نئی عورت کا رول ماڈل

وہ چھوٹی تھی تو اس کی رول ماڈل اس کی ماں تھی جو اس سے محبت کرتی اور مزیدار کھانے بناتی تھی۔ وہ سکول گئی تو اس کی رول ماڈل اس کی ٹیچر تھی جو خوبصورت لباس پہنتی تھی اور اچھا کام کرنے پر اسے مسکرا کر شاباش دیتی تھی۔ وہ لڑکپن میں تھی تو ڈائجسٹ کی ہیروئن اس کی رول ماڈل بنی جو گھریلو کاموں میں مشاق تھی اور اسے بہت اچھا بے عیب شوہر بھی مل جاتا تھا۔ لیکن پھر وہ بڑی ہوگئی، دوچار کتابیں پڑھ لیں، نوکری کرلی اور گھر سے باہر کی دنیا کا شعور آیا تو رول ماڈلز کا جعلی بھرم ٹوٹ گیا۔ اب اصل دنیا ہے اور اس کے اصل چیلنجز ہیں۔ اب اس کا رول ماڈل کون بنے گا؟

Read more

مورتیاں تراشنے والاعرفی

کہانی ایک پتھر ہے اورافسانہ نگاری مورتیاں تراشنے جیسا عمل ہے۔ افسانہ نگار اپنی ہتھوڑی چھینی سے کہانی کے پتھر کو کس پہلو سے تراشتا ہے یہ اس کا اختیار ہے۔ اچھا افسانہ نگار وہی ہے جو اپنے اوزار سے تراش خراش کے اس عمل کو بہت سبھاؤسے جاری رکھتا ہے اور ایک اسلوب وضع…

Read more

فیمینزم: ایک گہرا شعور اور لمبی جدوجہد

ہمارے ہاں کچھ مغربی اصطلاحات ایسی ہیں جو کسی گورکھ دھندے سے کم نہیں ہیں۔ ان اصطلاحات پر غلط معنوں کی اتنی تہیں ہیں کہ ان کا مفہوم اور اطلاق کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک ایسی ہی اصطلاح فیمینزم کی بھی ہے۔ اس سوشل میڈیائی دور میں فیمینزم اب مردوں کو گالم…

Read more

فیمینزم کی ماری فیس بکی سکھیوں کے نام

فیمینزم کی اصطلاح سے میرا پہلا پہلاتعارف دو طرح کی خواتین کے ذریعے ہوا جواپنے تئیں فیمینسٹ تھیں۔ پہلی وہ جو بزعم خودنہایت باشعور اور ذی فہم تھیں، فیمینزم کی تعریف سامعین کے مطابق کرتی تھیں۔ اگر مجمع وہ ہے جہاں روایت اور مذہب کا اثر زیادہ ہے تو وہ ”اسلام میں عورتوں کے حقوق“ سے گفتگو کا آغاز کرتیں، ہاں البتہ نجی محفلو ں میں وہ ”اپنے“ موقف کا کھل کر اظہار کرتی تھیں۔ دوسری قسم کی خواتین ذرا فلسفیانہ ٹائپ کی ذہنیت رکھتی تھیں۔ایک تقریب میں ان کی مدلل اور پر مغز گفتگو سننے کا بھی اتفاق ہوا۔

انہوں نے حضرت خدیجہؓ کو اپنا رول ماڈل قرار دیا۔ ان کے خیال میں عورت کا درست مقام اس کا گھر ہے اور اولین ڈیوٹی بچے پالنا ہے۔ ان کے نزدیک فیمینزم یہودیوں کی شیطانی سازش ہے۔ ادبی حلقوں میں ذرا خواتین تخلیق کاروں پر نگاہ دوڑائیں تو ایک دوسری ہی طرح کاعجیب عالم نظر آتا ہے۔ یہاں دوچارفیمنزم کی ماری خواتین اپنے اعتماد، ذہانت اور چالاکی کے باعث ایک الگ ہی حلقہ اثر رکھتی ہیں۔

Read more