زندگی تماشا

سرمد کھوسٹ نے اپنی فلم ”زندگی تماشا“ کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا ہے اور اب یہ ہر خاص و عام کے لیے مفت دستیاب ہے۔ ہمارا سینسر بورڈ ہماری عمومی ذہانت کے زیر اثر ہے۔ اب وہ فلم چلنے سے زیادہ کرسیاں اور ڈنڈے چلنے سے خوفزدہ ہے۔ گویا ریاستی ادارے اب تحفظ دینے میں ناکامی کا اظہار ہر شعبے میں ”بند کریں /جان چھڑائیں“ پر عمل کرتے ہوئے کر رہے ہیں۔ فلم دیکھنے کے بعد ہمارے دانشوروں

Read more

بانوے سال بعد ول ڈیورانٹ کو لکھے جوابات

یہ 1930 ء کے خزاں کا ایک روشن دن تھا۔ پہاڑوں سے آنے والی ٹھنڈی ہوا نے جیسے اس کی طبیعت میں ایک نئے ولولے اور تازگی کا احساس پیدا کر رہی تھی۔ ول ڈیورانٹ نیویارک میں واقع اپنے گھر سے باہر درختوں کی شاخوں سے گرتے خشک پتے جمع کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک ایک شخص اس کے پاس آیا۔ وہ شخص عمدہ لباس میں ملبوس تھا اور اس نے ویل ڈیورانٹ کو پرسکون لہجے میں بتایا کہ

Read more

زاہد امروز: جلے ہوئے آسمان کا پرندہ

جدید اردو نظم قریباً سو سال کا سفر طے کرچکی ہے۔ غزل جو ہمارے سماجی و ادبی کلچر کا ایک مستند حوالہ ہے اس کے متوازی نظم اپنی حیثیت بنانے میں کامیاب نظر آتی ہے اور آج یہ کہنا غلط نہیں کہ ہمارا نظمیہ اثاثہ غزل کے برابر ہے۔ جدید نظم کا آغاز ساتھ کی دہائی میں شروع ہوتا ہے لیکن کرافٹ کے حوالے سے اس کا ارتقا نوے کی دہائی کے بعد کے نظم نگاروں میں صاف نظر آتا

Read more

برادر کراموزوف: فرشتے یا کیڑے

دوستوئفسکی کے ناول برادر کراموزوف کا پڑھ لینا بہر حال ایسا ہے کہ بندہ سجدہ شکر ادا کر لائے۔ روسی ادب کے عاشق محترم اشفاق سلیم مرزا برادر کراموزوف کی بے حد تعریف کرتے تھے اور اسی بات سے مجھے اس کے مطالعے کی بے قراری تھی۔ شاید اسی لیے میں نے بزعم خود اس کا پڑھ لینا سال کی بڑی کامیابی سمجھا اور خود کو شاباش دی کیونکہ میں اسے اپنے مطالعاتی تجربات میں اہم اور منفرد سمجھتی ہوں۔

Read more

عورت مارچ: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

آٹھ مارچ ہمارا دن تھا، عورتوں کا دن۔ فطری طور پر اس دن کے حوالے کچھ توقعات اور امیدیں وابستہ رہتی ہیں۔ ایک دن کے لیے ہی سہی لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پوری کائنات آج ساتھ ہے اور ہماری تعظیم کر رہی ہے۔ ویمن ڈے کے حوالے سے ملک بھر میں تقریبات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس بار مجھے اسلام آباد میں ایسی دو ایک تقریبات میں شرکت کرنے کا موقع

Read more

عبداللہ حسین اور اداس نسلوں کا خالی انباکس

وہ ایم اے اردو کے دن تھے، جب اس سے پہلی ملاقات ایک کتاب کے سرورق پر ہوئی۔ اس کی خاموش آنکھوں اور پر اعتماد چہرے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ وہ چہرہ دوسرے ادیبوں سے کتنا الگ تھا۔ بھلا اردو کے تخلیق کاروں کے چہروں پر اتنا اعتماد اور غرور کہاں ہوتا ہے۔ ناول تو بعد میں پڑھا تھا لیکن اس ہالی وڈ کے چہرے والے ناول نگار کی شخصیت مجھے بہت بھا گئی تھی۔ مرد لکھاری محض ایک مرد کے طور پر بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے اس ہالی وڈ ہیرو میں جو غرور اور وقار تھا وہ اپنی طرف کھنچے چلے جانے پر مجبور کرتا تھا لیکن یہ کشش ایک خاص طرح کی دوری بھی پیدا کرتی تھی۔ لیکن بھلا ہو اس سوشل میڈیا کا جس نے کچھ پرانے رومانوی قسم کے احساسات کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ اسے اب کیا بتاؤں میری جنریشن کی لغت میں اب دوری، شرماہٹ، ہجر و وصال سب ختم ہوچکے ہیں۔ اب فیس بک کی ایک ”کلک“ سے لوگ دوست بن جاتے ہیں۔ ویو wave کے ایک اشارے سے یا Hi سے فاصلے ختم ہو جاتے ہیں۔ تو ایک دن یونہی اس بلیک اینڈ وائٹ تصویر سے جھجکتے ہوئے میں نے اسے وہ ”کلک“ بھیج دیا۔ مجھے جواب کا یقین نہیں تھا۔ میں جانتی تھی کہ اسے نظر انداز کیا جائے گا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اس نے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ مجھے ایک پیغام لکھا۔

