قرنطینہ، انسانی نفسیات اور بنی اسرائیل کا من و سلویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو آپ کی سوچ اور سوچنے کے زاویوں کو تبدیل کرلیتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ میرے ساتھ پیش آیا جب پولی کلینک ڈاکٹرز ہاسٹل میں ایک ڈاکٹر کو کرونا کی تشخیص ہوئی جس کے بعد انتظامیہ نے ہاسٹل سیل کرنے کا فیصلہ کیا اور ہاسٹل میں موجود سارے ڈاکٹرز کو قرنطینہ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔

ہاسٹل میں موجود سارے ڈاکٹرز کو 1۔9 میں موجود او جی ڈی سی ایل (جو کہ قرنطینہ قرار دیا جا چکا ہے ) کے شاندار ہاسٹل شفٹ کیا گیا اور ہر ڈاکٹر کو تمام سہولیات سے آراستہ کمرے الاٹ کیے گئے۔ کھانا بھی کمرے میں ہی مل جاتا ہے اور کھانے کا معیار بھی اچھا ہوتا ہے۔ پہلے دو دن تو کرونا کے ڈر، مذاق اور نئی جگہ کو سمجھنے میں لگے لیکن تیسرے دن سے آج ساتویں دن تک تھوڑا سوچا اور انسانی نفسیات کو سمجھنے کا موقع ملا تو بنی اسرائیل کے ساتھ تھوڑی ہمدردی سی ہونے لگی۔

ہمارے گاؤں میں جب لوگ کھیتوں پہ کام کرکے تھک جاتے ہیں تو بنی اسرائیل کو گالیاں دینے لگتے ہیں کہ من وسلوی کے آتے ہوئے ان لوگوں نے پیاز، دالوں اور کھیرے کا مطالبہ کیا جسے آج ہم بُھگت رہے لیکن مجھے آج سمجھ آیا کہ بات کھیرے اور پیاز کی نہیں کیونکہ مجھے تو میرے کمرے میں ہی من وسلوی میں کھیرا اور پیاز بھی مل رہا اور دال بھی فروٹس بھی مل جاتے ہے اور منرل واٹر بھی۔ ہم millenials کی سُستی مشہور ہے اور یہ ماحول مجھ جیسے millenial کے لئے کسی جنت سے کم نہیں۔ لیکن پھر بھی ایک بے چینی ہے ایک اضطراب ہے۔ کام کرنے کا دل کررہا ہے۔ مریض دیکھنا چاہتا ہوں۔ باہر نکلنا چاہتا ہوں گھومنا چاہتا ہوں۔

آج سمجھ آیا کہ بات کھیرے کی نہیں آزادی کی تھی
بات پیاز کی نہیں جمود سے نفرت کی تھی
اور بات دال کی نہیں انسانی حرکت پسند نفسیات کی تھی
نوٹ: میں قرنطینہ میں خوش نہ سہی لیکن اب بھی آرام سے بیٹھ کر اپنا قومی فریضہ ادا کر رہا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر عرفان خان یوسفزئی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *