا رول ماڈل قرار دیا۔ ان کے خیال میں عورت کا درست مقام اس کا گھر ہے اور اولین ڈیوٹی بچے پالنا ہے۔ ان کے نزدیک فیمینزم یہودیوں کی شیطانی سازش ہے۔ ادبی حلقوں میں ذرا خواتین تخلیق کاروں پر نگاہ دوڑائیں تو ایک دوسری ہی طرح کاعجیب عالم نظر آتا ہے۔ یہاں دوچارفیمنزم کی ماری خواتین اپنے اعتماد، ذہانت اور چالاکی کے باعث ایک الگ ہی حلقہ اثر رکھتی ہیں۔
Read more