Read more

نئی عورت کا رول ماڈل

وہ چھوٹی تھی تو اس کی رول ماڈل اس کی ماں تھی جو اس سے محبت کرتی اور مزیدار کھانے بناتی تھی۔ وہ سکول گئی تو اس کی رول ماڈل اس کی ٹیچر تھی جو خوبصورت لباس پہنتی تھی اور اچھا کام کرنے پر اسے مسکرا کر شاباش دیتی تھی۔ وہ لڑکپن میں تھی تو ڈائجسٹ کی ہیروئن اس کی رول ماڈل بنی جو گھریلو کاموں میں مشاق تھی اور اسے بہت اچھا بے عیب شوہر بھی مل جاتا تھا۔ لیکن پھر وہ بڑی ہوگئی، دوچار کتابیں پڑھ لیں، نوکری کرلی اور گھر سے باہر کی دنیا کا شعور آیا تو رول ماڈلز کا جعلی بھرم ٹوٹ گیا۔ اب اصل دنیا ہے اور اس کے اصل چیلنجز ہیں۔ اب اس کا رول ماڈل کون بنے گا؟

Read more

مورتیاں تراشنے والاعرفی

کہانی ایک پتھر ہے اورافسانہ نگاری مورتیاں تراشنے جیسا عمل ہے۔ افسانہ نگار اپنی ہتھوڑی چھینی سے کہانی کے پتھر کو کس پہلو سے تراشتا ہے یہ اس کا اختیار ہے۔ اچھا افسانہ نگار وہی ہے جو اپنے اوزار سے تراش خراش کے اس عمل کو بہت سبھاؤسے جاری رکھتا ہے اور ایک اسلوب وضع کرتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آرائش اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ پتھرغائب ہوکررہ جاتا ہے اور کچھ مورتی ساز ایسے بھی

Read more

فیمینزم: ایک گہرا شعور اور لمبی جدوجہد

ہمارے ہاں کچھ مغربی اصطلاحات ایسی ہیں جو کسی گورکھ دھندے سے کم نہیں ہیں۔ ان اصطلاحات پر غلط معنوں کی اتنی تہیں ہیں کہ ان کا مفہوم اور اطلاق کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک ایسی ہی اصطلاح فیمینزم کی بھی ہے۔ اس سوشل میڈیائی دور میں فیمینزم اب مردوں کو گالم گلوچ اور انہیں جابر، ظالم اور حاکم قرار دینے تک محدود رہ گیا ہے۔ حالانکہ فیمینزم کی تحریک اور اس کی بنیاد اس سے یکسر

Read more

فیمینزم کی ماری فیس بکی سکھیوں کے نام

فیمینزم کی اصطلاح سے میرا پہلا پہلاتعارف دو طرح کی خواتین کے ذریعے ہوا جواپنے تئیں فیمینسٹ تھیں۔ پہلی وہ جو بزعم خودنہایت باشعور اور ذی فہم تھیں، فیمینزم کی تعریف سامعین کے مطابق کرتی تھیں۔ اگر مجمع وہ ہے جہاں روایت اور مذہب کا اثر زیادہ ہے تو وہ ”اسلام میں عورتوں کے حقوق“ سے گفتگو کا آغاز کرتیں، ہاں البتہ نجی محفلو ں میں وہ ”اپنے“ موقف کا کھل کر اظہار کرتی تھیں۔ دوسری قسم کی خواتین ذرا فلسفیانہ ٹائپ کی ذہنیت رکھتی تھیں۔ایک تقریب میں ان کی مدلل اور پر مغز گفتگو سننے کا بھی اتفاق ہوا۔

انہوں نے حضرت خدیجہؓ کو اپنا رول ماڈل قرار دیا۔ ان کے خیال میں عورت کا درست مقام اس کا گھر ہے اور اولین ڈیوٹی بچے پالنا ہے۔ ان کے نزدیک فیمینزم یہودیوں کی شیطانی سازش ہے۔ ادبی حلقوں میں ذرا خواتین تخلیق کاروں پر نگاہ دوڑائیں تو ایک دوسری ہی طرح کاعجیب عالم نظر آتا ہے۔ یہاں دوچارفیمنزم کی ماری خواتین اپنے اعتماد، ذہانت اور چالاکی کے باعث ایک الگ ہی حلقہ اثر رکھتی ہیں۔

Read more